جیل میں نواز شریف کی طبیعت دراصل کیوں بگڑ گئی؟ بالآخر تفصیلات سامنے آ گئیں

جیل میں نواز شریف کی طبیعت دراصل کیوں بگڑ گئی؟ بالآخر تفصیلات سامنے آ گئیں
جیل میں نواز شریف کی طبیعت دراصل کیوں بگڑ گئی؟ بالآخر تفصیلات سامنے آ گئیں

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اڈیالہ جیل میں قید مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی طبیعت آج اچانک بگڑ گئی۔بظاہر بتایا جا رہا ہے کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور یہی ان کی طبیعت بگڑنے کی وجہ ہے تاہم انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون نے اپنی رپورٹ میں ان کی طبیعت بگڑنے کی ایسی وجہ بتا دی ہے کہ نہ صرف ن لیگی قیادت بلکہ جیل انتظامیہ اور نگران حکومت بھی پریشان ہو جائے گی۔ اخبار نے جیل میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف کا بائی پاس ہو چکا ہے اور وہ ہنوز دل کے مرض ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں گردوں اور ہائپرٹینشن کے مسائل بھی لاحق ہیں۔ ایسے میں حالیہ موسم ، گرمی کی شدت اور ہوا میں نمی کا بلند تناسب ، ان کی صحت کے لیے خطرناک تھا۔ اس کے باوجود جیل انتظامیہ یا جو کوئی بھی اس معاملے کو کنٹرول کر رہا تھا اس نے میاں نواز شریف کو ایئرکنڈیشنر نہ دینے کا فیصلہ کیا جو ان کی صحت کی صورتحال کے پیش نظر ازحد ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔

ذرائع کے مطابق ایک طرف میاں نواز شریف کے ڈاکٹر کو ان کے ساتھ اڈیالہ جیل جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور جن ڈاکٹروں نے جیل میں ان کا طبی معائنہ کیا وہ بھی ان کی صحت کی صورتحال سے واقف تھے۔ اس کے باوجود ایئرکنڈیشنز نہیں دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے کے روز میاں نواز شریف سے ان کے وکلاءنے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں میاں نواز شریف بری طرح پسینے میں شرابور ہوتے رہے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے اس کے باوجود شکایت نہیں کی کیونکہ وہ قانون میں متعین کردہ سہولتوں سے زیادہ نہیں لینا چاہتے۔ ان کے وکلاءنے طبی مسائل کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے لیے ایک اپیل بھی تیار کی تاہم میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ ہر چیز میرٹ پر چاہتے ہیں۔ ذرائع نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اخبار کو بتایا کہ جیل انتظامیہ نے کس طرح نواز شریف کی صحت کی صورتحال کو نظرانداز کر دیا؟ اس سے نگران حکومت کی قابلیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -