الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں روکنے میں ناکام

الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں روکنے میں ناکام

  

اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں روکنے میں ناکام ہوگیا ہے انتخابی مہم شروع ہونے سے اب تک پورے ملک میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مجموعی طور پر11ہزار93خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جبکہ امیدواروں کے خلاف ضابطہ2لاکھ 18ہزار بینرز اتارے جا چکے ہیں ،سیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیا پر دیگر جماعتوں کے خلاف پراپیگنڈوں پر مبنی اور توہین آمیز تقاریر کا سلسلہ بند نہ ہوسکا ،پیمرا بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے ۔الیکشن ایکٹ 2017میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے سخت قوانین متعارف کرانے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھرپور مشاورت کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان عام انتخابات کیلئے تیار کئے جانے والے انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق اگلے عام انتخابات کیلئے جاری مہم کے دوران چاروں صوبوں میں انتخابی ضابطہ اخلا ق کی مجموعی طور پر 11ہزار 93بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں سب سے زیادہ 5ہزار 725خلاف ورزیاں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کی گئی ہیں مگر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے محض 38امیدواروں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ 1340 امیدواروں کو شوکاز نوٹسز اور 248خلاف ورزیوں پر وارننگ دی گئی ہے انتخابی مہم کے دوران پنجاب میں مجموعی طور پر 1لاکھ بینرز ،امیدواروں کی جانب سے بنائے گئے خلاف ضابطہ ہورڈنگز اتارے گئے ہیں دستاویزات کے مطابق صوبہ سندھ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی 3ہزار 144خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور صرف 1امیدوار پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے سندھ میں 672امیدواروں کو شوکاز نوٹسز جبکہ 103امیدواروں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر وارننگ دی گئی ہے سندھ میں امیدواروں کے خلاف ضابطہ70ہزار بینر اور بڑے بڑے ہولڈنگز اتارے گئے ہیں ،خیبر پختونخوا میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی مجموعی طور پر 2ہزار 87خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں اور4امیدواروں پر جرمانے عائد کئے گئے ہیں جبکہ 315امیدواروں کو شوکار نوٹسز اور 51امیدواروں کو وارننگ دی گئی ہے مہم کے دوران 45ہزار کے قریب امیدواروں کے بینرز اور ہولڈنگز اتارے گئے ہیں بلوچستان میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی 137خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں 3امیدواروں کے خلاف نوٹسز جبکہ 2 امیدواروں کو وارننگ دی گئی ہے اور3ہزار کے قریب بینرز اور ہولڈنگ اتارے گئے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان ،پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری ،جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،پاکستان مسلم لیگ ن کے سپیکر قومی اسمبلی سردار آیاز صادق سمیت اہم رہنماؤں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کئے گئے ہیں اس وقت الیکشن کمیشن کو ریٹرننگ افسران اور مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے 109ریفرنسز بھجوائے گئے ہیں جن میں 30پنجاب سے ،37خیبر پختونخوا سے ،5بلوچستان سے اور 37ریفرنسز سندھ سے بھجوائے گئے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے 14ریفرنسز ،خیبر پختونخوا کے 22ریفرنسز اور سندھ کے 14ریفرنسز کی ابتدائی سماعت کے بعد امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے تحریری جواب طلب کیا گیا ہے انتخابی مہم کے دوران مختلف نجی ٹی وی چینلز پر بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایسے اشتہارات چلائے جا رہے ہیں جس میں دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کے خلاف توہین امیز الزامات اورپراپیگنڈے کا سلسلہ بھی جاری ہے الیکشن کمیشن نے میڈیا پر چلائی جانے والی توہین امیز اشتہارات کو روکنے کیلئے پیمرا کو بھی ہدایات جاری کی تاہم اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ۔

انتخابی ضابطہ اخلاق

مزید :

علاقائی -