نائب وزیر اعظم بنا دیا جائے تو !

نائب وزیر اعظم بنا دیا جائے تو !
 نائب وزیر اعظم بنا دیا جائے تو !

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے یوں پاناما کیس کا تیسرا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آخری روز یعنی 21 جولائی کو خاصی گہما گہمی رہی۔ حکومت اور اپوزیشن کے وکلاء نے اپنی گزارشات مکمل کیں۔ عدالت کو اپنے موقف کا ہم نوا بنانے کے لئے خوب دلائل دیئے۔ عدالت کے باہر بھی سٹیج سجے رہے، وزیر اعظم استعفیٰ دیں، کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے، کی باز گشت سنائی دیتی رہی۔ یہ ساری صورت حال سیاسی طور پر تو گھمبیر ہے ہی، انتظامی طور پر بھی اس کے کچھ اچھے اثرات مرتب نہیں ہو رہے لیکن اس سارے معاملے میں ایک خوش آئند امر یہ رہا کہ فریقین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بہر صورت تسلیم کرنے کا عندیہ دیا اور واضح موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی ہم اسے مانیں گے۔ ویسے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے اس ممکنہ فیصلے کے حوالے سے دو حکمت عملیاں طے کر لی ہیں اور ہر ایک صورت میں اس پر رد عمل ظاہر کرنے کے لئے اقدامات کو حتمی شکل دی ہے۔

یہ ساری صورت حال کس طرف جا رہی ہے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں اس میں جذبات کی بجائے دانش مندی سے کام لینا بہت ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات کو قومی مفادات پر غالب نہیں آنا چاہئے اور ہمیں ہر اس اقدام سے اجتناب کرنا چاہئے جو ملک اور قوم کے مفاد کے منافی ہو۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے استعفیٰ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی روشنی میں ہماری نئی تجویز یہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف دیگر لیگی قائدین اور اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے اپنے کسی ساتھی پارلیمنیٹیرین کو نائب وزیر اعظم بنا دیں جنہیں اپنے تمام منصبی فرائض سونپ کر خود پانامہ کیس کے حوالے سے اپنے اور اپنے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کا بھرپور دفاع کریں۔ سیاسی مخالفین کا خود میدان میں آ کر مقابلہ نسبتاً آسان ہے،بجائے اس کے کہ وکلاء یا ساتھیوں کو میدان میں اُتارا جائے۔ یوں میاں صاحب کو شریف فیملی کے کاروباری معاملات کی پوزیشن واضح کرنے کا موقع بھی ملے گا اور حزب اختلاف میاں صاحب کے حوالے سے تنقید کے جو نشتر چلا رہی ہے اس کی شدت میں بھی کمی آئے گی۔

رہی بات نائب وزارت عظمیٰ کے منصب کے آئینی و قانونی پہلو کی تو اس قسم کی مثال گزشتہ دور میں موجود ہے جب مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی کو اس منصب پر فائز کیا گیا تھا۔ اس وقت جس انداز سے آئینی ضرورت پیدا کی گئی تھی اب بھی کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا جانا بھی کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ یہ ایسی تجویز ہے جو حکومتی جماعت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی بعض جماعتوں کے لئے بھی قابل قبول ہو گی۔ اس حوالے سے ایک تجویز اور بھی ہے کہ نائب وزیر اعظم کے لئے آئینی اور قانونی ماہرین سے بھی رائے لے لی جائے۔ مسلم لیگ(ن) کے اندر بھی اس تجویز کی مخالفت کم ہی ہو گی۔ وزیراعظم کے لئے کسی نئے نام پر متفق ہونا شائد زیادہ مشکل ہوگا بہ نسبت اس کے کہ نائب وزیر اعظم کا عہدہ پیدا کر لیا جائے۔ اس وقت حالات کا تقاضا یہی ہے کہ معاملات کو دانش مندی سے حل کیا جائے، نعروں اور بڑھکوں کے ساتھ تصادم کی سیاست سے بچنا بھی ضروری ہے۔یہ ملک ہے تو ہم بھی ہیں اور سیاست بھی ہے، خدا نخواستہ تصادم کی سیاست شروع کر دی گئی تو ملک کی رہی سہی معیشت اور امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو گی اور ہمیں شدید نقصان پہنچے گا۔

مزید : کالم