محمد شہباز شریف نے قبائلیوں کے دل جیت لئے

محمد شہباز شریف نے قبائلیوں کے دل جیت لئے
محمد شہباز شریف نے قبائلیوں کے دل جیت لئے
کیپشن:   pic سورس:   

  


17جون سے شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں 9 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے اور انہوں نے بنوں میں نقل مکانی کی ۔اس دوران صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کا اعلان کیا تاہم رمضان کے دوران جب ان کی مشکلات بڑھ گئیں اور میڈیا ان کی مشکلات کو سامنے لایا تو پھر ماضی کی طرح خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ایک بار پھر میدان میں نکل آئے اور انہوں نے پچاس کروڑ روپے کی امداد کے اعلان کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کی اشیائے خورونوش بھی شمالی وزیرستان کے نقل مکانی کرنے والوں کو دیں۔

شہباز شریف نے اکیلے خیبرپختونخوا حکومت سے زیادہ پیسے خرچ کئے اور انہوں نے سات ہزار روپے فی خاندان کی رقوم جاری کرنے کی ہدایات کیں جووفاقی حکومت کے بعد سب سے زیادہ امداد ہے ۔اس پاکستان میں شہباز شریف کے علاوہ تین اور وزرائے اعلیٰ بھی موجود ہیں اور حکومت سے لطف اندوز ہورہے ہیں لیکن انہیں پاکستانی بھائیوں اور ان قبائلیوں جنہوں نے ہمیشہ وطن کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں،جنہوں نے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو ہندوؤں سے آزاد کرایا ا ن قبائلیوں پر جب مشکل وقت آیا تو بلوچستان کے وزیراعلیٰ اپنے مسائل کا رونا رونے لگے جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ متاثرین کو سندھ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو عمران خان کے احتجاج کے بارے میں بیانات جاری کرنے سے فرصت ہی نہیں ہے وہ وفاقی حکومت کا تختہ الٹنے کی باتیں کر رہے ہیں ایسے میں شہباز شریف کا بنوں پہنچنا اور نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ وقت گزارنا اور انہیں مدد کی فراہمی جیسے اقدامات نہ صرف ان کی پاکستان اور قبائلیوں سے محبت کے عکا س ہیں، بلکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی پاکستان مسلم لیگ (ن) جس کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈے جارہے ہیں اس کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے قبائلیوں کی شکایت پر ایف ڈی ایم اے کے سربراہ کو بھی ہٹا دیا اور ایک ایک دن کی نگرانی خود کرتے رہے ہیں ۔

رمضان المبارک میں وہ بے چینی سے صبح سے شام تک ان قبائلیوں کی مدد کے لئے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں اور رات گئے تک وہ ان قبائلیوں کے لئے سوچتے رہتے ہیں اور صبح اقدامات جاری کرتے ہیں ۔آج کے پاکستان جس میں محمد شہباز شریف کے علاوہ دیگر بھی حکمرانی کر رہے ہیں اس پاکستان کو روس سے بچانے میں قبائلیوں کا کردار اہم تھا ،اس پاکستان پر جب بھی کوئی برا وقت آیا قبائلی نہ صرف آگے رہے بلکہ وہ ہمیشہ ہی پاکستان کے فرنٹ لائن بغیر تنخواہ کے سپاہی بنے رہے ۔آج ان پر برا وقت آیا ہے تو سندھ کے وزیراعلیٰ کو سندھی قوم پرستوں سے ڈر لگنے لگا ہے اور انہیں قبائلی غیر ملکی لگ رہے ہیں ۔بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبد المالک کو کیا ہو گیا ہے کہ قوم پرست ہونے کے باوجود ان کو قبائلیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے تو آنا چاہیے تھا ۔پرویز خٹک جن سے یہ توقعات تھیں کہ وہ پورا رمضان بنوں میں گزاریں گے لیکن وہ عمران خان کے احتجاج کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔قبائلیوں کے درد میں اگر کوئی شریک ہے تو وہ صرف خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ہیں ۔محمد شہباز شریف میں کئی خامیاں سہی لیکن ایک بات تو روز اول سے طے ہے کہ شریف خاندان جیسے محب وطن لوگ سیاسی جماعتوں میں بہت کم دیکھے گئے ہیں۔

پاکستان پر جب بھی برا وقت آیا ہے تو شریف خاندان آگے آیا ہے اور اللہ نہ کرے کہ مزید مشکلات بھی آئیں تو شریف خاندان آگے ہو گا ۔شہباز شریف کی قبائلیوں کے ساتھ محبت اور اظہار یکجہتی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ محمد شہباز شریف بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں موقع ملا انہوں نے پنجاب میں جو خدمات کی ہیں اس کے پیچھے ان کا جذبہ عوامی خدمت کارفرما ہے اور ان کا یہ جذبہ بنوں میں سامنے آیا جب وہ تپتی ہوئی دھو پ میں قبائلیوں کے ساتھ ان کی شکایات اور مسائل سن رہے تھے اور اس کے بعد وزیراعظم نے ان کے کہنے پر رقم انچاس ہزار کر دی جس سے قبائلیوں کو روزمرہ کی اشیاء خریدنے میں مدد ملے گی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

کینیڈا سے آنے والے طاہر القادری ایئر کنڈیشن کمروں سے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں وہ غریبوں کو حق دلوانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن محمد شہباز شریف کی طرح وہ بنوں کی تپتی دھوپ میں بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں اگر واقعی اس میں انقلاب لانے کی طلب ہوتی یا اسے پاکستان کے عوام سے کوئی ہمدردی ہوتی تو وہ اپنے رضا کاروں کے ساتھ بنوں میں ہوتے اور نقل مکانی کر نے والوں کی مدد کر رہے ہوتے لیکن ان کے رضا کار اور خود کینیڈین صرف ایئر کنڈیشن کمروں سے انقلاب لانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

عمران خان جن کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے وہ صرف ان نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کی مدد کر کے ایک رول ماڈل بن سکتے تھے اگر وہ صحیح طریقے سے نو لاکھ لوگوں کی مدد کرتے تو پوری دنیا دیکھتی کہ عمران خان مدد کر سکتے ہیں لیکن عمران خان کو دوسروں کی ذاتیات پر حملے کرنے اور ان کے ارد گرد بیٹھے مشیروں کی غلط پالیسیوں سے نہ صرف ان کی سیاسی ساکھ تباہ ہورہی ہے بلکہ ان کو اکسایا جارہا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کریں جو ان کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں عمران خان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ لانگ مارچوں پر پیسے اور وقت ضائع کرنے کے بجائے محمد شہباز شریف کی طر ح نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی تک خدمت کر کے ایک اچھی مثال قائم کریں اور لوگوں کو بتا دیں کہ اگر ان کو موقع ملا تو وہ پاکستان کی خدمت کر سکتے ہیں لیکن انہیں خیبرپختونخوا کے عوام کی جانب سے دیئے جانے والے مینڈیٹ کی کوئی فکر ہی نہیں ہے بلکہ وہ ان سے وزیراعظم نہ بننے کا بدلہ لے رہے ہیں ۔

مزید :

کالم -