جمہوریت کی فتح کے لئے سیاستدانوں کی قربانیاں

جمہوریت کی فتح کے لئے سیاستدانوں کی قربانیاں
جمہوریت کی فتح کے لئے سیاستدانوں کی قربانیاں

  

پاکستان میں جمہوریت کو دوام چاہئے تو اسکی بقا کے لئے سیاستدانوں کوجان کی قربانیا ں بھی دینا ہوں گی ۔ جمہوریت کی خواہش بہت آسان فرمائش ہوسکتی ہے لیکن حقیقت میں اسکے لئے آگ اور خون کا دریا پارکرنا پڑتا ہے۔جرمنی فرانس ترکی سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ بڑے ملکوں کی جمہوریت کی طرف حسرت اور اشتیاق سے ہم دیکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ سبق بھی حاصل کرنے میں کھلے دل اور ذہن کا ثبوت دینا چاہئے کہ ان ملکوں نے الیکشنوں کے ماہ و سال میں دہشت گردی کاسامنا کیا اور پھر کہیں جا کر جمہورکو آزادی اور خود مختار سیاسی سوچ مہیا کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔

پاکستان میں ستر سالوں کے دوران تیرہویں (ان میں تین بار غیر جماعتی الیکشن بھی ہوچکے ہیں)بار الیکشن ہونے جارہے ہیں تو حالات بھی پہلے سے نہیں ہیں۔ الیکشن سے دو ہفتے پہلے لگاتار خود کش حملوں میں پشاور، مستونگ ،بنوں، ڈیرہ اسمعیل خان سمیت کئی انتخابی حلقوں میں کارنر میٹنگز کے دوران دہشت گردوں نے جمہوریت پسندوں کو خون میں نہلا دیاہے ۔ اب تک اڑھائی سو سے زائد سیاسی کارکن جام شہادت نوش کرکے جمہوریت پر قربان ہوچکےہیں جبکہ انتخابی امیدواروں میں ہارون بلور،سراج رئیسانی ،اکرام گنڈا پور جیسے الکیٹیلبز کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے اکرم درانی پر دو بار قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں پہلی بار قومی انتخابات سے پہلے دہشت گردی کی انتہائی خوفناک لہر اٹھی ہے جس نے الیکشنوں کو ملتوی کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے تاہم عوام کے غیر معمولی جوش و جذبے کے سامنے دہشت گردوں کو کلی طور پر اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں مل سکی ۔

کوش آئیند بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قوم کا بے خوفی سے انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہنا خود دہشت گردوں کے لئے حیرانی اور ناکامی کا باعث بن گیا ہے ۔دنیا پاکستانیوں کا یہ روپ دیکھ کر حیران ہوگئی ہے ۔اگرچہ بہت سے ناقد فوج پر کڑی تنقید کررہے اور الیکشنوں میں فوج کی انجینرڈ پالیسی کو نشانہ بنارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی تنقید بھی دراصل دہشت گردوں سے جڑی ذہنیت کا دوسرا پہلو ہے جو بارود کی بجائے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لئے مافیاوں کے نظریات کواستعمال کر رہا ہے ۔دہشت گردی کی جنگ میں پروپیگنڈہ وار سب سے کامیاب اور مہلک ہتھیار کے طور پر ثابت ہوئی ہے ۔میڈیا اسکا ہر اول دستہ بنا رہاہے ۔یہی فارمولا اور فلاسفی پاکستان میں سیاسی جمہوری نظام کو ختم کرانے یا کمزور بنانے میں استعمال ہورہی ہے ۔ان نظریاتی دہشت گردوں کا اصل مقصد پاکستان میں ہنگ پارلیمنٹ اور کمزور حکومت قائم کرنا ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں پاکستان سی پیک سمیت دیگر اہم اقتصادی منصوبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرکے دشمنان پاکستان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا نہ ہوسکے اور مضبوط جمہوریت کے داعیان چین ا ور روس کے ساتھ مل کر خطے میں اپنے فیصلوں کے سامنے استعماری قوتوں کو ”نو سر“ کہنے کی جسارت نہ کرسکےں ۔ امید واثق ہے کہ جسطرح فوج جیسے مضبوط اور منظم ادارے نے پانچ ہزار جوانوں کی قربانیاں دیکر ملک سے دہشت گردوں کی جڑیں کاٹنے کی پوری کوشش کی ہے اسیطرح سیاستدان جمہوری ادارے کی بقا و دوام کے لئے وطن کی مانگ   اپنے لہو سے سنواریں گے ۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -