آپ کے ووٹ کا مستحق کون ہے

آپ کے ووٹ کا مستحق کون ہے
آپ کے ووٹ کا مستحق کون ہے

  

آج کل عام انتخابات سر پر ہیں۔ 2013ء میں پاکستان پیپلزپارٹی نے پانچ سال پورے کئے اور اقتدار پُرامن طریقے سے انتخابات جیتنے والی پارٹی کے حوالے کیا اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی پارٹی کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔

یہ پُرامن انتقال اقتدار ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے دنیا کی جمہوریتوں میں تو یہ ایک روٹین ہے ،لیکن بدقسمتی سے جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آنے والے اس ملک میں یہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ خدا کرے اپنی زندگی میں ہم یہ منظر بھی دیکھ لیں کہ صرف حکومت نہیں وزیراعظم بھی پانچ سال پورے کرے ،تاکہ ہماری تاریخ سے یہ سیاہ دھبہ بھی دور ہو جائے۔

عام انتخابات ہمیشہ ایک خاص تناظر میں منعقد ہوتے ہیں ہر انتخاب میں کچھ خاص ایشوز نمایاں ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر عوام ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پارٹیوں کے منشور کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے ،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں منشور کی صرف علامتی اہمیت ہوتی ہے ۔ منشور کے بارے میں خود پارٹیاں کوئی زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتیں اس لئے عوام بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے فیصلہ کچھ اور ایشوز پر ہوتا ہے۔ 2013ء کے انتخابات کو اگر یاد کریں تو اُس وقت کرپشن ، دہشت گردی ،کمزور معیشت ، لوڈشیڈنگ ، ڈرون حملے سٹیل مل اور پی آئی اے جیسے قومی اداروں کی بحالی جیسے بڑے ایشوز درپیش تھے۔ ان معاملات میں حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی عوام کو اپنی کارکردگی پر قائل کرنے میں ناکام ہو گئی۔

پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں کرپشن کا بازار گرم رہا۔ بڑے بڑے ٹھیکوں میں تو کرپشن کسی نہ کسی حد تک ہمیشہ شامل رہی ہے، لیکن پیپلزپارٹی نے کرپشن کو پرچون لیول تک پہنچا دیا۔ کرپشن کے نئے اور آسان طریقے ڈھونڈ لئے گئے، بڑے بڑے منصوبوں میں کام بہت کرنا پڑتا ہے وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور ان میں رِسک کا عنصر بھی ہوتا ہے، کیونکہ اگر کوئی بڑا منصوبہ فیل ہو جائے تو وہ شروع کرنے والی حکومت کے گلے پڑ جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے لوگوں کوپیسے لیکر نوکریاں دیں،یہ آسان راستہ تھا کرپشن کا۔

اس سے البتہ ادارے تباہی کا شکار ہو گئے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سوات میں آپریشن کیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار پتہ نہیں اتنا انتظار کیوں کیا گیا۔ پھر یہ آپریشن قبائلی علاقوں میں نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ بھی اہل اقتدار ہی جانتے ہوں گے البتہ حکومت نے کچھ سیاسی کام ضرور کیا مثلاً صوبوں کو زیادہ اختیارات دینے کے لئے دستور میں اٹھارہویں ترمیم کی گئی، صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبرپختونخوا رکھا گیا۔

آنے والی حکومت کو تقریباً یہی مسائل ورثے میں ملے جن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، کمزور معیشت، قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ، قومی اداروں کی بحالی وغیرہ شامل تھے۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سو فیصد کامیاب نہیں ہوئی، تاہم کہا جا سکتا ہے کہ 80/90 فیصد تک یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے تقریباً 10 ہزار میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں داخل کی ہے اس دعوے کی کسی نے تردید نہیں کی یہ الگ بات کہ بعض لوگ نفرت میں یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ دوگنی ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ موٹرویز اور میٹرو ٹرین کی شکل میں جو انفراسٹرکچر بنایاگیا ہے یہ کوئی معمولی کام نہیں۔ موٹرویز سے پورا ملک منسلک ہو جائے گا اور اس کے روزگار،کاروبار ،سیاحت حتیٰ کہ قومی یکجہتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات ہو رہے تھے۔ عمران خان بھی اس عمل کے زبردست حامی تھے۔ اپنی آپ بیتی میں انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور طالبان کو ’’اپنے آدمی‘‘ قرار دیتے ہوئے اُن سے مذاکرات کرنے کی زبردست وکالت کی ہے۔

بہرحال اس عمل کے دوران پشاور میں آرمی سکول پر حملہ ہوا جس سے فوج کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور یوں دہشت گردوں کے خلاف مہم ضرب عضب شروع کر دی گئی جس کی سیاسی قیادت نے مکمل حمایت کی اور اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا۔ یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں، بلکہ بہت بڑا بریک تھرو ہوا ہے۔اب اس کاسارا کریڈٹ آپ چاہیں تو فوج کو دے دیں، لیکن پھر فوج کو ایک الگ پارٹی تصور کرنا پڑے گا۔اداروں کی بحالی اور مجموعی طور پر گڈگورننس پر حکومت بری طرح فیل ہوئی، کرپشن کم کرنے میں بھی اُسے نمایاں کامیابی نہیں ہوئی۔

معیشت کی خراب صورتحال پر حکومت نے بڑی حد تک قابو پا لیا تھااور چند سالوں کے بعد آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی بینک کے علاوہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے خاصے اطمینان کا اظہار کیا۔ عالمی میڈیا جیسے اکانوسٹ وغیرہ نے بھی مثبت رپورٹنگ کی ، پہلی دفعہ معیشت کا گروتھ ریٹ تقریباً 6 کے ہندسے تک جا پہنچا،لیکن پھر کچھ ایسے واقعات شروع ہو گئے مثلاً پہلے کئی ماہ عمران خان کا دھرنا ہوا، کینیڈا سے قادری صاحب تشریف لائے اور حکومت کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، انتخابات میں دھاندلی کی مہم چلائی گئی اور پھر پانامہ آ گیا اور ساتھ ہی اقامہ آ گیا یوں حکومت کے پاؤں اُکھڑ گئے، وزیر خزانہ کو جان بچا کر بھاگنا پڑا، وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا، کرپشن کا شور بلند ہوتا گیا اور یوں باقی سارے ایشوز پسِ پشت چلے گئے اور اس ہنگامے کے نتیجے میں بے یقینی اور افراتفری کے ماحول میں معیشت ڈانوں ڈول ہو گئی۔

قبائلی علاقے میں ڈرون حملے البتہ ختم ہو گئے اور ڈومور کی گردان بھی کچھ کم ہوئی، لیکن پہلے سے موجود ان چیلنجز کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی حکومت میں سی پیک کا آغاز ہو گیا۔ اِسے تقریباً سب لوگ گیم چینجر کہہ رہے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بعد یہ دوسرا منصوبہ ہے جس پر قوم میں اتفاق رائے ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔

یہ بڑا خوش آئند ہے اس منصوبے کی اہمیت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی اس کا کریڈٹ لینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اگرچہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گوادر میں کوئی کام نہیں ہوا۔

جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے اُس کی حکومت آنے سے کم از کم سٹیٹس کو تو ٹوٹے گا اور ایک ہل چل مچے گی۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ گڈگورننس اور کرپشن کے ایشو پر بھی پیشرفت ہو گی۔ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوامیں کم از کم قومی سطح پر پی ٹی آئی نے مختلف محکموں میں اصلاحات کی اچھی کوشش کی ہے اگر چہ کرپشن کے معاملے میں اُسے ناکامی ہوئی ہے۔

انتخابات قریب ہیں ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں موازنہ کرنے میں مصروف ہے۔ پیپلزپارٹی اب کھیل سے تقریباً آؤٹ ہے۔اگلے دن ایک ٹی وی چینل پر رپورٹر نے ایک پڑھے لکھے آدمی سے سوال کیا کہ آپ کسے ووٹ دیں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے ،کیونکہ ایک دن وہ ایک پارٹی کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں تو اگلے دن کوئی ایسی خبر سامنے آ جاتی ہے جس سے وہ متزلزل ہو جاتے ہیں یہ ایک پڑھے لکھے کی منطق تھی۔

مین آف دی سٹریٹ تو ساتھ واہیات گالی بھی دیتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے تشخص کے بہت سارے پہلو ہوتے ہیں، لیکن آپ نے فیصلہ پارٹیوں کی مجموعی کارکردگی، اُن کا ماضی اُن کا منشور وغیرہ اور سیاسی لیڈروں کا عزم اُن کا کلچر ’’اُن کی جدوجہد کی سمت کو مدنظر رکھ کر کرنا ہوتا ہے کسی ایک ایشو پر آپ کا فیصلہ غیرمتوازن ہو گا اس طرح آپ سیاسی قیادت سے ناانصافی کریں گے۔ مثلاً بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ لاہور بارش میں ڈوب گیا ہے اور نوازشریف کے خلاف کرپشن کا فیصلہ آ گیا ہے۔

اس لئے مسلم لیگ کی پچھلے دس سال کی مختلف شعبوں میں کارکردگی زیرو ہو گئی۔ عمران خان شادی اور بابا فرید کے مزار پر سجدے کی وجہ سے وزیراعظم کے عہدے کے لئے نااہل ہو گئے ہیں۔ایسی باتیں آپ کو کسی شخصیت کو سمجھنے میں مددگار تو ہو سکتی ہیں، لیکن صرف انہی پر فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہو گا تو پھر فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے؟‘‘

.موازنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دیکھا جائے۔ مسلم لیگ (ن)نے اوپر بیان کئے گئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ کارکردگی پر فیصلے کے لئے مجموعی طور پر آپ 100 نمبروں میں اِسے کتنے نمبر دیں گے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں تین بڑی پارٹیوں کی حکومت تھی، لہٰذا صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا تقابل کر لیا جائے حکومت بدلنے کے لئے عوامی رائے بڑی اہمیت رکھتی ہے ،کیونکہ نئی حکومت کیسی ہو گی اس کے اثرات بہت دور تک ہوں گے، پورا ملک متاثر ہوتا ہے ۔

اس لئے فیصلہ جذباتیت اور تعصب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ میرٹ پر کرنا چاہئے۔ ہم اپنی حکومتوں سے میرٹ کی توقع کرتے ہیں ،لیکن اپنی رائے دیتے وقت میرٹ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان انتخابات میں پارٹیوں کی کارکردگی شاید کوئی موضوع ہی نہیں ،بلکہ تمام ایشو کرپشن کی گونج میں دب گئے ہیں گویا فیصلہ صرف ایک ایشو پر ہونے جا رہا ہے۔ سیاستدانوں کے بارے میں ایک عمومی disillusionmentپیدا کر دی گئی ہے۔ یہ سیاست کے لئے نیک فال نہیں۔کرپشن کا موضوع بڑا وسیع اور گنجلگ ہے اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے، مثلاً کیا کرپشن کا حساب شریف خاندان یا مسلم لیگ سے ہی لیا جانا ہے معاشرے کے باقی سب طبقے پاک صاف اور دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔

پانامہ میں کئی سو آدمی شریک تھے باقی لوگوں کا کیا ہوا وغیرہ وغیرہ اور کیا اتنی دلچسپی عدلیہ اور نیب نے کسی اور کیس میں کبھی لی ہے؟۔ کرپشن کیسز اور نوازشریف کی نااہلی کے پس منظر میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔ ظاہر ہے اس پر سوسائٹی میں واضح تقسیم ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عدلیہ کی فعالیت انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور شاید اس سے ہم ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں، لیکن دوسری طرف بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عدلیہ اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کر رہی ہے اور اس کے نتائج سیاسی سطح پر اور بیوروکریسی کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کریں گے اس کے علاوہ اسٹیبشمنٹ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پس پردہ مسلم لیگ کے خلاف کام کر رہی ہے اور اس کے ثبوت کے لئے بہت ساری مثالیں دی جاتی ہیں، لہٰذا مسلم لیگ دہائی دے رہی ہے کہ انہیں Level Playingفیلڈ میسر نہیں۔ مذہبی طبقہ بھی اس دفعہ زیادہ زوروشور سے میدان میں ہے اور اُن کا ٹارگٹ بھی مسلم لیگ (ن) ہے۔اس سارے ماحول میں سچ کی تلاش اور معروضی حقائق کا ادراک خاصا مشکل ہے شاید یہی لوگوں کے شعور کا امتحان ہے۔اِن ساری باتوں کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے لئے ہمیں اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنی ہو گی۔

نگران حکومتوں کے قیام کے باوجود لوگوں میں انتخابات کے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انعقاد کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر دفعہ انتخابات کا انعقاد شکوک و شبہات کی فضاء میں ہوتا ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہ پروپیگنڈا زوروں پر تھا کہ انتخابات نہیں ہوں گے اور کم از کم تین سال تک نگران حکومت قائم رہے گی۔

پھر کہا گیا کہ سینٹ کے انتخابات نہیں ہوں گے اور اب دو دن رہ گئے ہیں تو پھر بھی انتخابات کا انعقاد یقینی نہیں مانا جا رہا ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں خدانخواستہ خون خرابہ ہو گا۔اس بے یقینی کی وجہ بھی ہمیں اپنے ماضی میں تلاش کرنی ہو گی۔

ہم ایک قوم کی حیثیت سے بے یقینی کی اس فضاء سے کب آزاد ہوں گے اور کب دوسری باوقار قوموں کی طرح مناسب وفقے سے پُرامن انتخابات کا انعقاد کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ یہ سیاسی لیڈروں ، دانشوروں اور ریاستی اداروں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -