بد انتظامی ، مار خور کی تصویر ، مہنگے کرایوں پر پی آئی اے اور سول ایقی ایشن کو نوٹس

بد انتظامی ، مار خور کی تصویر ، مہنگے کرایوں پر پی آئی اے اور سول ایقی ایشن کو ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے بدانتظامی ، مارخور کی تصویراور مہنگے کرایوں پر پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے ، 42 مہمانوں کو ایئر سفاری پر لے جانے پر سی ای او کو کرایہ خود ادا کرنے کا حکم،کے الیکٹرک کو کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے سے متعلق اقدامات کی ہردو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم،انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق کیس کی سماعت اگست کے دوسرے ہفتے تک ملتوی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے اسلام آباد سے اسکردو کے پی آئی اے کے مہنگے کرایوں پر پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پی آئی اے ائیر سفاری بد انتظامی اور مارخور کے نشان سے متعلق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے تقرری، تنخواہ اور مراعات لینے سے متعلق معاملہ نیب کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اتوارکو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو اسلام آباد سے اسکردو کے پی آئی اے کے مہنگے کرایوں،پی آئی اے ایئر سفاری میں بد انتظامی اور مارخور کے نشان چھاپنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد سے اسکردو کے پی آئی اے کے مہنگے کرایوں پر عدالت برہم ہوگئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے نجی ایئر لائنز کو بھی شمالی علاقہ جات میں آپریٹ کرنے کی اجازت دیں۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ شمالی علاقہ جات کے لوگ ملک سے محبت کرتے ہیں۔ مہنگے کرایوں سے شمالی علاقہ جات کی سیاحت بھی متاثر ہوتی ہے لوگوں نے جانا چھوڑ دیا ہے۔ صرف یکطرفہ کرایہ 12 ہزار 3 و روپے مسافروں کے ساتھ ذیادتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام رو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اتنے مہنگے کرایوں پر سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اس کرائے پر نظر ثانی کریں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں ائیر سفاری پر کون کون گیا، اجازت کس نے دی۔ سی ای او پی آئی اے مشرف رسول نے بتایا کہ کل 112 مسافر تھے جن میں 42 مہمان مسافر تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کیا ان 42 مہمان مسافروں سے کرایہ لیا گیا۔ سی ای او پی آئی اے نے بتایا کہ ان 42 مہمان مسافروں سے کرایہ نہیں لیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 42 مہمان مسافروں کو کس نے منتخب کیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہیں۔ مشرف رسول نے بتایا میری 14 لاکھ تنخواہ ہے۔ عدالت نے سی ای او کو 42 مہمان مسافروں کے اخراجات ذاتی تنخواہ سے ادا کرنے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ان کی تقریری کے لیے کابینہ کے اجلاس کا کیا ہوا۔ کیوں نہ ایسے افسر کو معطل کر کے دوسرے کو تعینات کردیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے منع کیا تھا کہ مارخور کا نشان نہ لگائیں اور لگائے گئے نشان ہٹائیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل اسلام آباد سے کراچی آتے ہوئے بھی مارخور کا نشان دیکھا۔ سی ای او نے کہا کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہماری وجہ سے کون سا کام روکا ہوا ہے۔ سی ای او نے کہا کہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ہم کوئی غلط کام نہیں کر رہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سفارش پر بھرتی ہو کر ایسے کام کرتے ہیں۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق سماعت ہوئی۔ کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے کیا اقدامات کیے؟ جس پر کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہائی لاسز والے علاقوں کو لو لاسز میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے سے متعلق کے الیکٹرک کو اقدامات کی ہر 2 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ دریں اثناسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں ڈاکٹر ادیب رضوی اور دیگر پیش ہوئے۔ ڈاکٹر ادیب رضوی نے کہا کہ غیر قانونی پیوند کاری کی روک تھام سے متعلق قانونی ڈرافٹ تیار کر لیا۔ قانونی سفارشات بھی تیار کرلی گئی ہیں۔ کمیٹی نے قانونی سفارشات عدالت میں پیش کردیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی نے بتایا کہ منیر اے ملک مزید دلائل دینا چاہتے ہیں مگر وہ دستیاب نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم ڈاکٹر ادیب رضوی اور دیگر ممبر کمیٹی کی رپورٹ کو آرڈر کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ آرڈر کے وقت منیر اے ملک کو عدالت میں پیش ہونا چاہیں۔ عدالت نے سماعت اگست کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید :

علاقائی -