ایک اور سیاست دان دہشت گردی کا شکار

ایک اور سیاست دان دہشت گردی کا شکار

  

سابق صوبائی وزیر اور ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی سے تحریک انصاف کے امیدوار اکرام اللہ خان گنڈا پور خود کش حملے میں شہید ہو گئے،انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بننے والے وہ تیسرے سیاست دان ہیں،اِس سے پہلے پشاور میں ہارون بلور(اے این پی) اور مستونگ میں سراج رئیسانی(بی اے پی) خود کش حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔پہلے دونوں حملوں میں دوسرے بہت سے لوگ بھی شہید ہوئے تاہم موجودہ حملے کا نشانہ صرف اکرام اللہ گنڈا پور بنے، بنوں سے متحدہ مجلسِ عمل کے امیدوار اکرم درانی کے قافلے پر بھی حملہ ہو چکا ہے،جس میں وہ محفوظ رہے۔ البتہ قافلے میں شریک چار افراد دھماکے کا نشانہ بن گئے۔اتوار کو بنوں میں اکرم خان درانی کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں، خوش قسمتی سے وہ اِس حملے میں بھی محفوظ رہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بعض مخصوص شخصیات کو بار بار ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے وہ اپنی سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائیں۔

انتخابی مہم کے دوران تشدد کی یہ وارداتیں امیدواروں کو انتخابات سے حصہ لینے کی کوششوں سے روکنے کا حصہ ہیں، کسی بھی امیدوار کی موت یا شہادت کے بعد اِس حلقے کا الیکشن تو ملتوی ہو ہی جاتا ہے،لیکن ایسے واقعات کے اثرات دوسرے حلقوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں،امیدواروں کے حامی اور ووٹر سہم جاتے ہیں اور بعض ا حتیاطاً گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں،دہشت گردی کے ایسے واقعات کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ امیدواروں کو خوفزدہ کر کے اُنہیں انتخابات سے دور رکھا جائے۔الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آئی تھیں کہ پاکستان کے انتخابات کو بیرونِ مُلک سے سبوتاژ کیا جا سکتا ہے، لگتا ہے دہشت گردی کے ایسے واقعات انہی کوششوں کا حصہ ہیں، کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ ان وارداتوں میں جو گروہ شریک ہیں اُن کے سرپرست بیرونِ مُلک بیٹھے ہیں اور وہیں بیٹھ کر دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ مستونگ کے دھماکے کے سلسلے میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں، ممکن ہے ڈیرہ اسماعیل خان دھماکے کا تعلق بھی اسی گروہ سے ہو،اس لئے مستونگ کی تفتیش کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے۔

دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ کافی عرصے سے کم ہو گیا تھا اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ اب دہشت گرد اپنے کونوں کھدروں سے باہر نہیں نکلیں گے،لیکن الیکشن مہم کی گہما گہمی میں اُنہیں دوبارہ متحرک ہونے کا موقع میسر آ گیا،کیونکہ عام طور پر سیاسی اجتماعات یا کارنر میٹنگ میں لوگ بلا روک ٹوک شرکت کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پشاور کے علاقے یکّہ توت میں ہارون بلور کی آمد سے قبل ہی خود کش حملہ آور اگلی صفوں میں موجود تھا اور جونہی انہوں نے جلسہ گاہ آمد پر لوگوں سے ملنا شروع کیا خود کش حملہ آور نے خود کو اُڑا لیا، ہم انہی سطور میں عرض کر چکے ہیں کہ سیاست دانوں کو سیکیورٹی کا بہتر ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ انتخابی مہم میں امیدوار عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف پہلے ہی شعلہ بار خطابات کر رہے ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے جذبات مشتعل ہوتے ہیں، ایسے ماحول میں دشمنوں کا کام آسان ہو جاتا ہے،کیونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ سیکیورٹی کے معاملات اس ماحول میں نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں اب تو انتخابی مہم آج ختم ہو جائے گی تاہم جو امیدوار اپنے طور پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے،اُنہیں اِس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہو گی تاکہ وہ سیکیورٹی کی جانب سے مطمئن ہو کر اپنے ووٹروں سے رابطہ کر سکیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان ایک ایسا علاقہ ہے جو سیکیورٹی کے لحاظ سے بہت حساس تصور کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ ایسے علاقوں میں گھرا ہوا ہے جہاں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ ہیں۔اگرچہ سیکیورٹی ادارے اس صورتِ حال سے باخبر ہیں اور انہوں نے حفاظتی انتظامات بھی کئے ہوئے ہیں،لیکن کلاچی اور بنوں جیسے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد انتظامات میں کہیں نہ کہیں رہ جانے والی کمی سے فائدہ اُٹھا کر خود کش حملہ کر گزرتے ہیں۔اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے اور اب یہ سر نہیں اٹھائے گی تو یہ اندازہ درست نہیں تھا، محسوس ہوتا ہے کہ جب سیکیورٹی کے ادارے متحرک ہوتے ہیں تو دہشت گرد اپنے ٹھکانے بدل لیتے ہیں یا زیر زمین چلے جاتے ہیں اور جب محسوس کیا جانے لگتا ہے کہ اب سیکیورٹی ادارے مطمئن ہو گئے ہیں کہ دہشت گردوں کو دبا دیا گیا ہے تو ان کے سوئے ہوئے سیل دوبارہ جاگ اُٹھتے ہیں اور کہیں نہ کہیں واردات کر دیتے ہیں۔ بلوچستان میں تو سیکیورٹی ادارے بھی براہِ راست دہشت گردی کی زد میں ہیں اور کئی پولیس افسروں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اس کا مقصد یہی ہے کہ اگر سیکیورٹی پر سانل دہشت گردی کا شکار ہوں گے تو لوگ اپنے طور پر خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں گے۔اداروں کو خوف کی ایسی فضا سے نکالنے کے لئے بہتر انتظامات کرنا ضروری ہیں۔

انتخابی مہم تو آج ختم ہو رہی ہے،لیکن دہشت گردی کے واقعات کے بعد اب اس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔یہ قرین قیاس ہے کہ دہشت گرد الیکشن والے پُرہجوم پولنگ سٹیشنوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کریں خصوصاً ایسے حلقوں میں جہاں سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت بطور امیدوار انتخاب لڑ رہی ہے اور جہاں بڑے لیڈر ووٹ ڈالنے کے لئے اپنے حامیوں کے ساتھ جائیں گے،عام طور پر بڑے رہنماؤں کے ساتھ اُن کے حامی بڑی تعداد میں شریک ہو جاتے ہیں ،ایسے میں اجنبی لوگ کسی ہجوم میں گھس کر کوئی بھی واردات کر سکتے ہیں،اِس لئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی حفاظت کے خود بھی انتظامات کرنے چاہئیں اور سیکیورٹی اداروں کو بھی اِس جانب متوجہ ہونا چاہئے۔یہ سمجھنا سادہ لوحی ہو گی کہ انتخابی مہم کے خاتمے کے ساتھ دہشت گرد بھی خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے،الیکشن کے دن اِس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے،مخالف امیدواروں کو بھی چاہئے کہ وہ مل بیٹھ کر ایسی حکمتِ عملی بنائیں کہ دہشت گردوں کو کسی بھی جگہ واردات کرنے کا راستہ نہ ملے۔جن سیاست دانوں کی زندگیوں کو خطرہ کی اطلاعات پہلے سے موجود ہیں ان پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -