سندھ کی سیاست میں لندن اور دبئی فیکٹر کاغالب ہونا بدقسمتی ہے

سندھ کی سیاست میں لندن اور دبئی فیکٹر کاغالب ہونا بدقسمتی ہے

  

تجزیہ مبشر میر

سندھ کی سیاست میں لندن اور دبئی فیکٹر کاغالب ہونا بدقسمتی ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت دبئی میں بیٹھ کر سندھ کے فیصلے کررہی ہے جبکہ اپوزیشن ایم کیو ایم کی تاریں لندن سے ہلائی جارہی ہیں ۔سندھ کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ان کی قسمت کے فیصلے کرنے والے ان کے درمیان میں رہنے کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کررہے ہیں ۔سیاست کے طالب علم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسی صورت حال کو جمہوریت کے ثمرات سے تعبیر کیا جائے ۔اس وقت سیلابی ریلا سندھ میں تباہی مچارہاہے اور حکمران جماعت سندھ میں موجود ہونے کی بجائے دبئی سے معاملات کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔کرپشن زدہ بیوروکریسی ملک سے بھاگ رہی ہے ۔ایماندار اور قابل افسران پر اعتماد کرنے سے سیاستدان خوفزدہ ہیں ۔اس وقت عملاً سندھ میں صوبائی اور ضلعی سطح پر حکومت کی عمل داری نظر نہیں آرہی ۔عید پر لوگ شہر کراچی میں پانی کے لیے سڑکوں پر مارے مارے پھررہے تھے اور اب اندرون سندھ سیلابی ریلا آنے کے بعد پانی کے خوف سے بھاگتے پھررہے ہیں ۔تاریخی لحاظ سے سندھ حکومت کی بدترین شکل دیکھنے میں آرہی ہے ۔

مزید :

تجزیہ -