جسٹس صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے ، فوج کا مطالبہ ، چیف جسٹس نے ریکارڈ طلب کر لیا

جسٹس صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے ، فوج کا مطالبہ ، چیف جسٹس نے ...

  

راولپنڈی (جنرل رپورٹر ،این این آئی)پاک فوج نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ادراورں کے وقار اورتکریم کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر ے ۔ اتوار کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے گزشتہ روز کی گئی تقریرپر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے جج نے سیکیور ٹی ایجنسیوں پر سنگین الزامات لگائے ہیں ۔ معزز جج نے عدالت سمیت ملک کے اہم ادارے پر سنگین الزامات لگا ئے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ ملکی اداروں کے وقار اور تکریم کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے ۔دریں اثناچیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ جج آئین کے تحت اور قانون کی بالادستی کیلئے کام کر رہے ہیں، ہم پر کوئی دباؤ نہیں، پوری طرح آزاد اور خود مختاری سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ایک جج کے بیانات قابل افسوس ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا، بہت افسوس ہوا۔ اس طرح کے بیانات ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جائزہ لیں گے کیا قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، قانونی کارروائی کریں گے اور حقائق قوم کے سامنے لائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ ججوں پر کوئی دباؤ نہیں۔ انھوں نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔دوسری جانب چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں ٹریٹمنٹ پلانٹ ٹی پی تھری کا افتتاح?کر دیا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں? نے کہا کہ پاکستان میں ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ 70 ہزار کا مقروض ہے، گلگت بلتستان کیعوام نے دیامر بھاشا ڈیم بنانے کی پذیرائی کی، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ آئندہ نسلوں کوبہترپاکستان دے کرجانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں گلگت بلتستان میں بہت وسائل دیئے ہیں، وہاں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں، کیاہم نیان وسائل کی قدرکی۔ چیف جسٹس پاکستان نے سابق جسٹس امیر ہانی مسلم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نیسپریم کورٹ کومایوس نہیں کیا۔

ترجمان پاک فوج

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے بیان کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اپنی گزشتہ روز کی تقریر میں بغیر خوف کے موجودہ صورتحال پر حقائق بیان کیے، جن حقائق کی نشاندہی کی کچھ لوگوں کو اچھے نہیں لگے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ جن حقائق کی بات کی ان کی تصدیق کے لیے کمیشن بنایا جائے، پی سی او حلف نہ اٹھانے والے جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی لکھا کہ کمیشن ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج پر مشتمل ہو اور کمیشن کی تمام کاروائی وکلاء ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے سامنے ہو۔اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ اگر میرے بیان کردہ حقائق غلط ثابت ہوں تو ہر سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں اگر یہ باتیں درست ثابت ہوں تو مداخلت کاروں کیا سزا دی جائے گی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ایک بیان میں موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ جب بھی کوئی اہم فیصلہ دیتا ہوں تو ایک مخصوص گروہ کی جانب سے مہم چلا دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ وہی جج صاحب ہیں جن کے خلاف کرپشن ریفرنس زیرسماعت ہے۔

شوکت صدیقی خط

کراچی(اسٹاف رپورٹر )چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ لوگوں کو بنیادی حقوق پہنچانے کے لیے سپریم کورٹ ہر قدم اٹھائے گی، تمام چیزوں میں کوئی ذاتی مفاد نہیں، آنے والی نسلوں کو بہتر پاکستان دینا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ قوم کے مفاد میں ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے،دو دن بعدالیکشن ہیں کچھ ایسانہیں کہوں گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو، ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں، پانی کا ذخیرہ کرنے اور اسے بچانے کے لیے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت کے لوگ بھاشا ڈیم کے فیصلے پر بہت خوش تھے لیکن اب ہم نے انہیں ان کی شناخت بھی دینی ہے۔ ہم عوام کی فلاح کے لیے چھوٹے چھوٹے کام کر رہے ہیں اور ہمارے اقدامات میں کوئی ذاتی مفاد شامل نہیں ہے، اس وقت پاکستان کا ہر بچہ ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے، ہم اپنے سمندر کو آلودہ کررہے ہیں جو ہم سب کے لیے خطرناک ہے۔ان خیالات اظہار انہوں نے اتوارکو کراچی کے علاقے ماڑی پور میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ(ٹی پی تھری)کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔واٹر پلانٹ کئی سال سے غیر فعال تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے افتتاح کے بعد پودا بھی لگایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن بھی ہورہے ہیں میں بہت محتاط ہوں کوئی ایسی بات نہیں کرناچاہتا۔ میرے بیان سے کسی کی دل آزاری نہ ہوجائے۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کے لیئے سپریم کورٹ ہر اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی اگلی نسلوں کو بچانے کے لیے پانی دینا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ کیا ہم نے اپنے وسائل کی قدر کی۔ ہمیں اپنے لوگوں کے لیے یہ پانی بچانا ہے۔ میری اور میرے ساتھیوں کی کوشش ہے کہ تمام پاکستانی اپنے بنیادی حقوق حاصل کریں۔ پانی آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ گلگت بلتستان میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ گلگت کے لوگ دیامر اور بھاشا ڈیم بنائے جانے پر بہت خوش ہیں۔ چیف جسٹس میں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کے حوالے سے ہماری کئی میٹنگز ہوئی ہیں۔ ہر شخص میٹنگ میں کہہ رہاتھا کہ پانی کے بغیر پاکستان کچھ نہیں۔ ہمیں مستقبل کا سوچنا ہے۔ ہمیں اللہ نے عقل دی ہے۔ ہمیں اپنے پانی کوبچانا ہے۔ پانی کے استعمال کو بھی دیکھنا ہے۔ پانی زندگی کے ساتھ جڑا ہے۔ زندگی اور پانی ایک ساتھ ہیں۔ چیف جسٹس نے کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی میں صفائی کی صورتحال دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔ جس راستے سے گزرا وہ صاف نظر آرہا ہے۔ 6 ماہ پہلے کراچی جیسا تھا اب اس میں تبدیلی آئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا مجھے فخر ہے جسٹس ر امیر ہانی مسلم پر جنہوں نے یہ کام انجام دیئے۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے قوم اور ملک کو مایوس نہیں کیا۔ جسٹس ر امیر ہانی مسلم نے سپریم کورٹ کی لاج رکھی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ اعظم سلیمان نے کہا کہ ایک بڑا کام آج مکمل کیا ہے۔ شہر کے آلودہ ماحول کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ جو ہدف دئیے گئے واٹر کمیشن کی جانب سے اسے پورا کیا۔ 3 ٹریٹمنٹ پلانٹ کراچی میں لگائے جاچکے۔ منصوبہ کی رقم صوبائی اور وفاقی حکومت نے مل کردی۔ 1998 میں صرف پچاس ایم جی ڈی تھی۔ اب نئی تعمیر کے بعد 77 ایم جی ڈی ہو گیا ہے۔ منصوبہ کا اگلا مرحلہ 2019 میں مکمل کرلیا جائیگا۔ ہمارا عزم ہے کہ پانی کی ایک بوند بھی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر برد نہ کریں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نور محمد سمو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو بڑے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ 472 ایم جی ڈی پانی بنا ٹریٹمنٹ کے سمندر برد کیا جارہا ہے۔ 90 ایم جی ڈی سے زائد صنعتی فضلہ الگ سمندر برد کیا جاتا ہے۔ ان تک تین ٹریٹمنٹ پلانٹ سے چار سو ایم جی ڈی پانی کو ٹریٹ کیا جارہا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے بھی ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جارہا۔ ٹی پی ون کی بحالی دسمبر 2018 تک دوبارہ فعال کردیا جائیگا۔ سیوریج واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں سربراہ واٹرکمیشن جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ، آئی جی سندھ، چیف سیکریٹری اور دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ یومیہ 77 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرے گا جس کے ذریعے ملیر، کورنگی، لیاری، ہارون آباد اورماڑی پور کے سیوریج کے پانی کو صاف کرکے سمندر برد کیا جائے گا۔ ٹریٹمنٹ پلانٹ واٹر کمیشن کی ہدایت پر کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ نے تعمیر کیا تھا۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ 180 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پلانٹ کی کل لاگت 36.117 ملین سے زائد ہے۔ منصوبے کو 50 فیصد صوبائی حکومت اور50 فیصد وفاق نے فنڈز دئیے ہیں۔

ٹریٹمنٹ پلانٹ افتتاح

مزید :

صفحہ اول -