تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (3)

تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (3)
 تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (3)

  

یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی مسلم لیگ اور پاکستان کے لئے وقف کر دی تھی، اس عظیم شخصیت کو چند خود غرض حکمرانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت کراچی میں سیفٹی ایکٹ کے تحت تین ماہ کے لئے گرفتار کر لیا۔ مولانا کو جیل کے اس کمرے میں رکھا گیا، جہاں مولانا محمد علی جوہر کو نظر بند کیا گیا تھا۔ مولانا حسرت موہانی نے اس وقت اپنے دورۂ پاکستان کے دوران کراچی جیل میں اپنے قدیم رفیق مولانا بدایونی سے ملاقات کی اور ان کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا۔ مولانا نے کراچی جیل میں قیدیوں کی تعلیم اور ان کی اخلاقی حالت بہتر بنانے میں اپنا بیشتر وقت صرف کیا اور جیل ہی میں جشن میلاد النبی ؐ، ایام خلفائے راشدینؓ ، اور یوم سیدنا غوث الاعظمؓ جیسی عظیم تقاریب منعقد کیں۔ قیام پاکستان کے بعد آپ جمعیت العلمائے پاکستان کراچی و سندھ کے صدر منتخب ہوئے اور غازی کشمیر علامہ سید ابو الحسنات قادری کی وفات کے بعد آپ کو مرکزی صدر منتخب کیا گیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی نے کراچی میں جشن عید میلاد البنی ؐ کو شایان شان طریقے سے منانے کا آغاز کیا اور عظیم الشان جلسے اور کانفرنسیں منعقد کیں۔علامہ سید ابو الحسنات قادری اور مولانا بدایونی کی زیر قیادت ایک وفد نواب زادہ لیاقت علی خان سے ملا اور مُلک کے لئے اسلامی دستور کے متعلق قرارداد کے اعلان پر انہیں آمادہ کیا اور پاکستان کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ تجویز ہوا۔

کراچی میں1951ء میں مختلف مکاتب فکر کے 33 جید علماء کا ایک عظیم اجتماع ہوا، جس میں متفقہ طور پر 22 نکات مرتب کئے گئے۔ اس اجلاس میں مولانا عبدالحامد بدایونی اور مفتی صاحب داد خان نے اپنی جماعت کی نمائندگی کی اور ان اہم نکات پر مشتمل اسلامی دستور کی ترتیب میں بھرپور حصہ لیا۔مولانا بدایونی کی مصروفیات صرف محراب و منبر تک ہی محدود نہیں تھیں۔ وہ جس بات کو حق سمجھتے،اس بات پر اڑ جاتے تھے۔ مثال کے طور پر تحریک ختم نبوت کو انہوں نے دین کی اساس سمجھا اور حاکمان وقت سے خصوصی تعلقات و مراسم کے باوجود فروری1953ء سے جنوری 1954ء تک کراچی اور سکھر کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔علامہ بدایونی نے پاکستان میں ایک ایسے ادارے کے قیام کا منصوبہ تیار کیا، جس میں علوم قدیمہ و جدیدہ کے ساتھ ساتھ عالمی زبانیں بھی سکھائی جائیں اور مذاہب عالم سے روشناس کرایا جائے۔ اس مقصد کے لئے آپ نے مصر، ترکی، تیونس، انگلستان، الجزائر، سعودی عرب، کویت، عراق، ایران اور نائیجیریا کا دورہ کیا۔ وہاں مشاہیر عالم اسلام اور اساتذہ کرام سے ملاقاتوں کے علاوہ وہاں کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور دینی مدارس میں نصاب تعلیم کا بخوبی مطالعہ کیا ،اس کے بعد کراچی میں ’’جامعہ تعلیمات اسلامیہ‘‘ قائم کیا۔

عوامی جمہوریہ چین اور روس کی دعوت پر مولانا بدایونی نے ان ممالک کے سرکاری دورے بھی کئے ان دوروں میں قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی بھی آپ کے ہمراہ تھے، جو اُن دِنوں جمعیت العلمائے پاکستان کے مرکزی ناظم اطلاعات تھے۔ آپ نے فلسطین کی آزادی کے لئے حضرت مفتی اعظم فلسطین کے دست راست کی حیثیت سے کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ فیصل مرحوم، مفتی اعظم فلسطین، صدر عبدالسلام عارف (عراق) جمال عبدالناصر (مصر) صدر حبیب بورقیبہ (تیونس)سابق شہنشاہ ایران، وزرائے کویت وبحرین شیخ محمد سرور الصبان سابق سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی، ڈاکٹر محمد حتمی، سابق سفیر عراق شیخ عبدالقادر جیلانی مرحوم اور دیگر مشاہیر سے ان کے خصوصی تعلقات اور ذاتی مراسم تھے۔ مولانا مرحوم نے ان میں سے اکثر حضرات کو اپنے یہاں اجتماعات میں بھی مدعو فرمایا۔1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد مولانا بدایونی مرحوم کی قیادت میں ایک وفد آزاد کشمیر کے دورے پر گیا اور مبلغ تین لاکھ روپے نقد، کپڑے اور دیگر سامان خورو نوش مہاجرین میں تقسیم کیا، جبکہ صدر آزاد کشمیر کو 11ہزار روپے کی تھیلی پیش کی۔ اس وفد میں مبلغ اسلام علامہ شاہ محمد عارف اللہ قادری، مولانا محمد شفیع اوکاڑی، مولانا جمیل احمد نعیمی، مولانا سید خلیل احمد قادری اور مولانا محسن فقیہہ بھی شریک تھے۔

1962ء کے آئین کے نفاذ کے بعد حکومتِ پاکستان نے آپ کو ’’اسلامی مشاورتی کونسل‘‘ کا رکن نامزد کیا، آپ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔مولانا بدایونی سچے صوفی مشرب مسلمان تھے۔ حضور سرور کائنات ؐ کے روض

ۂ پاک سے ان کا گہرا قلبی تعلق تھا، آپ نے بغداد شریف، کربلائے معلی اور نجف اشرف میں بھی حاضری دی۔آپ نے22مرتبہ فریضہ حج ادا کیا۔ آپ نے اپنے آخری حج کے موقع پر1969ء میں پاسبان حرم شاہ فیصل کی دعوت پر ان کے محل میں ان سے تفصیلی ملاقات کی۔مولانا بدایونی متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے، جن میں مشرق کا ماضی و حال، مرقع کانگریس، انتخابات کے ضروری پہلو، مسئلہ ازدواج، دعوت عمل، مشیر الحجاج، اسلام کا زراعتی نظام، اسلام کا معاشی نظام، فلسفہ عبادات اسلامی، تصحیح العقائد، کتاب و سنت غیروں کی نظر میں، حرمت سود، تاثرات دورۂ روس، تاثرات دورۂ چین، رپورٹ دورۂ آزاد کشمیر کے علاوہ الحجواب المشکور، العائلی قوانین عربی اور اسلامک پریرز، انگریزی تصنیف ہیں۔مولانا بدایونی نے ریڈیو پاکستان سے کافی عرصے تک قرآن حکیم کا درس بھی دیا۔ مولانا ایک شعلہ بیان خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔ مولانا نے ’’دیوان معروف‘‘ کا انتخاب شائع فرمایا۔ مولانا نے کئی نعتیں بھی کہی ہیں۔ مولانا کی یہ نعت آج بھی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور مذہبی اجتماعات میں بڑی عقیدت ومحبت سے پڑھی اور سُنی جاتی ہے:

حقیقت میں وہ لطف زندگی پایا نہیں کرتے

جو یادِ مصطفی ؐ سے دِل کو بہلایا نہیں کرتے

مولانا ایک سیماب صفت اور فولادی عزم و ہمت کے مالک تھے۔ ان کی بلند ہمتی کا ثبوت یہ ہے کہ فالج کے حملے اور آنکھ کی تکلیف کے باوجود زندگی کے آخری سانس تک سرگرم عمل رہے، یہاں تک کہ آپ پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور آپ چند روز جناح ہسپتال کراچی میں زیر علاج رہنے کے بعد21جولائی1970ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں غیر ملکی سفیروں، اعلیٰ حکام،علماء و مشائخ، مرکزی و صوبائی وزراء اور صدرِ پاکستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، نمازِ جنازہ حضرت سید مختار اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ شریف نے پڑھائی اور وصیت کے مطابق آپ کو جامعہ تعلیمات اسلامیہ کراچی میں سپردخاک کر دیا گیا۔

مولانا بدایونی مرحوم کا شمار اہل ِ سنت کے صف اول کے قائدین میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود آپ نوجوانوں، خصوصاً طلباء پر بے حد شفقت اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ میرے پاس آپ کے وہ خطوط موجود و محفوظ ہیں جو آپ نے میرے مختلف عریضوں کے جواب میں ارسال فرمائے تھے۔ مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش ہوتی تو مَیں آپ کو لکھتا اور آپ میری بروقت رہنمائی فرماتے تھے۔مولانا بدایونی ایک جید عالم، مستند مفتی، عظیم خطیب، منجھے ہوئے سیاست دان، نامور ادیب و شاعر اور سچے عاشق رسول ؐ تھے۔ ان کے دم سے قال اللہ اور قال الرسول ؐ کی محفلیں آباد تھیں۔ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے سلسلہ رشد و ہدایات کو جاری رکھیں، نیز حکومت اور عوام دونوں کا فرض ہے کہ ان کے قائم کردہ جامعہ تعلیمات اسلامی کی بھرپور سرپرستی کی جائے۔ ان اکابر و عمائدین قوم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم وطن عزیز پاکستان کو امن و آشتی اور سالمیت و استحکام کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت علامہ بدایونی ؒ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!(ختم شد)

مزید :

کالم -