’مسیحا کی اس دنیا میں آمد ہوچکی ہے اور اب۔۔۔‘ بڑے مذہبی رہنما نے اعلان کردیا، کھلبلی مچادی

’مسیحا کی اس دنیا میں آمد ہوچکی ہے اور اب۔۔۔‘ بڑے مذہبی رہنما نے اعلان ...
’مسیحا کی اس دنیا میں آمد ہوچکی ہے اور اب۔۔۔‘ بڑے مذہبی رہنما نے اعلان کردیا، کھلبلی مچادی

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے خاتمے کے متعلق کاہن اور نجومی تو آئے روز اپنے اندازے بیان کرتے رہتے ہیں لیکن اب یہودی مذہب کے کچھ معروف علماءنے، جن میں یہودیت کے مشہور عالم ربی چائم کنیوسکی سر فہرست ہیں، یہ دعوٰی کر دیا ہے کہ مسیحا کی آمد ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی دنیا کے خاتمے کا آخری مرحلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق 90 سالہ یہودی ربی چائم کا کہنا ہے کہ مسیحا کا دور شروع ہوگیا ہے اور قیامت کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ ربی چائم نے گزشتہ روز سامنے آنے والے اپنا بیان میں کہا کہ ”آج کے دور میں بائبل پڑھنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ تلمود میں اسے ایک علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اب ہم دیگر علامتیں بھی اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب مسیحا کسی بھی وقت دنیا کے سامنے ظاہر ہونے والا ہے۔ میرے خیال میں ان کا ظہور ہفتے کے روز ہوچکا ہے۔“

دریں اثناءایک اور ربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ مسیحا کی آمد کی ایک اور علامت ہے جبکہ ربی پنکاس ونسٹن نے ایران اور اسرائیل کی غیر معمولی کشیدگی کو بھی مسیحا کی آمد کی علامات میں سے ایک قرار دے دیا ہے۔ ان ’علامات‘ کے ساتھ 27 جولائی کے بلڈ مون، جو صدی کا طویل ترین چاند گرہن ہو گا، کو بھی ملالیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بس اب دنیا خاتمے کے قریب ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ماضی قریب میں کچھ نامور عیسائی پادری اور عالمی شہرت یافتہ کاہن، جن میں ڈیوڈ میڈ کا نام سرفہرست ہے، بار بار دنیا کے خاتمے کی تاریخیں دے چکے ہیں، البتہ ہر بار مقررہ تاریخ گزرنے پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -