اجتماعی دانش ہی بڑے کام کرتی ہے (2)

اجتماعی دانش ہی بڑے کام کرتی ہے (2)

  

تجزیہ درست نہ ہو تو کبھی درست حل نہیں ملا کرتے۔حالت تردید میں رہنے والے نہ راہنما اچھے ہوتے ہیں اور نہ ان کے پیرو کار ، موسمی راہبروں کا کردار بہت ہوا تو میچ پر رواں تبصرہ کرنے والوں سے زیادہ نہیں ہوسکتا ،ایسے عقل مند قوم کی تکلیف اور پریشانی کا حل دینے میں نہیں اپنے سیاسی مخالفوں پر دلآزار تبصروں سے زیادہ کچھ کرنے کی صلاحیت کے حامل بھی نہیں ہوتے۔ لوح ایام میں ایشیا کے ہی دو رہنماوں کا دِل پذیر تذکرہ تھا،انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو سے کہا ’’یہ تم کس چکر میں پھنس گئے ہو اسٹیل ملز بھاری صنعتیں۔ کارخانے لگانا صنعت کاروں کا کام ہے،نہروں کی کھدائی ،بند بنانا انجینئرز کا کام ہے ،میرا تمہارا کام فرد اور معاشرے،قوم اورمستقبل کی تعمیر ہے ،ہمیں بدیسی آقا کے بے دام اور بے زبان غلاموں عام انسانوں کو خود دار اور غیرت مند انسان بنانا ہے ‘‘ ذرا ترقی یافتہ ممالک کو گالی دینے سے فرصت ملے تو ضرور دیکھئے کہ انہوں نے اس عذاب سے اپنی قوم کو بچانے کے لئے کچھ تو کیا ہو گا جو وہاں ایسا نہیں ہوتا ،گلگت سرینا ہوٹل کا ایک ویٹر جاپانی سیاح کے 50لاکھ واپس کر سکتا ہے، خیبرپختونخوا کا ایک ڈرائیور د بئی میں ایک مسافر کے دو کلو سونے کے زیورات اگلے روز جا کر واپس کر سکتا ہے،اپنے اکاونٹ میں غلطی سے آنے والے دس لاکھ یونیورسٹی آف لاہور کا ایک پروفیسرخود جا کر واپس کر سکتا ہے ،کتنے ہی کانسٹیبل لوگوں کی گمشدہ امانتیں خوشی خوشی واپس کر کے ہماری عزت بڑھانے کا باعث بن چکے ہیں،منگلا ڈیم سے سونے کے زیورات کی بوریاں گدھے پر رکھ کر سرکاری خزانے کو ڈھونڈنے والے میاں بیوی کوکیسے بھلایا جا سکتا ہے ،یہ کیسی دانش ہے اور کیسے دانش ور ہیں، جو چوری اور سینہ زوری کے گناہ پرغربت کا پردہ ڈال کر احساسِ گناہ کم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ،کیا اِس پہچان اور اس طرزِ عمل کے ساتھ انسانی تاریخ کے صفحات میں زندہ رہنے کی تیاریاں ہیں۔

ان حادثوں کو اپنی مستقل پہچان بننے سے روکنے کے لئے لازم ہے کہ عدالت سے باہر مل بیٹھا جائے ،سبھی متعلقہ محکموں کے ذمہ دار،ایک دوسرے کو الزام دینے کے لئے نہیں،مل کر قوم کو حل دینے نئے ایس او پی بنانے نئی احتیاطی تدابیر اختیا کرنے عوام کی تربیت سوشل میڈیا، اخبارات ،ٹی وی چینلز پر سماجی شعورپیدا کرنے کی مہم چلانے کے راستے نکالنے ہوں گے ایک حل یہ بھی ہے کہ تیل کی تمام آمدو رفت کے لئے سڑک کی بجائے ریل کو ہی ذریعہ بنا لیا جائے،یہ زیادہ محفوظ ہے، مگر وہاں سے شہروں میں لانے کے لئے تو پھر بھی کسی احتیاط توجہ اور حکمت عملی کی ضرورت تو ہو گی ہی ،اندر کے لالچ کو پہچان کر اس کے آگے بند باندھنے ہوں گے ،ابھی جلنے والی لاشوں کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے تھے کہ بورے والامیں پھر یہی مناظر دیکھنے کو ملے،شکر ہے اس بار پولیس نے پٹرول میں ڈوبے لالچی لوگوں کو وہاں سے نکالا اور مرنے سے بچا لیا، مگر ہر بار ہر جگہ پولیس نہیں پہنچ سکتی ۔موٹر

وے پر ہیوی ٹریفک کی لین الگ ہے بڑے ٹرک اسی پر چلتے ہیں اور اسی کی سائیڈ پٹی پر رکتے ہیں ،جی ٹی روڈ کے علاوہ جو بھی سڑکیں موٹر وے پولیس کو دی گئی ہیں میرا بار بار کا مشاہدہ ہے کہ ان پر پولیس کی پوری رٹ قایم نہیں ہے، ،ہیوی ٹریفک ہماری تمام سڑکو ں پرجب جب موقع ملے فاسٹ لین پر چلتی ہے،لاہور سے اوکاڑہ، ملتان سے بہاولپور، رحیم یارخان سے سکھر روہڑی ،آپ اپنی یاد داشت کو کام میں لایئے ہر جگہ یہی منظر دکھائی دیتا اور حادثات کو جنم دیتا ہے،کار کو بچاتے ہوئے، بس کو بچاتے ہوئے وہیکل اُلٹ گئی ،حادثہ ہو گیا اور اگر الٹنے والا پٹرول سے بھرا ٹرالر ہوا تو پھر منظر ہی دوسرا ہوگا ،کوئی بھی شہر اور صوبہ ہو، اس کا تعلق مالی غربت سے نہیں ذہنی افلاس اور غربت سے ہے، جس کو دور کرنے کی فوری حاجت ہے۔ کسی بھی جے آئی ٹی ا ور شام کو ٹی وی پر سجنے والی سیاسی سرکسوں سے زندگی نہ آگے بڑھتی ہے نہ اس کے مسائل حل ہوتے ہیں۔اجتماعی دانش ہمیشہ بڑے کام کرتی ہے اداروں، ملکوں اور معاشروں میں،بار بار ہونے والے حادثات متواتر ہونے والی غلطیوں کی طرف ہی اشارے کرتے ہیں،یاد رکھئے ان کا ازالہ عوام کے پاس نہیں ہے نہ کالم نگاروں کے پاس ،متعلقہ محکموں کے ذمہ دار مل بیٹھیں،غور کریں تجزیہ کریں اور قانون سازی کے لئے تجاویز دے دیں جسے صوبائی اور مرکزی حکومتیں اپنے اپنے دائرہ کارمیں قانون کاسایہ اور تحفظ دیں ،اس کے بعد لازم ہے کہ ایک مسلسل اور مربوط عوامی تعلیم اور تربیت کی مہم چلائی جائے اگر شہباز شریف صاحب ڈینگی جیسے بظاہر بے وقعت، مگر قاتل مسئلے کا ہنگامی بنیادوں پر مقابلہ کرنے والی ٹیمیں ،پوری حکمت عملی، الگ محکمہ ،بیرونی مشاورت اور سلیبس تک کا حصہ بنا سکتے ہیں تو جگ ہنسائی کی وجہ بننے والے قومی شغل میلے اور لوٹ مار کے کلچر کو کیوں نہیں روکا جا سکتا ،دو سو جانیں، بیس بیس لاکھ سرکاری اور اب عدالتی حکم پر شیل کمپنی کی طرف سے دس دس لاکھ مزید ،یہ کافی بڑی قیمت ہے ،ان غلطیوں اور نادانیوں کی جو ہم مسلسل اور متواتر سڑکوں پر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ صرف یہ آرزو کرنے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گاکہ میرا مہربان رب ایسی جان لیوا لوٹ مار کی آزمائش میں اس قوم کو پھر نہ ڈالے،جن کے بڑے قیصر و کسریٰ کے کنگن بھی رات کے اندھیروں میں لوٹا دیا کرتے تھے کہ جانتے تھے ہر گری پڑی ملنے والی قیمتی چیز غربت کے باوجود اپنانے سے حق نہیں بن جاتا۔(ختم شد)

مزید :

کالم -