بلاول بھٹو کی انتخابی مہم نے مخالفین کو بھی داد دینے پر مجبور کر دیا

بلاول بھٹو کی انتخابی مہم نے مخالفین کو بھی داد دینے پر مجبور کر دیا

  

کراچی (نصیر احمد سلیمی) ذوالفقار علی بھٹو، زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور بھٹو خاندان کی ’’سیاست کے وارث‘‘ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے ریلی کی شکل میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کیا تو ان کی سیاست کے مخالف تو کیا پیپلز پارٹی کے جیالوں کو بھی یہ انداز نہ تھا کہ وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی انتخابی مہم مکمل کرکے دوباری سندھ میں ریلی شروع کرینگے تو حامی تو ایک طرف مخالفین بھی بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی کمپین کی داد دے رہے ہونگے، جنہوں نے زندگی بھر ان کے نانا اور والدہ کی سیاست اور انداز حکمرانی کی مخالفت کی اور خم ٹھونک کر ان کا میدان میں مقابلہ کیا تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جاندار انتخابی مہم اور ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران سے نکلنے کے لئے سنجیدگی کا جو اسلوب اپنایا ہے، اس کا سب ہی اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ اپنے بارے یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے وہ اپنی پارٹی کے سیاسی ’’بیانیہ‘‘ کے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی ملکی سیاست اور سیاست دانوں کو درپیش غیر یقینی صورت حال کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور اس سے نکلنے کے لئے متحارب سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے درمیان ’’جیو‘‘ اور ’’جینے دو‘‘ کے فارمولا پر اشتراک عمل کے خواہش مند ہیں جس نے سیاست میں ان کا قد کاٹھ بڑھایا ہے اور یہ ’’تاثر‘‘ بھی ختم کیا ہے کہ ان کی سیاست ان کے والد آصف علی زرداری کے ہاتھ میں موجود ’’ریموٹ‘‘ کنٹرول کے تابع ہے۔ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کے طوفانی انتخابی دورہ سے پیپلز پارٹی کو ان دو صوبوں میں انتخابی نقطہ نظر سے کتنا فائدہ ہوگا۔ اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ جب بلاول نے کراچی سے اپنے انتخابی حلقہ میں اس سے ریلی کے ذریعہ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا، تو سندھ میں پیپلز پارٹی کے مخالف یہ ’’تاثر‘‘ قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کو 1997-1990 اور 2002ء کی طرح اندرون سندھ سے سب سے زیادہ نشستیں تو حاصل کر بھی لے، تب بھی سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر ’’ طا قتو ر‘‘ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں کامیاب ہونے والوں کا بھان متی ’’کاکنبہ جوڑ کر‘‘ جام صادق علی (مرحوم) کی طرح کا کوئی سنجرانی فارمولا پر پورا اترنے والا وزیراعلیٰ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری پنجاب سے واپس کراچی آتے ہی دوبارہ اندرون سندھ انتخابی مہم پر نکل کھڑے ہوئے۔ جب یہ سطر شائع ہونگی تو وہ تھر پا ر کر ، قلعہ دادو، قلعہ جامشورو سے ہوتے ہوئے اپنے حلقہ انتخاب اور بھٹو خاندان کی سیاست کے ویٹی کن سٹی لاڑکانہ کے قریب ہونگے۔ وہ انتخابی مہم پر نکلے تھے تو لاڑکانہ اور اس سے متصل اضلاع میں پیپلز پارٹی کے بارے میں یہ ’’تاثر‘‘ تھا کہ لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم صوبائی اسمبلی کی چھ نشستوں میں سے تین نشستوں پر لاڑکانہ اتحاد کے حمایت یافتہ امیدواروں کی پوزیشن زیادہ مستحکم اور مضبوط ہے۔ جس میں ایک نشست ان کی پھوپھی اور سندھ کی متوقع وزیراعلیٰ کی امیدوار فریال تالپور کی نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش کے علاقے پر مشتمل نشست بھی تھی، جہاں ان کا مقابلہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور سابق گورنر سندھ ممتاز علی بھٹو کے بیٹے امیر بخش بھٹو سے ہے۔ امیر بخش بھٹو کے پاس ٹکٹ تو تحریک انصا ف کا ہے۔ تاہم ’’جی ڈی اے‘‘ اور لاڑکانہ اتحاد کے بھی وہ مشترکہ امیدوار ہیں۔ ان کی جاندار انتخابی مہم نے اب اس تاثر کو ختم کرانا ہے کہ اس نامہ نگار نے لاڑکانہ کے معروف صحافی معشوق ڈانو سے تازہ صورت حال پر ان کی رائے دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک نشست تو ہار سکتی ہے، باقی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہی صورت قمبر شہداد کوٹ کی قومی اسمبلی کی دو نشستوں کی ہے۔ ضلع جیکب آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورکے سندھ کے سابق گورنر اور سابق سینیٹ کے چیئرمین اور نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو کی نشست کے بارے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ مقابلے کی دوڑ میں آگے ہیں، ان کے علاوہ ضلع کشمور میں پیپلزپارٹی کو ’’جی ڈی اے‘‘ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ضلع کشمور میں تو پیپلزپارٹی کے ایک امیدوار سردار شبیر بجارانی سندھ اسمبلی میں بلامقابلہ کامیاب قرار دیئے جا چکے ہیں۔ پنجاب کی سرحد سے متصل ضلع گھوٹکی میں البتہ پیپلزپارٹی کو سخت مقابلہ کا سامنا ہے، وہاں بھی آزاد ذرائع اباڑو کی نشست پر پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار خالد لوند کی پوزیشن زیادہ مضبوط اور گھوٹکی شہر اور پنو عاقل والی نشست پر پیپلزپارٹی کا ٹکٹ واپس کرکے آزاد امیدوار سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سردار علی محمد مہر دوڑ میں آگے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی سردار علی گوہر خان ان کے چھوٹے بھائی علی نواز خان مہر نے بھی پیپلزپارٹی کے ٹکٹ واپس کر دیئے تھے۔ بڑا بھائی علی گوہر خان ’’جی ڈی اے‘‘ کے ٹکٹ پر علی نواز خان علی محمد خان مہر کی طرح آزاد امیدوار کے طور پر حمایت کر رہا ہے۔ مہر سرداروں کی ایم ایم اے کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے پرانے وفادار پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت میں سابق وزیر سیف اللہ دھاریجو پیپلزپارٹی کو خیرباد کہہ کر ایم ایم اے کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضلع گھوٹکی میں ’’مہر سرداروں‘‘ کا خاندان ’’اپنے قبیلے کی عددی برتری اور اس علاقے میں آباد پنجابی اور اردو سپیکنگ آباد کاروں کی حمایت کی وجہ سے کامیابی کے لئے کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کے علاقے میں عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابوظہبی کے حکمراں ہر سال شکار کے لئے طویل قیام کرتے ہیں۔ علاقے میں ان کے اثر و رسوخ بھی ابوظہبی کے حکمرانوں سے تعلق نے بھی اضافہ کیا ہے اور پنو عاقل چھاؤنی نے بھی۔ جب سب پنو عاقل کی چھاؤنی کی مخالفت کر رہے تھے، تو مہر قبیلے کے سردار خان غلام محمد خان مہر مرحوم نے پنو عاقل چھاؤنی کے قیام کی حمایت کی تھی۔ مہر سردار اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں اور خیرباد کہتے رہتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا جس کا پلہ بھاری ہوگا، حکومت سازی میں مہر سردار اس کا ساتھ دیں گے۔ اس بار کی خاص بات یہ ہے کہ مہر قبیلے کے سردار (مرحوم) خان غلام محمد خان مہر کے اکلوتے بیٹے اور سردار علی گوہر خان، سردار علی محمد مہر اور سردار علی نواز خان کے حقیقی کزن سردار محمد بخش مہر نے پیپلزپارٹی سے ناطہ نہیں توڑا۔ وہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی بناء پر انتخابی عمل سے تو باہر ہو گئے ہیں مگر اس کے باوجود اپنے خاندان کے بڑوں کی پیپلزپارٹی کو خیرباد کہنے کی حمایت کرنے کے بجائے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم کے دوران گھوٹکی میں انہی کے پاس قیام کیا۔ ضلع سکھر میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر سید خورشید شاہ کی پوزیشن تو مضبوط ہے اور ان کی کامیابی کے بارے میں کسی کو شک بھی نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کی دوسری نشست پر سینیٹر اسلام الدین شیخ کے بیٹے نعمان اسلام الدین شیخ کو جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر امیدوار مبین جتوئی سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ سید خورشید شاہ اپنی نشست بچانے کے لئے تو کامیاب ہو جائیں گے مگر ان کو بھی پہلی بار اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے دوسرے امیدواروں کی طرح باقاعدہ الیکشن کو الیکشن کی طرح لڑنا پڑ رہا ہے۔ اس بار سندھ میں کوئی ایک بھی ایسا حلقہ نہ تو سندھ کے شہری علاقوں میں اور نہ ہی سندھ کے دیہی علاقوں میں ہے جہاں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو باقاعدہ سخت مقابلوں کا سامنا نہ ہو۔ ضلع خیرپور کی ایک نشست پر پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما سیدہ نفیسہ شاہ کو جی ڈی اے کے امیدوار سید غوث علی شاہ پر برتری نظر آ رہی ہے تاہم انہیں اپنی نشست حاصل کرنے کے لئے دن رات سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ ضلع خیرپور کی دوسری نشست پر جی ڈی اے کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑو کے چھوٹے بھائی کا پیر نورالدین شاہ راشدی (عرف یونس ستی) مقابلہ کی دوڑ میں آگے ہیں، تاہم مقابلہ سخت ہے۔ قلع شکار پور میں ’’جی ڈی اے‘‘ کے امیدوار غوث بخش مہر کی پوزیشن مضبوط ہے جبکہ قومی اسمبلی کی دوسری نشست پر آزا دامیدوار جتوئی قبیلے کے سردار ڈاکٹر ابراہیم جتوئی کی پوزیشن پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کمزور ہے۔ یہاں ایم ایم اے کے امیدوار مولانا محمد علی امیدوار ہیں، جن کا اس حلقے میں خاصا مضبوط ووٹ بنک ہے۔ ماضی میں اس حلقہ سے مولانا فضل الحق کی جماعت کے امیدوار 35 ہزار تک ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ، دو صوبائی نشستوں پر پیپلز پارٹی اور دو پر ’’جی ڈی اے‘‘ کے امیدواروں کی پوزیشن بہتر ہے۔ پیپلز پارٹی کے آغا سراج درانی اور امتیاز شیخ پرامید ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ بالائی سندھ کے ضلع نوشیرو فروز میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر جی ڈی اے کی امیدواروں کو اپنے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر سبقت نظر آرہی ہے۔ آزاد غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کے مطابق غلام مرتضیٰ جتوئی اور سید ظفر علی شاہ اپنی نشستیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ضلع نواب شاہ میں آصف علی زرداری کی پوزیشن خطرے سے باہر ہے، مگر پیپلز پارٹی کو ان کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کرنا پڑ رہا ہے۔ ضلع تھرپارکر، ضلع میرپور خاص، ضلع سانگھڑ، ضلع بدین، ضلع دادو، ضلع حیدر آباد، ضلع جامشورو اور ضلع ٹھٹھہ میں بھی کئی اضلاع میں پیپلز پارٹی اور کئی اضلاع میں جی ڈی اے اور اس کی اتحادیوں کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

تجزیہ نصیرسلیمی

مزید :

صفحہ اول -