این اے136، مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی میں مقابلہ سخت برادریاں بھی میدان میں کود پڑیں

این اے136، مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی میں مقابلہ سخت برادریاں بھی میدان میں کود ...

  

مانگا منڈی (نمائندہ ملک ممتاز حسین )

حلقہ این اے136میں کانٹے دار مقابلہ انتخابی سرگرمیاں عروج پر امیدوار جیت کیلئے پرعزم بڑی دو سیاسی پاڑٹیوں نے ایک ہی برداری کو ٹکٹ جاری کر دئیے مسلم لیگ ن کی طرف سے ملک محمد افضل کھوکھر اسی حلقہ سے دو دفعہ ایم این اے منتخب ہونے والے سابق ایم این اے ملک محمد افضل کھوکھر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سیاست میں نئے آنے والے ملک اسد علی کھوکھر کو ساتھیوں کے بغیر مشور ہ کے ٹکٹ جا ری کر دیا تیسرے امیدوار سب سے پرانی اور بڑی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی نے بھی اس حلقہ سے پہلی دفعہ الیکشن میں حصہ لینے والے راجپوت برداری کے نامزد امیدوار رانا جمیل احمد منج کو آصف علی زرداری نے خود ٹکٹ جاری کیا تھا اس وقت مقابلہ تحریک انصاف کے امیدوار ملک اسدعلی کھوکھر اور مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار ملک محمد افضل کھوکھر کے درمیان کانٹے دار مقابلہ چل رہا ہے دونوں امیدوار کا تعلق ایک ہی کھوکھر برداری سے ہے اگر دیکھا جائے تو کھوکھر برداری دونوں دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اس کے علاوہ دوسری برداریوں کا تعلق کسی ایک پارٹی کے ساتھ نظر نہیں آرہی ہے بلکہ مختلف برداریوں دھڑوں میں تقسیم ہوکر کھوکھر برداری کے امیدواروں کے ساتھ چل رہی ہیں پیپلزپارٹی کے امیدوار رانا جمیل احمد منج کا تعلق راجپوت منج برداری سے ہے اس حلقہ سے اگر راجپوت برداری ساتھ رانا جمیل احمد منج کا ساتھ نہیں دے رہی ہے رانا جمیل احمد منج کچھوے کی رفتار کی طرح چل کر اندر خانے انتخابی مہم زور سے چلا کر پیپلزپارٹی کے سوئے ہوئے کارکنوں کو جگا دیا ہے حلقہ کی غیریب عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے حلقہ کی غیریب عوام رانا جمیل احمد منج کیلئے خصوصی دعائیں اورخود اپنی مدد کے آپ کے انتخابی مہم چلا کر پیپلزپارٹی اور مخترمہ شہید بے نظیر کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں اس لیے وہ بھی مضبوط امیدوار نظر آرہے ہیں اور رانا جمیل احمد منج کامیابی کیلئے پرامیدوار ہیں رانا جمیل احمد منج کہتے ہیں کہ پہلے پیپلزپارٹی نے اسی حلقہ سے 13ہزار ووٹ حاصل کیے تھے مگر اس دفعہ میں انشاء اللہ چار گناہ ووٹ حاصل کروں گا مگر دیکھنے میں حقیقت تو یہ ہے کہ مقابلہ تو صرف تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے دار ہے اس وقت حلقہ این اے136میں انتخابی مہم میں بہت تیزی دفاتروں میں پارٹی ترانے گونج رہے ہیں انتخابی مہم الیکشن قریب آتے ہی رونقیں بڑھی گئی دفاتروں میں بیٹھے والے الیکشن کیمپین چلانے والوں کیلئے دونوں پارٹیوں کی طرف سے کھانے پینے کا انتظام وافر مقدار میں کر رہے ہیں لیکن یہ بھی نظر آرہا ہے کہ کھانا پینا تحریک انصاف کے دفتر سے اور ووٹ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ملے گا اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے کئی دفتروں سے عوام کھانا کھاتے نظر آرہے ہیں مگر ووٹ تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی کو دیں گے کھوکھر اس حلقہ سے پہلے دو دفعہ بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں اس دفعہ حلقہ این اے136سے ملک محمد افضل کھوکھر اور حلقہ این اے135سے ملک محمد افضل کھوکھر کے بھائی ملک سیف المکوک کھوکھر بھی مسلم لیگ ن کی طرف سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں آپ کو ایک بات اور کی وضاحت کرو کے حلقہ این اے135کے نیچے دو ایم پی اے بھی کوئی اور نہیں بلکہ سابقہ ایم این اے ملک محمد افضل کھوکھر کے بھتیجے ہی ہے صوبائی حلقہ پی پی161سے فیصل سیف کھوکھر اور پی پی حلقہ173سے ملک عرفان شفیع کھوکھر بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان چاروں حلقوں کی کمان ان کے بڑے بھائی ملک محمد شفیع کھوکھر کر رہے ہیں مگر اس وقت ملک محمد افضل کھوکھر کی الیکشن مہم2013والی نہ ہے چاروں حلقوں سے الیکشن لڑنے کی وجہ سے الیکشن مہم بہت کمزور نظر آرہی ہے دوسری طرف تحریک انصاف کے الیکشن میں نئے نامزد امیدوار ملک اسد علی کھوکھر الیکشن مہم بہت تیزی سے چلا رہے ہیں انہوں نے ورکروں نے دن رات ایک کرکے رکھا ہے کیوں کہ وہ صرف حلقہ این اے 136سے ہی ایم این اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں انکے بھائی ملک مدثر علی کھوکھر بھی چوہنگ سے سابقہ ناظم رہ چکے ہیں اور ان کے ایک بھائی ابھی ملک مبشر علی گوگا ابھی یونین کونسل258سے چیئرمین منتخب ہوئے ہے اور خرچہ کی طرف نظر دوڑائی جائے تو اس میں بھی ملک اسد علی کھوکھر آگے چل رہے ہیں دونوں کا مقابلہ 19اور 20کے درمیان ہوتا نظر آرہا ہے دونوں سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے دفتروں کو مکمل طور پر بینزفلیکسوں ہوڑدنگ بورڈز لگا کر دلہن کی طرح سجا رکھا ہے اور آخر ہفتہ میں کارکنوں اور غربا طبقہ کو خوب بریانی سے تواضع کیا جا رہا ہے ہر ایک دفتر میں روزانہ چکن قورمہ،بریانی کی دیگن پکائی جا رہی ہیں آخر ہفتہ میں بلے اور شیر میں گھمسان کی جنگ جاری ہو چکی ہے فیصلہ 25جولائی کی رات کو ہو گا ایک طرف سیاست میں پرانے کھلاڑی میدان میں اترے ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف کے امیدوار اس حلقہ اور سیاست میں پہلے کھلاڑی میدان میں اُترے ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ ان کا چیئرمین اور کپتان 20سالہ پرانا کھلاڑی ہے اس لیے ان کی بھی توقع ہو سکتی ہے یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ حلقہ این اے136ضلع لاہور کا آخری حلقہ ہے یہ حلقہ لاہور پسماند ترین حلقوں میں شمار ہوتا ہے کیوں کہ اس حلقہ کی زیادہ تر تقریباً70فیصد آبادی دیہادتی گاؤں اور چھوٹی بستیوں اور آبادیوں پر مشتمل ہیں اور 30فیصد عوام قصبوں پر مشتمل ہے جو کہ چوہنگ قصبہ تحصیل رائیونڈ کا شہری علاقہ اور مانگا قصبہ جو کہ شہر علاقہ کہلاتا ہے مگر نہ ٹاون نہ تحصیل والی کوئی سہولت ہے مگر یہ ضرور کہ ان تینوں قصبوں سے جو امیدوار لیڈے لیکر نکلے گا وہی کامیاب ہو گا یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ الیکشن 2013والی کیمپین ختم ہو چکی ہے اس دفعہ کسی بھی جماعت کا امیدوار نہ تو کسی گاؤں اور بستیوں اور قصبوں میں جاکر گھر گھر گلی گلی محلوں اور مین بازاروں میں جاکر کنڈی کھڑا کر ووٹ مانگ رہا ہے بلکہ جلسوں اور چھوٹے چھوٹے اکٹھ پر جاکر خطاب کرکے ووٹ مانگ رہے ہیں کسی بھی امیدوار نے نہ مانگا منڈی شہر کے دوکانداروں سے ملاقات اور رابطہ کیا ہے بلکہ دوکاندار خود مسلم لیگ ن کے تحریک انصاف کے امیدواروں کو خود بلا کر اور کھانے پینے کا اہتمام کرکے کہہ رہے ہیں ہم نے آپ کو ووٹ د ے رہے ہیں مہربانی فرما کر آپ ہمارے ووٹ قبول کر لیں اور ہماری پہنچان رکھیں اس حلقہ این اے136میں دو صوبائی حلقہ شامل ہے پی پی171مانگا منڈی سے شروع ہوکر چوہنگ کے علاقہ ازمیر ٹاون تک ہے اس حلقہ کل28امیدوار میدان میں ہے اس حلقہ پی پی 171میں 4امیداروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ پھنس چکا چاروں امیدوار دن رات ایک کرکے انتخابی مہم چلا رہے ہیں تحریک انصاف کے رانا جاوید عمراور مسلم لیگ ن کی طرف سے کرنل (ر)رانا محمد طارق ہے کرنل (ر) رانا محمد طارق اس حلقہ سے پہلے 2دفعہ الیکشن لڑ چکے ہیں اور ہار ہی انکا مقدر بنی2002میں مسلم لیگ ق کی طرف سے 2008میں پیپلزپارٹی کی طرف سے الیکشن ہار چکے ہیں اور اب تیسری دفعہ مسلم لیگ ن کی طرف سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہے سابق کارکردگی کی وجہ سے لوگ ان کو ووٹ نہیں دے رہے بلکہ مسلم لیگ ن کے متوالے میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے منہ اور مسلم لیگ ن کو زندہ رکھنے کیلئے مجبوراً ووٹ دے رہے ہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے امیدوار رانا جاوید عمر دن رات ووٹ مانگ رہے ہے دوسری طرف گجر برداری ،آرائیں برداری،راچیوت برداری،بھٹی برداری شامکی بھٹیاں سے خاص تر دھڑے اور جٹ برداری کے کئی دھڑے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرکے ووٹ مانگ رہے ہے اسی طرح پی پی حلقہ 171سے تحریک لبیک یا رسول اللہ کی طرف سے دو گروپوں میں تقسیم ہو کر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اشرف جلالی گروپ سے طرف سے چوہنگ کا رہائشی محمد لطیف مرتضائی جس کا انتخابی نشان توپ ہے اور خادم رضوی گروپ کی طرف سے جلیانہ گاؤں کے رہائشی حاجی محمد نواز عرف گڈو الیکشن میں حصہ لے رہے ہے یہ بھی دونوں امیدوار روز شور سے ووٹ مانگ رہے ہے حلقہ کی عوام ان دونوں امیدواروں کو بھی ووٹ دے رہی ہے اسی طرح پی پی172میں اس وقت چار امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ پھنس چکا ہے آزاد امیدوار عبدالرشید بھٹی تحریک انصاف کے خالد محمود گجر مسلم لیگ ن کے مرزا جاوید اور آزاد امیدوار صفدر نمبر دار میو کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے محمد خالد گجر پہلے بھی اس حلقہ سے تحریک انصاف کی ٹکٹ سے 2دفعہ الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں پہلی دفعہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے مدمقابل الیکشن لڑ ناکام ہو گئے دوسری اسی حلقہ سے شہباز شریف نے یہ سیٹ چھوڑ دی ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری گلزار گجر اور تحریک انصاف کے خالد گجر کے درمیان مقابل ہوا مسلم لیگ ن کے امیدوار گلزار گجر جیت گئے پی پی172میں مسلم لیگ ن کی طرف سے غیر سیاسی اور حلقہ میں تعلق نہ رکھنے والے مرزا جاوید ن لیگ کی طرف سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہے مقابلہ صرف آزاد امیدوار عبدالرشید بھٹی اور تحریک انصاف کے خالد گجر کے درمیان ہوتا ہوا نظر آرہا ہے سابق صوبائی وزیر عبدالغفور میو بھی تحریک انصاف میں شامل ہوکر خالد گجر کے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -