عمران کی پسپائی۔۔۔یا۔۔۔؟

عمران کی پسپائی۔۔۔یا۔۔۔؟
عمران کی پسپائی۔۔۔یا۔۔۔؟

  

نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن بہت پہلے یہ پیشین گوئی کر چکے ہیں کہ کچھ بھی کر لیا جائے ایک ’’معلق‘‘ پارلیمینٹ وجود میں آئے گی۔۔۔ اور قومی حکومت بنانی پڑے گی۔۔۔ آصف علی زرداری نے تو یہاں تک کہا تھا کہ جو بھی حکومت بنائے گا اُسے ہمارے ساتھ رابطہ کرنا پڑے گا۔۔۔ مولانا فضل الرحمن بھی کہہ چکے ہیں کہ بعض اوقات ملکی مفادات میں ہر طرح کے فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں۔

نواز شریف تو پہلے کہہ چکے ہیں کہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے لئے تیار ہوں،ابھی گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی میثاق جمہوریت کی بات کی ہے،مگر عمران خان اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ وہ مکمل اکثریت حاصل کر لیں گے،مگر اب پورے پاکستان میں ’’پھرنے‘‘ کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ ’’معلق‘‘ پارلیمینٹ بننے جا رہی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے فرمایا کہ اگر انہیں اکثریت نہ ملی تو وہ ’’اپوزیشن‘‘ میں بیٹھنا پسند کریں گے۔ پی پی پی کے ساتھ کسی بھی اتحاد کو انہوں نے منافقت قرار دے دیا ہے، گویا عمران خان اب وزیراعظم کے گھوڑے سے نیچے اُتر آئے ہیں،مگر سوال یہ ہے کہ یہ ’’پیغام‘‘انہوں نے کس کو دیا ہے؟

کیا وہ اپنے کارکنوں کو کسی بڑی مایوسی سے پہلے اعتماد میں لے رہے ہیں؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے،کیونکہ اِس طرح کے بیان سے وہ اپنے کارکنوں کو مایوس کیوں کریں گے؟ جبکہ ان کے کارکن یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ عمران خان اس بار وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔

عمران خان کے اِس بیان کو سمجھنے کے لئے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔۔۔ بقول عمران خان کے جب2013ء کے الیکشن کے نتائج آ رہے تھے تو اچانک نواز شریف نے اعلان کیا کہ انہیں واضح اکثریت چاہئے،نواز شریف کے اِس بیان کو عمران خان نے یہ معنی پہنائے کہ درحقیقت انہوں نے ایک ’’قوت‘‘ کو پیغام دیا تھا کہ مجھے اکثریت کے ساتھ جتاؤ۔۔۔عمران خان اِس حوالے سے اُس وقت کے آرمی چیف کا نام کئی بار لے چکے ہیں اور الزام لگا چکے ہیں کہ2013ء کے الیکشن نواز شریف کے حق میں چرائے گئے تھے،عمران خان نے اپنے اسی بیانیے کے ساتھ پورے پانچ سال اپوزیشن کی سیاست کی۔

چار حلقوں کی دوبارہ گنتی ہوئی، دو حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے جن میں ان کے امیدواروں کو شکست ہوئی، چوتھا حلقہ سعد رفیق کا تھا، جس کے بارے میں اب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہاں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نواز شریف کے اس بیان کو ’’قوت‘‘ سے مدد طلب کرنا قرار دیتے رہے ہیں تو پھر خود انہوں نے اپنے بیان، ’’معلق پارلیمینٹ‘‘ اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے حوالے سے کس کو کہا ہے، کس کو پیغام دیا ہے؟ عمران خان ’’کل‘‘ تک مطمئن تھے، مگر اب وہ پریشان ہیں، ان کی پریشانی کی حقیقی وجہ یہی ہے کہ زمینی حقائق انہیں اپنے حق میں نظر نہیں آتے، مثال کے طور پر میانوالی جو کہ ان کا آبائی ضلع ہے، وہ وہاں سے بھی اپنی سیٹ کے حوالے سے مطمئن نہیں تھے، گزشتہ الیکشن میں وہ صرف ایک بار میانوالی گئے، مگر اس بار وہ تین بار میانوالی کا دورہ کرچکے ہیں، مگر دیگر اضلاع میں بھی انہیں اپنے امیدواروں کے حوالے سے زیادہ امید نہیں ہے، مثال کے طور پر لاہور سے وہ قطعی طور پر مطمئن نہیں ہیں، انہیں بعض اضلاع میں پی پی پی اور بعض میں مسلم لیگ (ن) زیادہ ’’تگڑی‘‘ نظر آتی ہے اوپر سے انہیں ٹکٹ سے محروم رہنماؤں سے بھی امید نہیں ہے کہ وہ پارٹی کے نامزد امیدوار کو کامیاب بنائیں گے۔

جہلم میں پارٹی کے ترجمان فواد چودھری کے جلسے کی گونج تمام میڈیا نمایاں طور پر دکھا چکا ہے، یہاں عمران خان ضرورت سے زیادہ مایوس ہوئے، فواد چوہدری نے کمال یہ دکھایا کہ تقریباً ساڑھے تین سو کرسیوں پر ساڑھے تین لاکھ بندے بٹھائے دکھانے کی کوشش کرتے رہے، بہاولپور میں بھی عمران خان مایوس نظر آئے، جنوبی پنجاب میں ان کے تمام امیدوار پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے نرغے میں ہیں، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، پہلے لکھ چکا ہوں کہ دونوں کی سیاسی رنجش اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، عمران خان کو خیبرپختونخوا، بلوچستان، اور کراچی سے برائے نام امید تھی، پنجاب کے حوالے سے وہ مطمئن تھے، کہ یہاں سے وہ مسلم لیگ (ن) کو ناکام بنا سکتے ہیں، مگر پورے پنجاب کی تو بات ہی کیا ہے، صرف لاہور کو وہ ابھی تک اپنے قابو میں نہیں لا سکے، تو ان حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اب اپنے خیر خواہوں سے مزید مدد کی درخواست کر رہے ہیں، مگر اب معاملہ ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے،کیونکہ الیکشن سے پہلے جو بندوبست ہوئے ہیں وہ تو سارے کے سارے کئے جاچکے ہیں، مگر پولنگ والے دن کسی بڑے بندوبست کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ خود کو ’’رنگے‘‘ ہاتھوں پکڑا دیں، امید نہیں ہے کہ پولنگ والے دن ان کی مدد کی جا سکے،سو یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنے حق میں کئے جانے والے بندوبست سے مطمئن نظر نہیں آتے اور وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ قومی سطح کی دیگر سیاسی جماعتوں کا بیانیہ ایک دوسرے کے قریب آ رہا ہے۔۔۔ یعنی اگر ’’معلق پارلیمینٹ‘‘ ہی وجود میں آئی۔۔۔ اور امکان غالب ہے کہ ’’معلق پارلیمینٹ‘‘ ہی وجود میں آئے گی تو پھر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی حکومت کی طرف جانا پڑے گا۔۔۔ اور اگر ایسی صورتِ حال بنتی ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے اگر تمام جماعتیں ایک مضبوط قومی حکومت بنا لیتی ہیں۔۔۔ تو یہ ایک طرح سے ملک و قوم کے لئے اچھی بات ہو گی اور اس سے جمہوریت کا پلڑا بھاری ہو گا ،ایک عام آدمی کو حوصلہ ملے گا کہ ان کے سیاسی قائدین مشکل فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر عمران خان کے حوالے سے چونکہ کہا جا چکا ہے کہ وہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی اتحاد کسی قیمت پر نہیں کریں گے، سو ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اگر مُلک میں قومی حکومت بنتی ہے تو اپوزیشن لیڈر کے طور پر عمران خان زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔۔۔ اور اگر ’’معلق پارلیمینٹ‘‘ والی عمران خان کی بات درست ہے تو پھر انہیں اپوزیشن لیڈر کے کردار کے لئے ابھی سے تیار رہنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -