شفاف الیکشن

شفاف الیکشن
شفاف الیکشن

  

شفاف الیکشن کرانا نگرا ن حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن نہ صرف شفاف ہونا چاہئے جس میں دھاندلی نہ ہو بلکہ شفاف ہوتا نظر بھی آنا چاہئے جس میں کسی فریق ، عوام یا بین الاقوامی رائے عامہ کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر الیکشن سے پہلے دھاندلی (پری پول رگنگ) یا الیکشن کے دوران ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں جو اس کی شفافیت پر سوالیہ نشانات کھڑے کردیں تو ایسے الیکشن کے نتائج نہ قوم تسلیم کرے گی اور نہ بین الاقوامی رائے عامہ اسے درست مانے گی۔

مجھے نہیں پتہ کہ مارچ 1977 میں موجودہ نگران حکومت اورریاستی اداروں کے ذمہ داران کہاں تھے لیکن غالب امکان یہی ہے کہ وہ اس وقت تعلیمی اداروں کے مختلف مراحل میں رہے ہوں گے ، کچھ سکول یا کالج کے طالب علم رہے ہوں گے اور جو عمر میں ذرا بڑے ہیں وہ شائد عملی زندگی کے اوائل میں زندگی کے نشیب و افراز کے ابتدائی سبق سیکھ رہے ہوں گے۔

ان سب کو 1977 کا الیکشن کچھ نہ کچھ یاد ہو گاجس میں الیکشن کی شفافیت کو چیلنج کیا گیا اور جس کے نتیجہ میں ایک خونریز تحریک چلی جس کا انجام مارشل لاء پر ہوا۔

اگر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور اس وقت انتخاب سے متعلق ادارے اپنی قومی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شفاف الیکشن کراتے تو ہمارے ملک کی تاریخ اور حالات یکسر مختلف ہوتے۔

اس سال پاکستان اور بھارت دونوں میں الیکشن ہوئے، پاکستان میں دھاندلی ، احتجاجی تحریک اور مارشل لاء لگا ، سب کچھ کر لینے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو حکومت سے بھی گئے اور بعد میں زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھارت میں اندرا گاندھی حکومت نے شفاف الیکشن کرائے، الیکشن میں بری طرح شکست کھائی اور پہلی دفعہ کانگریس کی بجائے کسی اور (جنتا پارٹی) کی حکومت بنی ۔

اندرا گاندھی نے دھاندلی کا راستہ اختیار نہ کیا، اپوزیشن میں بیٹھیں اور صرف تین سال بعد بڑی اکثریت سے اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا۔

اس تمہید کا مقصد صرف اتنا بتانا ہے کہ مقبول سیاسی قیادت کو عوام سے مائنس نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی ملک میں آگے بڑھنے کا راستہ شفاف الیکشن کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا۔ موجودہ نگران حکومت اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو 1977ء یاد کرانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ تاریخ کا سبق اپنے ذہنوں سے محو نہ ہونے دیں۔ 

اس سے بھی اگر سات سال پیچھے چلے جائیں تو اس بھی بڑا سبق 1970 کے الیکشن میں ملا تھا جب عوامی مینڈیٹ کو بوٹوں تلے روندا گیا تھا۔اب 2018ء میں پاکستان کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے اور وہ صرف ایک طریقہ سے اپنی قومی ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں کہ وہ 25 جولائی کا الیکشن شفاف طریقہ سے کروا دیں، اگر انہوں نے شفاف الیکشن کرائے تو پاکستانی قوم اتنی باشعور ہے کہ اپنی منزل کا تعین وہ خود بیلٹ پیپر کے ذریعہ کر لے گی۔ 

شیخ رشید شاطر سیاست دان ہیں کہ سیاسی اور غیر سیاسی داؤ پیچ خوب جانتے ہیں۔ مہربان بھی ان پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہیں اس لئے وہ شیخ صاحب کو قومی اسمبلی میں پہنچانے کا کوئی نہ کوئی ماورائے سیاست طریقہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں وہ عمران خان کی گاڑی میں بیٹھ کر قومی اسمبلی کے اندر جا اترے تھے ، اس دفعہ چونکہ ایسا مشکل تھا اس لئے ان کے سخت جان حریف حنیف عباسی کو الیکشن کی دوڑ سے ہی باہرکر کے شیخ رشید کو واک اوور دینے کا بندوبست کیا گیا۔حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا کے بعد اب سنسان گلیاں ہوں گی جس میں شیخ صاحب اکیلے پھریں گے، چاہے تو حلقہ میں مٹر گشت کریں اور جب دل کرے کچھ کلومیٹر دور قومی اسمبلی میں قومی سیاست میں اخلاقیات کے نکلنے والے جنازے پر دھواں دھار تقریر کریں۔

حنیف عباسی کے مقدمہ کی اگلی پیشی دو اگست کو تھی ، اس احتمال کو ختم کرنے کے لئے کہ اس وقت وہ قومی اسمبلی میں ہوتے، دو اگست کی تاریخ کو تبدیل کر کے اور نا اہل کر کے انہیں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ایسا مقدمہ جو چھ یا سات سال سے چل رہا تھا ، اس کے یوں اچانک سمیٹے جانے اور بندے کو انتخابی منظر نامہ سے آؤٹ کر دینے سے الیکشن کی شفافیت پر انگلیاں اٹھنا لازمی ہے۔ حنیف عباسی اگر چودھری نثار کی جیپ پر بیٹھ جاتے تو اس وقت اس جیپ پر اپنے حلقے میں انتخابی جلسے کر رہے ہوتے۔

موجودہ ہونے والے الیکشن میں مختلف حوالوں سے پری پول رگنگ کی شکایات عام ہیں کہ زور زبردستی کرکے بہت سے امیدواروں کو ان کی پارٹی ٹکٹ واپس کروا کر جیپ پر بٹھایا گیا۔ اس وقت پوری دنیا کا میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ایک فریق یعنی پاکستان تحریک انصاف کو زبردستی جتوایا جا رہا ہے۔ دنیا کا کون سا مقتدر اخباریا نیوز ایجنسی ایسی ہے جس نے الیکشن کی شفافیت کے بارے میں رپورٹیں شائع نہ کی ہوں۔ واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز، لاس اینجلس ٹائمز، بوسٹن گلوب، سی این این، رائٹرز، نیوزویک، ٹائمز، بلوم برگ، وال سٹریٹ جرنل، فنانشیل ٹائمز، گارڈین، بی بی سی، اکانومسٹ،ٹیلی گراف، آبزرور، ڈوئچے ویلے،لی موندے، الجزیرہ... وغیرہ وغیرہ، سب ہی پری پول رگنگ، ہمارے اداروں کی الیکشن کو موم کا ناک بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات، سیاسی قائدین کو جیل میں بند کرکے کچھ کو واک اوور دینا اور سب سے بڑھ کر عدلیہ، الیکشن کمیشن اور ایجنسیوں کے کردار پر انگلیاں دنیا بھر کے میڈیا، تھنک ٹینکس اور رائے عامہ نے اٹھائی ہیں۔

پاکستانی میڈیا کا غالب حصہ بھی انٹرنیشنل میڈیا کے اٹھائے گئے اعتراضات کا ہمنوا نظر آتا ہے کیونکہ ہمارا میڈیا فیلڈ میں موجود ہے اور ایک ایک چیز کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ کیا ہمارا میڈیا اور عوام یہ نہیں دیکھ رہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلیں دانستہ طور پر الیکشن کے بعد دھکیل دی گئی ہیں تاکہ وہ الیکشن سے پہلے انتخابی مہم میں حصہ نہ لے سکیں۔ اگر ان اپیلوں کی سماعت پہلے ہو جاتی تو ایک امکان بہر حال یہ موجود تھا کہ سزا کی معطلی کی صورت میں مریم نواز شریف (جو لاہور سے مضبوط انتخابی امیدوار تھیں) الیکشن میں حصہ لے لیتیں۔ نگران حکومت اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران کو پتہ ہوگا کہ نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ بہت سے ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کے مبصرین بھی الیکشن کی شفافیت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار میں اپنے خطاب میں سنگین الزامات لگائے ہیں۔اگر لوگوں کو محسوس ہوا کہ لیول پلئنگ فیلڈ کی بجائے اس وقت ملک میں یکطرفہ احتساب ہو رہا ہے اوریہ کہ عدلیہ اور احتساب کے ذمہ دار اداروں کی توپوں کا رخ صرف ایک پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز کی طرف ہے تو حالات خرابی کی طرف جائیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ بلا امتیاز ہواور جس جس نے بھی کرپشن یا کوئی اور جرم کیا ہے اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے کڑا احتساب کیا جانا چاہئے۔

پاکستانی عوام نے کسی لاڈلے کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر حالات اچھے نہیں ہیں اور دونوں اطراف میں ملک ایک نیم جنگی کیفیت سے دوچار ہے جسے Low Intensity Conflicts (LICs) کہا جاتا ہے، اس پر مستژاد پاکستان کے دشمنوں نے ہمیں ففتھ جنریشن وار میں دھکیل رکھا ہے۔ یہ بہت بڑے چیلنجز ہیں جن سے نبرد آزما صرف ایک صورت میں ہوا جا سکتا ہے کہ ملک کے اندرونی حالات کو خلفشار کی طرف نہ جانے دیا جائے،اس کا ایک ہی طریقہ ہے،سب کے لئے لیول پلئنگ فیلڈ ، احتساب کے نام پر انتقام سے گریز اور شفاف الیکشن۔

مزید :

رائے -کالم -