جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بار سے خطاب

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بار سے خطاب
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بار سے خطاب

  

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب نے سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا کیا ہے اگر وہی طوفان الیکٹرانک میڈیا پر بپا ہوجاتا تو کیا ہوتا؟ لیکن اس سے بھی اہم سوال ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے اس خطاب کو زیادہ لفٹ کیوں نہیں کروائی ؟ کیا واقعی پاکستان میں مین سٹریم میڈیا کسی کے دباؤ میں ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کو وضاحتی بیان ضرور جاری کرنا چاہئے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خطاب کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مجھے ایک ایسے بزنس مین کا فون موصول ہوا،جو پہلے ہی غلط کاروباری ڈیل کرنے کے نتیجے میں سب سرمایہ ڈبو بیٹھے ہیں اور اس وقت کسی کے ہاں نوکری کرکے گزر اوقات کر رہے ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس خطاب کو سننے کے بعد ان کو تو لگتا ہے کہ انتخابات کے بعد کی صورتِ حال کاروباری اعتبار سے اور بھی دِگرگوں ہو گی، کیونکہ جس طرح سے لوگ ایک دوسرے کے خلاف پوزیشنیں لیتے جا رہے ہیں اِس سے لگتا ہے کہ معاشی استحکام نہیں آئے گا ۔اِس حوالے سے تیسری اہم بات یہ سامنے آ رہی ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بننا چاہئے جو ان کے خطاب میں لگائے گئے الزامات کی تحقیق کرے۔کچھ حلقے ان کی سابق وزیراعظم نواز شریف کے معتمد خاص عرفان صدیقی سے قریبی رشتہ داری ثابت کر کے ان کے خطاب کو ایک خاص تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مخصوص معنی نکالنے کی تگ و دو میں ہیں۔ 

دیکھا جائے تو جو باتیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی ہیں وہ پہلے سے چہ میگوئیوں کی صورت عوام میں زیر بحث ہیں۔ ان چہ میگوئیوں کو اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی زبان مل گئی ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ، اس سے قبل انہوں نے گمشدہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں ایک ایسا آرڈر بھی پاس کیا ہے جس میں پہلی مرتبہ کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افراد اسلام آباد میں کاروباری افراد، وکلاء اور دیگر لوگوں کے اغوا اور اس سے حاصل ہونے والی رقوم کے بھی حصہ دار ہیں۔ اصل کمیشن تو اس پر بننا چاہئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خطاب کے سیاسی اثرات پر زیادہ بحث ہو رہی ہے ، اس کے قانونی پہلوؤں پر کم بات ہو رہی ہے۔ ہر کوئی اسے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے جوڑ رہا ہے ۔

یہ ساری صورتِ حال اگر ایسے ہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری عدلیہ، ہماری انتظامیہ ،حتیٰ کہ ہمارے سیکیورٹی کے ادارے بھی سوچ کے اعتبار سے بٹے ہوئے ہیں ، یہ تقسیم اگر مزید گہری ہوتی چلی گئی تو مُلک کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیق نے اپنے خطاب میں بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی اپیل والے بنچ میں انہیں چیف جسٹس اسلام آباد نے کسی دباؤ کی وجہ سے شامل نہیں کیا۔ اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ 

اس میں شک نہیں کہ مُلک کی سیاسی تاریخ میں ہائی کورٹ باروں نے بہت کلیدی کردار ادا کیا ہے، لیکن گزشتہ عرصے سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ یہ کردار بار سے نکل کر بنچ پر بیٹھے معزز ججوں تک جا پہنچا ہے،جو علی الاعلان بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔اس صورتِ حال کا ایک مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو اپنے عدالتی نظام سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ عدالتوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے ضمیر کی آواز پر لببیک کہنے کو تیار ہیں ۔

اس کے باوجود یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری ہائی کورٹوں کی بارز اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہیں ۔ مقام شکر ہے کہ آصف علی زرداری نے جمہوری رویئے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنی پیپلز پارٹی کو جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے کی اجازت دے دی ہے وگرنہ ان کی تان اسی پر ٹوٹ رہی تھی کہ نواز شریف کے ساتھ وہی کچھ ہونا چاہئے،جو کچھ پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اس اندھے پن کا ہی نتیجہ ہے کہ آج عمران خان ان کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں اور ان کو آہ بھر نے کا بھی یارہ نہیں ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہماری ہائی کورٹ کی باروں کی دکھائی پڑتی ہے جو اصولی موقف اختیار کرنے کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا شکار نظر آتی ہیں ۔ وہ تو بھلا ہو کراچی،پشاور اور کوئٹہ بار کا کہ وہاں پر موجود لوگوں نے قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پر آواز اٹھائی تھی، جس سے چیف جسٹس کو ان کے خلاف جاری کارروائی کو بند کرنا پڑا تھا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے اکابرین پھر بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے بھی تیار نظر نہیں آتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خطاب کے بعد مسلم لیگ(ن) کے مخالف حلقے پریشان اور مسلم لیگ(ن) کے حامی حلقے بے پرواہ نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) مخالف حلقوں کا خیال ہے کہ یہ خطاب دراصل آئی ایس آئی کو انتخابات کے دوران کسی قسم کی مبینہ مینجمنٹ سے روکنا ہے اور اگر ایسا ہوا تو پی ٹی آئی کے لئے جیتنا مشکل ہوجائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات سے عین پہلے اس قسم کے انکشافات مسلم لیگ(ن) کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے حلقے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ان انکشافات کے باوجود بھی خفیہ ہاتھ اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آئیں گے، کیونکہ جن لوگوں نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹادیا، ان کے خلاف عدالتوں سے فیصلے لے لئے اور انہیں جیل میں ڈال دیا ، ان پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خطاب کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں گے۔ 

اس گومگو کی صورتِ حال میں افسوس کا مقام یہ ہے کہ کوئی ایسا ادارہ، کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جو ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین میں اصولوں کی پاسداری کا اہتمام کر سکے۔ خاص طور پر حنیف عباسی کی رات گیارہ بجے سزا نے اس تاثر کو اور بھی تقویت دی ہے کہ دونوں اطراف اپنے اپنے ایجنڈے کی تقلید میں اندھی ہو چکی ہیں اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے،جو ایک قدم پیچھے ہٹ کر حالات کو درست کرنے کی سعی کرے۔

ایسی صورتِ حال میں 2018ء کے عام انتخابات کے بعد مُلک بلندی کی بجائے پستی کی طرف جاتا نظر آتا ہے، جس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ مُلک کے اندر کسی بھی قد آور سیاسی قیادت کو جمنے کا موقع نہیں مل رہا ہے ۔ ب

ے نظیر بھٹو کی شہادت مُلک کی سیاسی فضا میں ایک بہت بڑے خلا کی صورت نمودار ہوئی تھی ۔ یہ قوم ابھی اس سانحے سے جانبر نہ ہوسکی تھی کہ نواز شریف کو چور ثابت کرنے کے لئے ہر حربہ آزما لیا گیا ہے ۔

اس سے بھی زیادہ دُکھ کی بات یہ ہے کہ عمران خان بھرپورسپورٹ کے باوجود اپنی ساکھ قائم نہیں کر سکے ہیں اور ان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اب کیا یہ قوم شیخ رشید اور پرویز الٰہی یا مصطفےٰ کمال کی جانب دیکھے گی جن کی ساکھ پہلے ہی مجروح ہے۔ ہمارے اداروں کو سوچنا چاہئے کہ قیادت کے بغیر قومیں برباد ہوجایا کرتی ہیں۔ چھڑی سے ریوڑ کو ہانکا تو جا سکتا ہے ، قوم نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔

مزید : رائے /کالم