مغرور، متکبر اور متعصب امیدوارعوامی حمایت سے محروم ہوسکتے ہیں

مغرور، متکبر اور متعصب امیدوارعوامی حمایت سے محروم ہوسکتے ہیں
مغرور، متکبر اور متعصب امیدوارعوامی حمایت سے محروم ہوسکتے ہیں

  

عام انتخابات کے انعقاد میں دو روز باقی ہیں۔ اس میں سرخرو ہونے کے لئے ملک بھر کے کروڑوں ووٹر، کارکنان اور ہزاروں امیدوار کئی سال اور مہینوں سے اپنی اپنی بساط اور صلاحیتوں کے مطابق تیاریاں کرتے آرہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ ہر انسان میں کوئی خاص ہنر، فن، قوت، ذہانت اور اہلیت پیدا کررکھی ہے، جس کی بدولت وہ لوگ اپنی دنیاوی زندگی کے امور میں محنت مشقت اور مہارت کے استعمال سے اور قومی شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرکے مثبت اور بہتر نتائج پاسکتے ہیں، اس مقصد کے لئے تعلیم، محنت اور تحقیق پر توجہ مرکوز کرنا اہم عوامل ہیں۔ تعلیم کے حصول کا سب سے اہم پہلو انسانی ذہن اور زندگی کو صحیح اور درست سمت پر ڈالنا اور گامزن کرنا ہے۔مسلم معاشروں میں تو اسلامی تعلیمات کی جانب رجوع کرکے انسانی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے سے انسان کی اصلاح و فلاح کا طریقہ اور راستہ آسان ہو جاتا ہے، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سب سے مقدس کتاب ہدایت قرآن پاک زندگی گزارنے کے معمولات سے انسان کو جلد راہ راست پر ڈالنے کا قابل قدر فریضہ انجام دیتی ہے۔ 

دین حق اسلام چونکہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ نظامِ حیات ہے، جوانسانی زندگی کے بچپن سے موت تک تمام معاملات میں راہنمائی کا بہترین کردار ادا کرتا ہے، اس میں کوئی کمی، کوتاہی، خامی اور خرابی موجود نہیں، اس لئے نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو بھی انسانی اصلاح وفلاح کے لئے اسلامی تعلیمات سے استفادہ کرنا کامیابی کا بہترین راستہ ہے، عقل و دانش اور فہم و فراست چونکہ کسی محدود معاملے سے آگے نہیں بڑھتی، لہٰذا اس کی اہمیت وقعت اور افادیت بھی عموماً مذکورہ بالا حدود کو عبور نہیں کرسکتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انسان لامحدود انسانی علوم و فیوض کے حصول سے اپنا مقام و مرتبہ دنیا اور آخرت میں کافی بہتر اور بلند کرسکتا ہے، بشرطیکہ انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں اور راستوں پر خلوص نیت اور مسلسل جدوجہد سے رواں دواں رہے،جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور رسوم و روایات نظام حیات کی صحیح سمت اور انداز کی راہیں، بعض خرابیوں، غلطیوں اور بداعمالیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت بعض دنیاوی اور معاشرتی برائیوں اور خرابیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر اپنے ماضی کا شاندار مقام و احترام کھو بیٹھی ہے، کیونکہ کئی مسلمان حضرات اور خواتین اسلامی تعلیمات کے اصولوں اور اقدار پر عمل کرنے سے انکار یا انحراف کی روش پر چل نکلے ہیں، اس بنا پر ہمارے معاشرے میں بھی بعض لوگ اپنی لاعلمی، جہالت،ہٹ دھرمی اور فرقہ واریت کے اصرار سے غرور، تکبر اور تعصب کا شکار ہوگئے ہیں، کیا ایسے امیدوار بھی انتخابات میں کامیاب ہوسکیں گے؟ 

مزید :

رائے -کالم -