ضمیر کا قیدی

ضمیر کا قیدی
ضمیر کا قیدی

  

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز کو قید ہوگئی اور ہم نے مریم کو 13 جولائی کو جیل جاتے دیکھ بھی لیا ہضم مگر ابھی تک نہیں ہو رہاامید ہے کہ پابندی کی یہ عارضی ساعتیں ان کو اللہ تعالی کے شکر سے محروم نہیں رکھ رہی ہوں گی اور صبر کا دامن شامل حال ہوگا جس طرح یہ دنیا عارضی ہے یہ قید بھی دائمی نہیں ہو سکتی اور بہت سارے لوگ انکے لئے،بیگم کلثوم نوازشریف کی صحت کے لئے اور مریم نواز کی استقامت کے لئے دعا گو ہیں اور اس کا اظہار گاہے بگاہے پابندیوں کے باوجود پریس الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں پڑھنے کو ملتا رہتا ہے یہ حق کو حق کہنے کی سوچ ہی قوم کے زندہ ہونے کی نشانی ہے مجھے فخر ہے کہ اس ابتری کے دور میں بھی جب ہر چیز پہ نظر ہے پھر بھی بابر ستار کے بہادرانہ مقالے، سلمان اکرم راجہ کے قانونی مشورے، عمار مسعود ، مجیب شامی صاحب اور حفیظ اللہ نیازی کے مضامین ، طلعت حسین اور شاہزیب کی صحافتی ذمہ داریاں ، سوشل میڈیا پر بپا طوفان اور شہباز شریف کی ریلیوں میں عوام کی بھرپور نمائندگی اور ساتھ ساتھ پائیدار حزب مخالف کا موقف ایک زندہ قوم کی بھرپور علامات ہیں اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑوں کی ریس کے دوران ریلیوں میں خالی کرسیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ادھاری طاقت پر حاصل شدہ اقتدار مل تو جاتا ہے، لیکن فیصلہ سازی میں پائیدار نہیں ہوتا اور وہ عوامی تائید سے ہمیشہ محروم رہتا ہے قوموں کی زندگی میں ایسے فیصلہ کن مراحل آتے ہیں جب زندگی، خاندان، جان مال اورمتاع سب اس اولین مقصد پر قربان ہونے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں جیسا کہ قوم کے لئے ووٹ کو عزت دینے کے مقصد کے لئے نواز شریف بیگم صاحبہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ بے خطر میدان میں کود پڑے ہیں اور آج کل پابند سلاسل ہیں تاکہ انکی قوم سرخرو ہو سکے اور وہ مقصد قائم رہے جس کے لئے مملکت پاکستان کا حصول قائد اعظم کے ہاتھوں ممکن ہوا تھا بے شک وہ اصول یہی تھا ایک آدمی ایک ووٹ‘بیگم صاحبہ اگر ہوش میں ہوتیں تو لازماً انکے ساتھ جیل میں ہوتیں یا کسی گاڑی پر مینار پاکستان پر لٹکی ہوتیں اور جہد مسلسل میں انکی ساتھی ہوتیں یا وہ نواز شریف کی ماں جی کی طرح جاتی امرا میں نظر بند ہوتیں جس طرح وہ31جولائی کو اپنے بیٹے کا ماتھا چومنے سے محروم رہیں حسینیت اور یزیدیت کا یہ آفاقی سبق ہمیشہ ہماری زندگیوں میں اچھائی اور برائی کی جنگ کے طور پر روز پیش ہوتا ہے اور ہمیں اس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے مجھے خوشی ہے کہ نواز شریف نے اپنی قوم کے لئے اچھائی کے راستے کا انتخاب کیا ہے اور لوگوں نے 1999 کی طرح ایک دفعہ پھر انکی جماعت کا ساتھ دینے کا مصمم ارادہ کیا ہے۔ 18جولائی کو انکے ایک ناقد سلیم صافی نے ایک اردو کالم میں میاں نواز شریف اور مریم کے جیل جانے پر اپنی والدہ کے اشک بار ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ میری ماں کو کس نے رلایا وہ لکھتے ہیں کہ جب سے نواز شریف اور مریم کی گرفتاری کی خبر سنی ہے امی جان رو رہی ہیں اور اب تو کھانا اور دوائی بھی نہیں لے رہیں میں نے امی جان کو سمجھا بجھا کر کہا کہ یہ تو پاکستانی سیاست ہے اور اس میں تو یہ چیزیں معمول ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف نے کرپشن کی ہے تو کیا یہ باقی فرشتے ہیں انکی سیدھی سادی دلیل یہ تھی کہ کیا ان لوگوں کی مائیں بہنیں نہیں ہیں جو میاں نواز شریف اور مریم کو مجبور کررہے تھے کہ بیگم کلثوم نواز کو موت و حیات کی کشمکش میں چھوڑ کو وہ پاکستان گرفتاری دینے چلے آئے یہ الفاظ دھڑکتی قوم کے ضمیر کے ہیں جسکا قیدی نواز شریف بنا ہے بحیثیت قانون کے طالبعلم میرا موقف بھی یہی ہے کہ بحیثیت قوم ہم نے اخلاقی رواداری برداشت ،صبر اور سیاسی استقامت کہیں بہت پیچھے چھوڑ دی ہے جو اس مقام پہ پہنچے ہیں اور اس میں اپوزیشن لیڈر کی تیزیاں معنی خیز اور انکے آقاؤں کی پھرتیاں تکلیف دہ ہیں کیونکہ ایسے کام حلف بحلف روگردانی کے بغیر ممکن نہیں اور یہی قومی المیہ ہے جیل کبھی بھی عوامی تحریک کا راستہ نہیں روک سکتی شائد اسی موقعہ کے لئے فیض صاحب نے کیا خوب کہا ہے

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے 

کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے 

ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے !

مریم بی بی کا جیل میں سن کر وکیل کے طور پر ایک پھانس ہے جو دل میں اٹک گئی ہے یہ کیفیت اب شائد تب ہی صحیح ہوجب وہ ضمانت پر یا سرخرو ہوکر اپیل جیت کر باہر آئے حالانکہ میں مریم کو صرف مسلم لیگ کے قائد کی بیٹی کے طور پر جانتا ہوں، لیکن پھر بھی اسکا قوم کی بیٹی بننے کا یہ عمل تکلیف دہ اور کرب ناک ہے کیونکہ ہم بھی آخر انسان ہیں اور بیٹیوں والے بھی ،میں سوچتا ہوں کہ سابق وزیراعظم کیا سوچتا ہوگا یہ سوچ کر ہی جھرجھری آجاتی ہے کیونکہ اسکی تو وہ مریم ہے نا ‘ اور قوم اور فیصلہ ساز کس طرح اسکو ہضم کر رہے ہوں گے یہ بات غور طلب ہے عوامی غضب شائد ووٹ کی صورت سامنے آئے یہ لوگ اپنے اندھے انتقام میں کتنا آگے چلے گئے ہیں گرفتار کرتے وقت خوش ہو رہے تھے اورانصاف کی بجائے انتقام انکے لہجوں سے ابل رہا تھااگر نواز شریف سسلین مافیا ہوتے تو اپنے خاندان سمیت سو کے قریب پیشیاں نہ بھگتتے مافیا 12 مئی 2007 کو بلڈی سولینز کو گولیوں سے بھون کر لاشیں گراکے مکے لہراتا ہوا یہ جا اور وہ جا اور کبھی پکڑا نہیں جاتا عدالتی پیشیاں بھگتنا تو دور کی بات ہے اب بھی عدالت انکی راہ دیکھ رہی ہے کہ کب انکے حالات سازگار ہوں اور درد کمر نکلے اور وہ عدالت کو شرف ملاقات بخشیں کیونکہ بیچاری سول حکومتوں کے بس کی بات نہیں کہ انہیں پابہ جولاں پیش کریں سو یہ سب انہوں نے انکی صوابدید پر رکھ چھوڑا ہے اور انٹرپول وارنٹ صرف حسن اور حسین کے لئے ہیں پاکستان کا شروع سے ہی مسئلہ سمت کا ہے تین بار کے مارشل لا بھی نظام مملکت درست نہ کرسکے جنرل مشرف 1999 میں صفائی کرنے آیا اور قومی مصالحتی آرڈینینس کے ذریعے ہزاروں مجرموں کو سرعام معافی دے کر ہی اس نے دم لیا اور بے شرمی سے جاتا بنا، لیکن تاریخ گواہ ہے سب سے پہلے پاکستان اور انکے خالی خولی نام و نہاد نعروں پر ہی تو پاکستان ستر سال سے لٹتا آیا ہے اور ابھی بھی لٹ پٹ رہا ہے اور عام عوام تبدیلی کی بجائے تبدیلی کے نعروں اور لوٹوں کی سیاست سے بیزار ہیں اب نہیں تو کبھی نہیں والا معاملہ لگ رہا ہے اب ووٹ کی عزت بحال ہو کے رہے گی اور عوام ووٹ اور ووٹر کی عزت بحال کرواکے ہی دم لیں گے ان شااللہ کیونکہ یہ گٹھ جوڑ ہی تو کسی مستقل حل کی بجائے اصل مسلے کا حصہ ہے اور سمت کے تعین میں رکاوٹ ہے احتساب مگر سب کا ایک قومی نعرہ بن کے ابھررہا ہے اور صحیح معنوں میں آئینی اور قانونی اصلاحات درکار ہوں گی تاکہ میثاق جمہوریت تمام جماعتوں کو کاربند کرے اور ساؤتھ افریقہ جیسا سچ کمیشن بنے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوسکے کب تک ہم اپنی انا کی ذاتی تسکین کے لئے معروف سیاستدانوں کو تیس سال پرانے استغاثوں پہ سولی چڑھاتے رہیں گے اب تاریخ پر تاریخ سے کام چلتا نظر نہیں آتا اب سب کے کیس 6 سے 12 ماہ میں حل کرنا پڑیں گے تاکہ انصاف نہ صرف ہو، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو جیل میں کون سی کلاس ملتی ہے اس سے انکی شخصیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اپنی وزارت عظمی سے زبردستی بے دخلی پردلوں کا وزیراعظم وہ پہلے ہی بن چکاہے اب وہ راہبر بن کے باہر نکلے گا کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ اقامہ تو اک بہانہ تھا اور نواز شریف بس صرف نشانہ تھا اور یہ اسکے ووٹر سپورٹر اور عہدیدار اور عام عوام بھی جانتے ہیں جس نے اسے منتخب کرکے ایوان میں بھیجا تھا اور وجہ کوئی بھی ہو سکتی تھی، لیکن پھر بھی جج بھلا مانس نکلا اور اس سیاسی کیس میں جاتا جاتا کرپشن کے الزام سے میاں نواز شریف کو بری کرگیا اور یہی نواز شریف کی فتح ہے اقامہ پر بے دخلی پر عوام کی رائے جاننے کا پہلا پیمانہ آئندہ انتخابات ہی ہوں گے عوام سے یہی استدعا ہے کہ وہ25جولائی کو نہ صرف خود صبح سویرے نکلیں اور ووٹ ڈالیں، بلکہ اپنے خاندان کے دیگر افراد اور دوست احباب کو اس وقت تک تنگ کرتے رہیں جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ ہاں بابا ہم ووٹ ڈال آئے ہیں کیونکہ ووٹ کو عزت دینے میں ہی قوم کی بقا ہے اللہ عوام کا حامی و ناصر ہو۔

مزید :

رائے -کالم -