سرینگر ، بھارتی فوج ، ریاستی پولیس کی فائرنگ ، تشدد سے 4کشمیری شہید ، احتجاج ، نعرے بازی انٹر نیٹ سروس معطل

سرینگر ، بھارتی فوج ، ریاستی پولیس کی فائرنگ ، تشدد سے 4کشمیری شہید ، احتجاج ، ...

  

سرینگر،جموں(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی بدستور جاری ہے‘حالیہ فائرنگ اور تشددکے نتیجے میں مزید4 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی قابض فوج نے ضلع کلگام میں سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے 3 نوجوانوں کو شہید کردیا‘فوج نے نوجوانوں کی شہادت کے بعد کشیدگی کے پیش نظر علاقے کا مکمل محاصرہ کرلیا اور علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں سہیل احمد اور مدثر بٹ کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔فوجیوں نے سہیل احمد اور مدثر بٹ کو اتوار کے روز صبح سویرے ضلع کولگام کے علاقے کھڈونی میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک اور نوجوان کے ہمراہ شہید کیا تھا۔ شہید نوجوانوں کو انکے آبائی علاقوں ریڈ ونی اور کٹرسو میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک تھے۔شہید سہیل احمد کی نماز جنازہ کے دوران تین مجاہدین نے نمودار ہو کر ہوا میں گولیوں کے متعدد راؤنڈ چلا کر شہید کو سلامی دی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں 40سالہ جاوید احمد ملک کو دوران حراست شہید کردیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ڈوڈہ کے علاقے بہارت سے تعلق رکھنے والے جاوید احمد ملک کو جمعہ کوچھاترو پولیس سٹیشن میں شہید کیاگیا۔ جاوید کے ایک رشتہ دار محمد عبداللہ بانڈے نے کشتواڑ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقتول عدالتی ہدایات کے تحت مویشیوں کی سمگلنگ کے کیس میں گرفتار اپنے کسی جاننے والے شخص کی درخواست ضمانت کے حوالے سے پولیس کی رپورٹ حاصل کرنے کے لیے چھاترو کے پولیس سٹیشن پر گیا تھا۔ انہوں نے کہا رپورٹ دینے کے بجائے پولیس نے 5000روپے کی رشوت نہ دینے پر جاوید کوہی غیر قانونی طورپر نظربند کردیا۔ انہوں نے کہاکہ منت سماجت کے باوجود پولیس نے جاوید کو رہا نہیں کیااور انہیں جمعے کو جاوید کے حراستی قتل کا پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیدھا قتل کا کیس ہے اور ہم چھاترو کے ایس ایچ او ،منشی اور دیگر مجرموں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشتواڑ کا ایس پی من گھڑت کہانی سناکر مجرموں کی سرپرستی کرتا ہے جوسچ سے کوسوں دور ہے۔ کشتواڑجامع مسجد کے امام نے جاوید احمد ملک کے قتل کو بہیمانہ قراردیتے ہوئے مقتول کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ دریں اثناء جاوید احمد ملک کی حراستی شہادت کے خلاف تحصیل چھاترو میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے مقتول کی لاش کو چھاترو کے بس سٹینڈ پر رکھ کردوبچوں کے والد کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مشتعل مظاہرین نے کئی گھنٹے تک سڑک کو بند کردیا۔ مظاہرین پولیس اور انتظامیہ کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔مظاہرین نے پولیس کے اس دعوے کو مستردکردیا کہ موصوف مویشیوں کی سمگلنگ میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس غیر ضروری طورپر لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر مسلم لیگ کے غیر قانونی طورپر نظربند چےئرمین مسرت عالم بٹ کو سرینگر کے نوہٹہ پولیس سٹیشن میں درج جھوٹے کیس کی سماعت کے لیے جموں سے سرینگر لایا گیا تھا جس کے بعد انہیں دوبارہ کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -