این اے133، انتخابی مہم تیز ،امیدواروں کی مسائل حل کرانے کی یقین دہانی

این اے133، انتخابی مہم تیز ،امیدواروں کی مسائل حل کرانے کی یقین دہانی

  

 این اے 133 میں واقع شاہ دی کھوئی میں انتخا بی امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمپین کا سلسلہ جاری ہے ،امیدواروں نے گھر گھر جا کر ووٹ ما نگنے شروع کر دیئے ۔ اس علاقہ میں ووٹرز کی تعداد کم از کم بارہ ہزار ہے ۔ اس علا قہ کی سب سے اہم با ت یہ ہے کہ اب تک جتنے بھی انتخابا ت ہوئے ہیں امیدواروں کی جانب سے کئے گئے دعوے صرف دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں یہ علاقہ مسائلستان بن کر رہ گیا ہے اب تک کسی نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی اور اب جب ایک مرتبہ دوبارہ انتخابات ہونے جارہے ہیں امیدواروں نے ایک مرتبہ دوبارہ یہاں کے رہائشیوں کوسنہرے خواب دکھانا شروع کردئیے ہیں کہ ان کے مسائل کامیاب ہوتے ہی حل کردئیے جائیں گے اگر اس علاقہ کی پسماندگی کی بات کی جائے تو یہاں پر کوئی بھی سہولت عوام کو میسر نہیں ہے اور جگہ جگہ پر مسلسل گندا پانی کھڑا رہتا ہے ایک مرتبہ بارش ہونے کے بعد کئی دن تک پانی نہیں جاتا اور کوئی بھی اس جانب توجہ نہیں دیتا جس سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ سیوریج کا کوئی نظام نہیں ہے اورگندگی کے ڈھیربھی لگے ہوئے ہیں صفائی کا انتظام نہیں ہے جبکہ بجلی کی تاریں لٹکتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں مگر حکمرانوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی اور پانچ سال قبل جب ان امیدواروں نے اس علاقہ کا رخ کیا تھا تو اس وقت کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں اس حوالے سے کوئی بھی ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ سڑکیں بھی ناقص میٹریل سے بنائیں گئیں ہیں جو شدید بارش کے بعد بیٹھ جاتی ہیں اور کسی حادثہ کا خدشہ رہتا ہے اور اب تک کئی حادثات ہوبھی چکے ہیں ایسی صورتحال میں اب یہاں کے عوام شدید مایوسی کا شکار ہیں اور اب جو بھی ان سے امیدوار ووٹ لینے کے آتا ہے پہلے وہ ان سے ان کی سابقہ کارکردگی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور پھر ان سے کہتے ہیں کہ آپ نے کچھ نہیں کیاجبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز چوہدری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی حلقہ 133 پرویز ملک نے ایک مرتبہ دوبارہ یہاں کے عوام کو سنہرے خواب دکھائے اور ان کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اب کسی صورت ان کو مایوس نہیں کریں گے بس ان کو کامیابی دلوائیں جو انکی پسماندگیاں ہیں ان کو دور کیا جائے گا اس صورتحال کے بعد اب یہاں کے عوام ایک مرتبہ دوبارہ ان پر اعتمادکرنے پر مجبور نظر آتے ہیں او ر اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور ایک عرصہ سے یہاں کے مسائل پر کامیابی کے بعد توجہ دیتا ہے کہ ایک مرتبہ دوبارہ اس کو ماضی کی طرح نظر انداز کردیا جاتا ہے اور پھر پانچ سال کے بعد اس حلقہ کے عوام اس وقت کے امیدواروں سے یہ سوال کرتے نظر آئیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے مگر انکی مجبوری بھی ہے کہ کسی نہ کسی پر تو انہوں نے اعتبار کرنا ہی ہے جیسے کہ ماضی میں وہ کرچکے ہیں مگر اس مرتبہ وہ ان امیدواروں سے ان کی سابقہ کارکردگی بارے سوالات کرکے ان سے حساب مانگ رہے ہیں جو خوش آئند بات ہے اور امید ہے کہ یہ امیدوار اب کامیاب ہوکر ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا اظہار کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -