زرداری مدت پوری کریں گے، رحمن ملک کی حرکات پیپلزپارٹی کو ناپسند

زرداری مدت پوری کریں گے، رحمن ملک کی حرکات پیپلزپارٹی کو ناپسند
زرداری مدت پوری کریں گے، رحمن ملک کی حرکات پیپلزپارٹی کو ناپسند

  

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کی حتمی وضاحت کی کہ صدر میعاد پوری ہونے سے قبل مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور وہ صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد باعزت طریقے سے جانا پسند کریں گے کہ انہوں نے افہام و تفہیم کی سیاست کے ذریعے جمہوریت کے استحکام کی جدوجہد کی اور صدارتی معیاد کا پورا ہونا بھی اس کا حصہ ہے اس کے باوجود ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ 8 ستمبر سے پہلے مستعفیٰ ہو جائیں گے بلکہ اب یہ بات چلائی گئی کہ وہ 8 اگست فی الحال صدارتی الیکشن کا دن ہے جبکہ حزب اقتدار کی طرف سے یہ تاریخ تبدیل کرانے کی درخواست کی گئی اور پھر سے الیکشن کمیشن کی طرف رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ رمضان المبارک کی آخری تاریخوں خصوصاً شب قدر کی وجہ سے چند روز کا فرق بھی آ جائے تو پھر یہ دلیل کیا ہو گی، یوں بھی صدر زرداری اس مرتبہ نجی دورے پر ہیں تو وہ بالکل ہی نجی ہو کر رہ گئے ہیں اور گمنام وقت گزار رہے ہیں، بچوں کے علاوہ خاندان کے قریبی عزیز و اقارب اور خاص دوستوں کے سوا کسی کو ان کا علم نہیں اور ان کی نقل و حرکت میڈیا سے بھی محفوظ ہے البتہ عبدالرحمن ملک پھر سے لندن میں ہیں، وہ ضرور جانتے ہوں گے۔

عبدالرحمن ملک سے یاد آیا کہ چند روز قبل سندھ پیپلزپارٹی اور سندھ پارلیمانی پارٹی کی طرف سے صدر زرداری سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ عبدالرحمن ملک کو متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ مذاکرات کرنے سے منع کریں۔ اگر بات کرنا ہو گی تو صدر زرداری خود کریں یا پھر مقامی تنظیم اور وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ یا ان کے نمائندے کریں گے اس کے باوجود عبدالرحمن ملک نے لندن میں قائد تحریک الطاف حسین سے ملاقات کی اور میڈیا کو یہ بتایا کہ انہوں نے( عبدالرحمن نے) متحدہ کو صوبائی حکومت میں شمولیت کے لیے پھر دعوت دی ہے۔ اس پر سندھ پیپلزپارٹی والوں نے برا منایا یوں بھی اب پارٹی امور میں ان کی دخل اندازی کو پسند نہیں کیا جا رہا۔ مخدوم امین فہیم اور سینئر حضرات معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔

کل اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے بڑوں کا اجلاس ہو رہا ہے اس میں میاں رضا ربانی کے بطور صدارتی امیدوار اعلان کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ خورشید شاہ اور مخدوم امین فہیم دوسری جماعتوں اور قائدین سے رابطوں کی رپورٹ پیش کریںگے۔ متحدہ کے فاروق ستار کی حمایت کے بعد تحریک انصاف سے مذاکرات اور چودھری شجاعت حسین سے ٹیلی فون والی بات بھی سامنے آئے گی اور پھر حتمی فیصلہ ہو گا کہ میاں رضا ربانی پکے امیدوار ہوں گے یا کسی اور پر بھی اتفاق کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں یہ امر بھی زیر غور آئے گا کہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے صدارتی انتخابات پر اتفاق رائے کی جو بات کی اس کا کیا جواب دیا جائے۔

اس حوالے سے تین مختلف تجاویز میں ایک تو یہ کہ میاں رضا ربانی کو منت کر کے حزب اختلاف کا متفقہ امیدوار بنوا لیا جائے تو ان کے جیتنے کے امکانات واضح ہیں کہ موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف میاں رضا ربانی پر متفق ہو جائیں اورچودھری شجاعت حسین کو منا لیا جائے گا اس کے بعد مولانا فضل الرحمن سے خود میاں رضا ربانی بھی بات کر سکتے ہیں۔ اس طرح ان کی جیت کے امکانات روشن ہیں تاہم اس راہ میں شاہ محمود قریشی جیسے حضرات مزاحم ہوں گے اور عمران خان کو اس بات پر پہلے ہی آگاہ کر لیا جائے گا کہ وہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کی حیثیت سے جسٹس وجیہہ الدین پر اصرار کریں، بہرحال یہ جوڑ توڑ آخری وقت تک جاری رہے گا۔ فی الحال اپوزیشن بکھری ہوئی ہے اور منگل کو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی قائد ایوان میاں محمد نوازشریف سے ملاقات متوقع ہے اس میں نیب کے چیئرمین کے نام پر اتفاق کرنے کے ساتھ ہی صدارتی انتخاب کی بھی بات ہو گی سید خورشید شاہ اسی روز پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔ آج بدھ کافی فیصلے منظر عام آ جائیں گے۔

مزید : تجزیہ