عمران خان پر نااہلی کی تلوار

عمران خان پر نااہلی کی تلوار
عمران خان پر نااہلی کی تلوار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نواز شریف کی پانامہ کیس میں ممکنہ نااہلی اور عمران خان کی سپریم کورٹ میں منی ٹریل جمع کروانے جانے میں ناکامی کے بعد لگ یہی رہا ہے کہ نواز کی طرح عمران کو بھی نااہل قرار دے دیا جائے گا۔الطاف حسین کو پہلے ہی فارغ کیا جاچکا ہے۔ اب جناب زردار ی کی باری لگتی ہے۔
سپریم کورٹ میں نااہلی کیس میں عمران خان کی جانب سے منی ٹریل سے متعلق جواب جمع کروا دیا گیاہے۔اس جواب سے کئی حقائق سامنے آتے ہیں ۔ جواب عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کے توسط سے جمع کرواگیا جس میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سپریم کور ٹ میں اپنا منی ٹریل دینے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔جواب میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ کاؤنٹی کرکٹ بیس سال پرانا ریکارڈ نہیں رکھتی۔ عمران ملازمت کے شیڈول کا ریکارڈ بھی نہیں رکھتے۔ عمران خان کے وکیل کی جانب سے جو ریکارڈ جمع کرایا گیا اس میں منی ٹریل مکمل نہ ہونے کا تحریری اعتراف کیا گیا ہے۔ جواب میں کہا گیا عمران وارسٹر شائر، سسکس کی طرف سے کاوونٹی کھیلتے رہے، عمران نے 1971ء سے 1988ء تک کاونٹی کرکٹ کھیلی، کاؤنٹی کرکٹ اپنا 20 سال پرانا ریکارڈ نہیں رکھتی، عمران خان کے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے اور آمدن کا ریکارڈ دستیاب نہیں، جواب میں بتایا گیا کہ عمران اپنی ملازمت کے شیڈول کا ریکارڈ بھی نہیں رکھتے، لندن فلیٹ 1984ء میں موڈگیج کرایا گیا، ابتدائی رقم 61 ہزار پاونڈز ادا کی گئی، عمران کے فلیٹ کی کل قیمت 1 لاکھ 17 ہزار پاونڈ تھی، موڈگیج(گروی رکھنا) 20 سال کی تھی لیکن رقم 1989ء میں 68 ماہ میں ادا کر دی گئی، جواب میں بتایا گیا عمران کو کیری پیکرکرکٹ کے 75 ہزار ڈالر، نیوساوتھ ویلز آسٹریلیا کے ساتھ کھیلنے کے 50 ہزار ڈالر ملے، جواب میں واضح کیا گیا کہ عمران نے کسی قسم کی کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے لئے دائر درخواست کی گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان سے لندن فلیٹ کی خریداری کے حوالے سے منی ٹریل اور کاونٹی کرکٹ کی آمدن کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔چیف جسٹس نے قرار دیا تھا عمران خان دوسروں کی چوریاں پکڑتے ہیں تواپناریکارڈ بھی عدالت میں جمع کرائیں۔ عمران کی جانب سے داخل جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لندن فلیٹ ایک لاکھ 17 ہزار پاونڈ میں خریدا گیاتھا اور یہ رائل آگنائزر سروس لمیٹڈ سے نیلام کیا گیا۔ 190یہ معاہدہ رائل ٹرسٹ اور نیازی سروسز لمیٹڈ کے تحت مختلف سالوں میں رقم ادا کرنے کا تھا جس میں 13 اعشاریہ 34 فیصد سود سالانہ ادا کرنا تھا۔ عمران نے بتایا کہ بیرون ملک کرکٹ کے حوالے سے سب سے مہنگا ترین کھلاڑی تھا تو میرا کنٹریکٹ کیا ہوسکتا ہے تاہم عمران خان نے اپنا کنٹریکٹ آف امپلائمنٹ بھی نہیں لگایا۔ صباح نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا ہے کہ انہوں نے آکسفورڈمیں تعلیم حاصل کرنے کے
دوران پاکستان کیلئے کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیاتھا۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اس کا کاونٹی کرکٹ کا کوئی بھی کنٹریکٹ 6ماہ سے کم کا نہیں تھا۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ 1980ء سے عمران خان برطانیہ میں دنیا کے مہنگے ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے تھے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے کسی قسم کی کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی وہ ایک پروفیشنل کرکٹر رہے ہیں۔ دستاویزات میں سو سیکس کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو کا ایک خط بھی شامل ہے، عمران خان کی جانب سے عدالت سے استدعاکی گئی ہے کہ یہ دستاویزات ریکارڈکا حصہ بنائی جائیں۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران کے خلاف مقدمات کا انجام ردی کی ٹوکری ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کے بیٹے کا انگلینڈ میں 600 کروڑ کا فلیٹ ہے جبکہ عمران خان کا انگلینڈ میں فلیٹ صرف 50 لاکھ روپے کا تھا، ایک آدمی نے پوری زندگی کرکٹ کھیل کر ایک گھر بنایا جس کا حساب ہی ختم ہونے میں نہیں آرہا، ہم تو عمران خان کے بچپن تک کی منی ٹریل دے رہے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نااہلی کیس سے کچھ نہیں نکلنا، مسلم لیگ (ن) سمیت کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنی منی ٹریل دے تو پتہ لگ جائیگا، زرداری ہوں فضل الرحمن یا نوازشریف کوئی بھی عمران جیسی ایک منی ٹریل دیکر دکھادے۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ لندن سے منی ٹریل منگوا کرعدالت میں جمع کراد ی ہے اور مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات دورکردئیے ہیں۔
یہ جو رسم احتساب چل نکلی ہے اگر تو سارے سیاستدانوں ، جرنیلوں، ججوں ،صحافیوں بڑے بڑے ٹیکس چوروں انسانی اعضا تک بیچنے والے ڈاکٹروں کا احتساب نہیں ہونا تو یہ سب کچھ بے سود ہوگا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -