سینیٹرز کے الزامات ، تحفظات بے بنیاد ، الیکشن کمیشن آزاد اور غیر جانبدار ہے : ترجمان

سینیٹرز کے الزامات ، تحفظات بے بنیاد ، الیکشن کمیشن آزاد اور غیر جانبدار ہے : ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے کردار اور فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے سے متعلق سینیٹرز کے تحفظات اور الزامات مسترد،ادارہ مکمل آزاد ، ’ارکان سینیٹ کے تحفظات بے بنیاد اطلاعات پر مبنی ہیں،جن علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جائیگا ان علاقوں میں انتخابات کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں، ایک کروڑ افراد نے اب تک 8300پر ایس ایم ایس سے اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کی ہیں ، 25جولائی کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کسی شخص کو سمارٹ موبائل فون اور کیمرہ لانے کی اجازت نہیں،اپنا اصل شناختی کارڈ ہمراہ لائیں،الیکشن ڈے پر شکایات بذریعہ واٹس ایپ،ای میل وصول نہیں ہونگی، شکایات کے لئے 5فون نمبرزاور 5فیکس نمبرزجاری کردئیے ہیں،الیکشن کمیشن ۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے حوالے سے ادارے کے کردار اور فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے سے متعلق سینیٹرز کے تحفظات اور الزامات کو مسترد کردیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے، جو مکمل غیر جانبداری اور آزادی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ارکان سینیٹ کے تحفظات بے بنیاد اطلاعات پر مبنی ہیں، سپریم کورٹ ورکرز پارٹی کیس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین کرچکی ہے اور پہلی بار سیکیورٹی اہلکار ضابطہ اخلاق اور حلف کے تحت کام کریں گے۔پولنگ اسٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکار کسی بھی غیر قانونی کام کی اطلاع پہلے پریذائیڈنگ افسر کو دیں گے، پریذائیڈنگ افسر کی جانب سے کوئی اقدام نہ اٹھانے پر اہلکار اپنے انچارج افسر کو اطلاع دیں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے انچارج افسر کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات ہوں گے اور فوجی افسر مجسٹریٹ کے اختیارات ضابطہ اخلاق کے تحت استعمال کرے گا۔ اعلیٰ آئینی ادارے پر الزامات لگا کر اس کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جائیگا ان علاقوں میں انتخابات کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔خیبر بختونخوا اور بلو چستان نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے معاہدوں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ جس حلقے میں بھی خواتین ووٹرز کے ووٹنگ کا تناسب 10 فیصد سے کم ہوا تو اس کے نتائج کالعدم قرار دیے جائیں گے۔بلوچستان کے الیکشن کمشنر نیاز بلوچ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت خواتین کو حق رائے دہی سے دور رکھنا جرم ہے، صوبے میں خواتین ووٹرز آبادی کا بڑا حصہ ہیں اور رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 18 لاکھ 22 ہزار 252 ہے۔دوسری جانب صوبائی الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا پیر

