انتخابات میں کسی مخصوص پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے : حیدر ہوتی

انتخابات میں کسی مخصوص پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ...

  

نوشہرہ ( نمائندہ پاکستان )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ انتخابات میں کسی مخصوص پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح عوامی نیشنل پارٹی کو بھی نادیدہ قوتوں کی دراندازی پر تحفظات ہے لیکن اس کے باوجود میدان خالی نہیں چھوڑ سکتے اور بھرپور مقابلہ کریں گے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور پارٹی کارکن 25 جولائی دھاندلی کے تمام منصوبے ناکام بنائیں گے الیکشن کے روز عوام اور پارٹی کارکن اپنا ووٹ ضرور پول کریں تاکہ تحریک انصاف کی سازش اور بے بنیاد سٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے پروپیگنڈے پھیلانے والے عناصر کو بھرپور سبق سکھایاجاسکے نوشہرہ کے عوام نے ہمیشہ تمام سیاسی جماعتوں کو عزت دی اور انہیں کامیاب کرایا لیکن ماں بہن کی گالی دینے والوں کو سبق سکھانا بھی جانتے ہیں جس پارٹی نے پرویز خٹک کو عزت دی اور وزیراعلیٰ کے عہدے تک پہنچایا اب ان کو گالیاں دے رہے ہیں یہ کونسی شرافت ہے پاکستانی سیاست میں عمران خان اور پرویز خٹک کے علاوہ کسی دوسرے سیاسی رہنما نے اتنی غلیظ زبان ابھی تک استعمال نہیں کی دونوں رہنماؤں کو ایسے حرکات پر اللہ ہدایت نصیب کریں اور ہمیں ایسی زبان درازی سے بچائیں پرویز خٹک کو بھی اپنی شکست نظر آنے کے بعد دوسروں کا سہارا اور اشاروں کا منتظر ہے لیکن 25 جولائی کے دن کے انتخابات میں صرف انسان ہی ووٹ ڈالیں گے جن میں عمران خان کی شکست یقینی ہے صحت ایمرجنسی نافذکرنے والے وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں کوئی بڑا ہسپتال نہ بناسکے اور اپنا علاج کیلئے راولپنڈی کے ہسپتال میں علاج کرنے پر مجبورہوئے ہم کسی کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر کامیابی حاصل کریں گے خیبرپختونخوا کے عوام نے اے این پی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن ایسے بزدلانہ حملوں سے ڈرنے والے نہیں عوامی نیشنل پارٹی کامشن جاری رہے گا اے این پی کے لیڈروں اور کارکنوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی حالیہ عام انتخابات پختون قوم کی بقاء کے لئے لڑ رہے ہیں اس انتخابات میں ملک کے دیگر تین صوبوں کے عوام کی ترقی کے لئے جبکہ پختون قوم کی بقاء کا فیصلہ ہوگا ملک کی چند نادیدہ قوتیں پختون قوم کو محکوم بنانے کی ایک ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے جو عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی جو ظلم پختون قوم کے ساتھ ہونا تھا وہ ہو چکا اب مزید پختون قوم کو محکوم بنانے اور پختونوں کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اب پختون قوم اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے متحد ہوچکے ہیں پختونوں کا شیرازہ بکھرنے کا خواب چکنا چور ہوجائے گا ان خیالات کااظہارانہوں نے نوشہرہ میں سابق وفاقی وزیر میاں مظفر شاہ ایڈوکیٹ کی رہائشگاہ پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میاں مظفر شاہ ایڈوکیٹ نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا میاں مظفر شاہ ایڈوکیٹ ،تمام پراچہ برادری اور عوام بیداری تنظیم حاجی سعیدالرحمان پراچہ نے این اے 25سے نامزدامیدوار ملک جمعہ خان اور پی کے 63 سے نامزد امیدوار شاہد خٹک کی حمایت کااعلان کیا اور پی کے 63 سے آزاد امیدوار بیرسٹر میاں سرور مظفر شاہ نے شاہد خٹک کے حق میں دستبردار ہونے کا بھی اعلان کیا اس موقع پر سینئر قانون دان عبدالطیف آفریدی، ملک جمعہ خان، شاہد خٹک، نور عالم ایڈوکیٹ، نیشنل یوتھ کے صوبائی رہنما سنگین خان، اکبر خان درانی، انجینئرحامد علی بھی موجود تھے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پرویز خٹک اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے اور جلسوں میں اپنے ہی حلقہ انتخاب کے عوام کی بے عزتیوں پر اتر آیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی صوبے کی ناکام ترین حکومت تھی مجھے پرویز خٹک کا وزارت اعلیٰ میں رہنے کے بعد نوشہرہ کے عوام پر ترس آتا ہے کیا پرویز خٹک وزیراعلیٰ کے اختیار سے واقف نہیں تھا یا وہ جان بوجھ کر نوشہرہ کو ترقی نہیں دینا چاہتا تھا ترقی کی مثال دیکھنا ہے تو مردان آکر دیکھ لو انہوں نے کہا کہ 25جولائی کے دن عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن اپنے شہیدوں کے خون کا حساب بلیٹ پیپر کے زریعے لیکر یہ ثابت کریں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن جھکنے والے نہیں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت اس صوبے کے عوامی کی فلاح وبہود کیلئے کچھ نہ کرسکی پشاور کو بی آر ٹی کی آڑ میں کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے اور نوشہرہ یونیورسٹی کو ایک گیراج میں قائم کرکے انکی تعلیم دشمنی ثابت ہو گئی ہے وقت آنے پر عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت پرویزخٹک اور تحریک انصاف کے کارکنوں سمیت نوشہرہ کے عوام کو دیکھا دیں گی کہ یونیورسٹیاں گیراجوں میں نہیں بلکہ وسیع و عریض اراضی پر تعمیر ہوتیں ہیں صوبے کا خزانہ خالی کردیا ہے اور صوبے کو 365ارب روپے کا مقروض بنادیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے یہ کیسی تبدیلی ہے صوبہ مالی خسارے دوچانہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے باچا خان کے زمانے سے لیکر آج تک صرف پختون قوم کی بقاء سا لمیت اور حقوق کے حصول کی جنگ لڑی ہے جس میں عوامی نیشنل پارٹی اپنی سابقہ دور حکومت میں امیرحیدرخان ہوتی کی قیادت میں کامیاب ہوچکی ہے اس صوبے کو خیبرپختونخوا کے نام سے اپنی پہچان دینا سرفہرست ہے اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا میں تعلیم کے میدان میں یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولوں کی تعمیر سے اس صوبے کی نہ صرف پسماندگی دور ہوگئی تھی بلکہ ہے عوام کو بہتر روزگار بھی میسر ہوگیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ضلع نوشہرہ میں پری پول ریکنگ کا نوٹس لیکر پرویز خٹک کے ضلعی ناظم بھائی لیاقت خٹک ، تحصیل ناظم بھتیجا احد خٹک سمیت جہانگیرہ اورپبی کے تحصیل ناظمین کو الیکشن کمپن چلانے پران کو نااہل کرائیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -