اورنج لائن میٹروٹرین کیوں ضروری؟

اورنج لائن میٹروٹرین کیوں ضروری؟
اورنج لائن میٹروٹرین کیوں ضروری؟

  

عوام کے لئے تعلیم،صحت کی سہولتیں فراہم کرنا یقیناًحکومت کی ذمہ داری ہے ۔اس ذمہ داری کو ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن تعلیم و صحت کے ساتھ ساتھ عوام کو سفر کے لئے تیز تر اور محفوظ ذرائع بھی درکار ہیں ۔لاہور میٹرو بس کی تعمیر کے وقت بعض سیاسی مخالفین نے تنقید کا طوفان اٹھائے رکھا مگر آج کم و بیش ڈیڑھ لاکھ افراد روزانہ لاہور کی میٹرو بس پر سفر کرتے ہیں۔ یہی صورتحال موٹر وے کی تعمیر کے وقت پیش آئی جب سیاسی مخالفین نے موٹر وے پر بے پناہ تنقید کی مگر خوشگوار حیرت کی یہ بات ہے کہ یہی مخالفین موٹر وے پر اب خرا ماں خراماں سفر کے لطف اٹھاتے ہیں ۔صحت کی سہولتوں کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں مگر رائیونڈ روڈ اور ٹھوکر نیاز بیگ سے ریلوے اسٹیشن تک اور ریلوے اسٹیشن سے ڈیرہ گجراں تک تقریبا 75لاکھ افراد آباد ہیں یہ روٹ گویا لاہور کی مواصلاتی شہ رگ ہے جس پر نا صرف رزق کی تلاش میں جانے والے روایتی ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے پر مجبور ہیں بلکہ حصول تعلیم کے لئے طلبہ اور شہر کے چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں جانے کے لئے مریض بھی سفر کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ اگر جائزہ لیا جائے تو لاہور کے مضافاتی علاقے جیسے چوہنگ ،مراکہ ،مانگا منڈی ،دینا نات ،پھول نگر ،گیمبر ،پتوکی ،گہلن ،حبیب آباد سے لیکر اوکاڑہ اور ساہیوال سمیت دیگر شہروں سے لاکھوں افراد حصول روز گار بغرضہ تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتو ں کے لئے لاہور کا رخ کرتے ہیں ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق قریبی شہروں اور مضافات سے تقریبا 15سے20لاکھ افراد لاہور کا رخ کرتے ہیں اور ان کے لئے لاہور میں داخلے کے بعد ٹرانسپورٹ کا موثر نظام موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ موسم کی شدت کے باوجود یہ لوگ چھوٹی چھوٹی ویگنوں ،خستہ حال بسوں اور خطرنا ک موٹر رکشہ میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔کیا لاہور کی تقریبا تین تہائی آبادی کے لئے با سہولت ،با کفایت اور آرام دہ سفر کا ذریعہ مہیا کرنا کوئی سیاسی جرم ہے ؟اگر میٹرو بس کی جگہ لاہور میں کوئی میگا ہسپتال بنانے کا منصوبہ بھی شروع کیا جاتا تو ناقدین طوفان اٹھا لیتے ۔یقیناًان کا واویلہ اس بات پر ہوتا کہ لاکھوں کی آبادی سفر کی سہولتوں سے محروم ہے مگر حکومت ہسپتال پر پیسہ خرچ کئے جا رہی ہے اور اگر غریب کے بچوں کے لئے ایچیسن کے دانش سکول بنائے گئے تونکتہ چینوں نے اسے بھی تختہ مشق بنا لیا یہ بات اس امر کی تائید کرتی ہے کہ حکومت کچھ بھی کرے ’’دوستوں‘‘ کا کام صرف نکتہ چینی کرنا ہے ۔تاہم رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت صحت کے لئے کیا کرنے جا رہی ہے پیش خدمت ہے ۔

پنجاب میں شعبہ صحت کی ترقی اور عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی پر رواں سال مجموعی طور پر 207ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 41 فیصد اضافہ کیاگیا ہے۔شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ کے لئے 43 ارب83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں نئے اقدامات اور منصوبہ جات متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 5 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور 15 تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کی تزئین و آرائش شامل ہے جس میں تمام ہسپتالوں کاالیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ،تشخیصی نظام کی کمپیوٹرائزیشن،آئی سی یو ،ڈینٹل یونٹ،برن یونٹ، فزیو تھراپی یونٹ قائم ،نئے بیڈاور وارڈ فرنیچر مہیاکیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں عملے کی حاضری کیلئے بائیو میٹرک نظام کو تمام بنیادی اور دیہی مراکز صحت میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ملتان ،بہاولپور،فیصل آباد اورراولپنڈی میں ڈرگ ٹیسنگ لیبارٹریوں کی تنظیم نو اور آئی ایس او 17025-سرٹیفکیشن کی جائیگی۔ماں اور بچے کی صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لئے IRMNCH پروگرام کے لئے 10 ارب روپے مختص کئے۔

بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹروں کی خالی آسامیاں پر کرنے کیلئے حکومت نے عمر کی حد ختم کر دی ہے اور اب کوئی ریٹائرڈ ڈاکٹر بھی BHUکیلئے کنٹریکٹ پر آ سکتا ہے ۔حکومتی کوششوں سے 75فیصد سے زائد BHUآبادہو چکے ہیں محکمہ کی کوشش ہے کہ باقی بیادی مراکز صحت میں بھی ڈاکٹر تعینات کر دیئے جائیں جس کے لئے ای ڈی ہیلتھ کو واک ان انٹرویو کے ذریعے ڈاکٹرز بھرتی کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے تاہم تمام بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی فراہمی اور دیگر سٹاف بشمول ڈسپنسر ،لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ویکسینٹرز موجود ہیں تاکہ عوام کو طبی امداد کی فراہمی اور بچوں و خواتین کی ویکسینشن کا عمل بھی جاری ہے ۔سپیشلائزڈہیلتھ کیئر کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے آئندہ مالی سال میں 24 ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ملتان،راولپنڈی،فیصل آباد اور لاہور کے 4 بڑے ہسپتالوں کیRevamping اور جدید سہولتوں کی فراہمی ،نئے میڈیکل کالجز سے ملحق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے تدریسی ہسپتالوں کے برابر لانے کا فیصلہ کیا گیا جس سے مذکورہ ہسپتالوں میں 1500 سے زائد بیڈز کا اضافہ ہو گا۔بجٹ 2016-17 میں رجب طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ کو 500بستروں تک توسیع کا منصوبہ اور ہیلتھ انشورنس پروگرام بھی شامل۔میو ہسپتال لاہور میں سرجیکل ٹاورکی تکمیل کیلئے 78کروڑ روپے کی فراہمی ۔بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری بلاک تعمیر ہوگا۔چلڈرن ہسپتال ملتان میں 150 بیڈز کا اضافی یونٹ کے قیام کا منصوبہ۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے مری میں100 بستروں پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال کے قیام کا منصوبہ،آئند بجٹ میں 45 کروڑ روپے مختص۔ 15 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے بننے والے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے منصوبے کے لئے آئندہ بجٹ میں 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔پنجاب کے عوام اور حکومت کی طرف سے خیبرپختونخوا کے بھائیوں کے لئے نواز شریف کڈنی ہسپتال سوات کی ٹرسٹ کے تحت 70کروڑ روپے کی لاگت سے تکمیل ہو گئی ہے اور وہاں علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے ۔بلوچستان کے عوام کے لئے صحت اور دیگر شعبوں کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ،2 ارب روپے لاگت آئے گی۔چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ پر وگرام کے تحت صحت کے شعبہ میں شروع کی گئی اصلاحات سے نمایاں بہتری آئی ہے ۔مانیٹرنگ کے سسٹم کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے ۔ویکسینٹرز کی کارکردگی چیک کرنے کیلئے ای ویکس (E-Vaccs)سسٹم شروع کیا گیا ہے جس سے صوبے میں روٹین ایمونائزیشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ادویات کی فراہمی اور طبی آلات کی درستگی کیلئے کمپیوٹرائزڈ انونٹری بنائی گئی ہے ۔حکومتی اقدمات سے صحت کا شعبہ ترقی کر رہا ہے اور مریضوں کے علاج معالجہ کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔

مزید :

کالم -