24جون تا 21 جولائی ، الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 779افراد گرفتار

24جون تا 21 جولائی ، الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 779افراد گرفتار

  

لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب پولیس نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 24جون 2018 سے لے کر 21جولائی 2018تک مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے خلاف 802 مقدمات درج کر کے779 کارکنوں اور ساتھیوں کو گرفتار کیا۔تفصیلات کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرتحریک انصاف کے خلاف182مقدمات، پاکستان مسلم لیگ ن کے خلاف198، متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف285،پیپلز پارٹی کے خلاف22اور آزاد امیدواروں کے خلاف 115مقدمات درج کر کے تحریک انصاف کے 143 ، پاکستان مسلم لیگ ن کے242،متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے 275، پیپلز پارٹی کے16جبکہ آزاد امیدواروں کے 103کارکنوں اور ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے خلاف اسلحہ کی نمائش پر 187مقدمات ، آتش بازی پر 66، بغیر اجازت کارنر میٹنگ پر58،غیر قانونی ریلی پر 50، دفعہ 144کی خلاف ورزی پر 54، لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر119، اقدام قتل پر 7، 4thشیڈولرز کے خلاف 5، غیر قانونی سائز کے بورڈ لگانے اور دیگر خلاف ورزیوں پر144 مقدمات درج کیے گئے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام افسران انتخابات کے پر امن ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے فرائض غیر جانبداری اور دیانت داری سے ادا کریں اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مقام و مرتبے کا لحاظ کیے بغیر مقدمات درج کریں جبکہ شر پسندوں اور سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور اسلحہ کی نمائش ، ہوائی فائرنگ یا کسی بھی قانون شکنی کے مرتکب شخص یا جماعت کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی سی پی او سمیت تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز حساس پولنگ سٹیشنز کے گردو نواح میں سرچ سویپ اور کومبنگ آپریشنز کو تیز کریں بلکہ ان علاقوں میں پٹرولنگ کو بھی بڑھایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولنگ کے دن تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور نفری کو ڈیوٹی کے آغاز سے قبل اور دوران ڈیوٹی کے بارے میں نہ صرف بریف کرتے رہیں بلکہ ان کی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنائیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ چیکنگ اور سرچ اینڈ سویپ آپریشن کے دوران اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ شریف شہریوں کو کم سے کم تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔

ضابطہ ؍ گرفتاریاں

مزید :

علاقائی -