مقبول احمد نے کہا کہ خواتین گھروں سے نکلیں اور اپنا حق رائے دہی کا بھرپور استعمال کریں اور اگر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو 3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک کروڑ افراد اب تک 8300پر ایس ایم ایس سے اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات کیلئے ابھی اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر ایس ایم ایس کریں ٗبیان کے مطابق ووٹرز ایس ایم ایس سے حاصل کی گی معلومات اپنے پاس محفوظ کرلیں ٗ یہ معلومات پولنگ کے دن درکار ہوگی۔ بیان کے مطابق اب تک تقریباً ایک کروڑ افراد نے 8300 ایس ایم ایس سے اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کی ہیں ٗووٹرز سے گزارش ہے کہ آخری دن کا انتظار کیے بغیر 8300 پر ابھی اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر اپنے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کریں پولنگ اسٹیشن کی معلومات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے صوبائی ٗ ریجنل اور ضلعی دفاتر میں قائم جنرل الیکشن انفارمیشن سینٹرز سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عوام کو مطلع کیا ہے کہ 25جولائی کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کسی شخص کو سمارٹ موبائل فون اور کیمرہ لانے کی اجازت نہیں ہے ٗ اپنا اصل شناختی کارڈ ہمراہ لائیں ٗ زائد المعیاد قومی شناختی کارڈ بھی قابل قبول ہوگا ٗ مریضوں ،حاملہ خواتین ،معذور افراد ، بزرگ شہریوں اور خواجہ سراؤں کو پولنگ کے عمل میں ترجیح دی جائے گی ٗ پولنگ سٹیشن کی حدود میں داخلے سے پہلے ہر ووٹر کی جامہ تلاشی لی جائے گی ٗکوئی بھی اْمید وار، پولنگ ایجنٹ ،مبصر یا صحافی پولنگ عملہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بحث مباحثہ ٗتکرار سے گریز کرے گا ۔ الیکشن کمیشن نے عوام الناس کو مطلع کیا کہ 25جولائی کو پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شر وع ہوگا اور شام چھ بجے ختم ہوگا ۔ مریضوں ،حاملہ خواتین ،معذور افراد ، بزرگ شہریوں اور خواجہ سراؤں کو پولنگ کے عمل میں ترجیح دی جائے گی ، پولنگ کے مقر رہ وقت کے اختتام کے بعد بھی پولنگ سٹیشن کی حدود میں موجود ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔پولنگ سٹیشن کی حدود میں داخلے سے پہلے ہر ووٹر کی جامہ تلاشی لی جائے گی ۔ کوئی بھی اْمید وار، پولنگ ایجنٹ ،مبصر یا صحافی پولنگ عملہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بحث مباحثہ /تکرار سے گریز کرے گا ۔ پریذائیڈنگ افسر کوموبائل رکھنے کی اجازت ہو گی۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دن شکایات واٹس اپ اورای میل کے ذریعے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فون اورفیکس نمبرزجاری کردیے ہیں۔ پولنگ کے دن شکایات کے لئے الیکشن کمیشن میں سینٹرل مانیٹرنگ اینڈکنٹرول روم قائم کر دیاجو25 جولائی کوصبح6 بجے سے کام کرنا شروع کر دے گا اور پولنگ کے وقت،گنتی سے لیکررات دیرتک مسلسل شکایات کی جاسکیں گی۔ڈی جی ایڈمن بریگیڈیئر(ر)نعیم اکبر کوکنٹرول روم کا انچارج مقرر کر دیا گیاہے جبکہ ایڈیشنل ڈی جی شبرعباس مانیٹرنگ ٹیموں کے انچارج ہوں گے۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کے دن شکایاتیں وصول کرنے اورمانیٹرنگ کے لیے 12 ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور شکایات فون اورفیکس نمبرکے ذریعے کی جاسکیں گی۔ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔کراچی کے علاوہ سندھ بھرمیں بیلیٹ پیپرزکی ترسیل اور پولنگ بیگزکوحتمی شکل دے دی گئی ۔ سندھ میں عام انتخابات 2018 کے لئے تیار کی گئی مجوزہ پولنگ اسکیم میں 17ہزار840پولنگ اسٹیشن اور 56ہزار814پولنگ بوتھ تجویز کئے گئے ہیں مجوزہ پولنگ اسکیم کے مطابق 29ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آراوز) اور191ریٹرننگ افسران(آر اوز)ہیں جبکہ پریذائیڈنگ افسران(پی اوز) ،پولنگ افسران(پی اوز) ،اسسٹنٹ پریذئیڈنگ افسران (اے پی اوز) اور نائب قاصدین کی تعداد 2لاکھ6ہزار439ہے ۔ جن میں

2لاکھ6ہزار122مجوزہ یقینی عملہ اور 10ہزار317ممکنہ اضافی عملہ ہے۔

مزید :

صفحہ اول -