آزاد کشمیر میں انتخابات اور ان کے نتائج

آزاد کشمیر میں انتخابات اور ان کے نتائج
آزاد کشمیر میں انتخابات اور ان کے نتائج

  

روایتاً مرکز میں بر سراقتدار پارٹی ہی آزاد جموں وکشمیر میں حکومت بناتی ہے لیکن حالیہ الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن )کی بجائے پیپلز پارٹی کی حکومت کو آزاد کشمیر کے لوگوں کی خدمت کا موقع ملا۔ اقتدار میں آنا درحقیقت کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایک موقع ملنا ہوتا ہے جس پر اس پارٹی کے سیاسی مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔

آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا جن میں مسلم لیگ ن، پی پی پی ، پی ٹی آئی اور مسلم کانفرنس سر فہرست رہیں۔ الیکشن دراصل ایک امتحان کی مانند ہوتے ہیں جن میں کامیابی انہی کا مقدر ہوتی ہے جن کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج میں سیاسی پارٹیوں کی سیاسی کارکردگی واضح ہوئی۔ جس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی کو عبر ت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ صرف اور صرف دو نشستیں ہی حاصل کر سکی۔ اسی طرح پی ٹی آئی جو کہ شور و غوغا برپا کرنے میں ماہر پارٹی ہے کو بھی صرف اور صرف دو نشستیں ہی ملیں۔ جبکہ مسلم کانفرنس تین نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان تمام پارٹیوں کے مدِ مقابل مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر کا میدان مار لیا اور 32نشستیں حاصل کر کے کلین سویپ کیا۔ ان انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ راجہ فاروق حیدر، شاہ غلام قادر، مشتاق فہماس، چوہدری یسین ، قمر الزمان ، فرزانہ یعقوب، بیرسٹر سلطان محمود شکست سے دو چار ہوئے۔ جبکہ لاہور کی ایک نشست پی ٹی آئی اوردوسری نشست مسلم لیگ ن نے جیت لی۔ مسلم لیگ ن کی تجویز کے مطابق انتخابات میں سکیورٹی کے فرائض پاک فوج نے سنبھالے۔ بخیر و عافیت الیکشن مکمل ہوئے اور نتائج نے حیران کن حقائق کو رونما کیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ محض تقاریر کی بناء پر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ عوام صرف ان کو منتخب کرتے ہیں جو کہ ان کی خدمت کریں۔ ان کی خواہشوں اور امنگوں پر پورے اتر سکیں۔ جبکہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر یا الزامات کے ذریعے اخبارات کی سرخیوں میں تو ان رہا جا سکتا ہے لیکن عوام کے دل صرف اور صرف ان کی خدمت سے ہی جیتے جا سکتے ہیں۔ حزبِ اقتدار عوام کی امنگوں پر پوری نہ اتر سکی اور عوام نے اس پارٹی کو گھر کی راہ دکھائی۔ حالانکہ اقتدار میں رہ کر عوامی خدمت کے مواقع نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے

ایک موثر پلیٹ فارم دستیاب ہوتا ہے۔ لیکن افسوس پی پی پی یہ پلیٹ فارم مو ثر انداز میں استعمال نہ کر سکی اور محض اس گمان میں رہی کہ بلاول بھٹو سے تقاریر کروا کے اور حکمران پارٹی کے خلاف بیان بازی کر کے عوامی ہمدردیاں سمیٹی جا سکتی ہیں۔ عوام نے یہ تمام غلط فہمیاں دور کر دیں۔ اسی طرح ہمیشہ کی طرح الزامات کی سیاست میں ماہر پی ٹی آئی بھی صرف اور صرف امیدوں کے ہوائی قلعے ہی تعمیر کر سکی۔لیکن آزاد جموں وکشمیر کے عوام نے اس قسم کی سیاست کو بھی یکسر رد کرتے ہوئے صرف اور صرف عوامی خدمت ہی کو انتخابات میں کامیابی کا معیار ثابت کیا۔

ویسے تو پورے پاکستان میں عوام اپنے منتخب نمائندوں سے اپنے حقوق کے تحفظ کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر میں منتخب عوامی نمائندوں کو زیادہ مستعدی سے عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دینا چاہیءں کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی جارحیت اور غاضبانہ قبضے کے خلاف بھارتی ہٹ دھرم حکومت کے خلاف گزشتہ کئی عشروں سے برسر پیکار ہیں۔ انہیں پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش اسی آس کی بنیاد پر ہے کہ وہاں ان کے حقوق کی پامالی نہیں ہو گی بلکہ ان کی حفاظت ہو گی وہاں ان کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ بلاشبہ پاکستانی عوامی نمائندے ان کی اس امید پر پورے اتر رہے ہیں اور مستقبل میں مزید بہتری کے قوی امکانات ہیں۔ مسلم لیگ ن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح آزاد جموں وکشمیر کو مزید ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کرے گی اور ہمارے کشمیری بھائی مزید بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ کیونکہ یہی امید مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کی جارحیت کے خلاف ڈٹ جانے میں تقویت بخشتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جب کشمیر آزاد ہو گا تو وہاں کے باشندے ترقی وخوشحالی کے حقیقی ثمرات سے بہراور ہوں گے۔انشا اللہ

مزید :

کالم -