بھارت پروٹیز کرکٹ کو بھی داغدار کرنے میں ملوث نکلا

بھارت پروٹیز کرکٹ کو بھی داغدار کرنے میں ملوث نکلا

  

جوہانسبرگ(آئی این پی)جنوبی افریقی کرکٹ کو بھی داغدار کرنے میں بھارت ملوث نکلا، غلام بودی فکسنگ کیس میں 2بھارتی سہولت کاروں کے نام سامنے آگئے۔سابق جنوبی افریقہ کرکٹر غلام بودی کیخلاف کرپشن کیس پر پریٹوریا کی کمرشل کرائمز کورٹ میں کارروائی کا آغاز ہوچکا، وہاں پر جمع کرائے گئے کاغذات میں 2بھارتی باشندوں منیش جین اور عمران مسکان شنجی کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ اسٹیٹ نے بودی کی درخواست ضمانت پر مخالفت نہیں کی، البتہ نہ صرف ان کا پاسپورٹ تحویل میں لے لیا گیا بلکہ انھیں ان پلیئرز سے رابطہ کرنے سے بھی روک دیا گیا جنھیں جنوبی افریقی ٹوئنٹی 20 ایونٹ میں فکسنگ پر اکسایا تھا۔کرکٹ بورڈ کی جانب سے جنوری 2016 میں بودی کو 20 برس کیلیے معطل کردیا گیا تھا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے بتایا گیا کہ جین اور شمجی کا کردار سہولت کاروں کا تھا، انھوں نے پہلے بودی سے رابطہ کیا اور پھر انھیں بھارت کی غیرقانونی سٹہ مافیا سے ملوایا۔بودی نے جنوبی افریقی سیزن شروع ہونے سے 2ماہ قبل اگست 2015میں بھارت کا دورہ کیا، وہاں پر ان کی جین، شمجی اور سنڈیکیٹ کے ممبران سے ملاقات ہوئی۔ انھیں بتایا گیا کہ جو پلیئرز اسپاٹ فکسنگ میں حصہ لیں گے انھیں ایک میچ کے 44ہزار سے 52ہزار ڈالرملیں گے، اس کیساتھ تحفے میں قیمتی گھڑیاں بھی دی جائینگی، بودی کو پلیئرز کو کرپٹ بنانے کے عوض ایک میچ کے 11ہزار ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔وہاں سے واپسی پر بودی نے ڈومیسٹک ٹیم لائنز کے کھلاڑیوں کو شکار کرنے کی کوشش کی جہاں پر 2014-15کے سیزن میں اپنی آخری فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے سبب ان کے دوست موجود تھے، 6 میں سے 5 پلیئرز بودی کے بہکاوے میں آئے۔

عدالت میں پیش کیے گئے کاغذات کے مطابق اگرچہ اس ایونٹ کا کوئی بھی میچ فکسڈ نہیں تھا تاہم ایسا کرنے کی کوشش ہوئی تھی۔ اس کیس کی سماعت اگلے ماہ ہوگی جس میں بودی بھی دوبارہ پیش ہونگے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -