’ہمیں 2 ہزار سال پرانے تابوت سے ملنے والی یہ چیز پینے کی اجازت دی جائے‘ ہزاروں لوگوں نے درخواست دے دی، لیکن یہ کیا چیز ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

’ہمیں 2 ہزار سال پرانے تابوت سے ملنے والی یہ چیز پینے کی اجازت دی جائے‘ ...
’ہمیں 2 ہزار سال پرانے تابوت سے ملنے والی یہ چیز پینے کی اجازت دی جائے‘ ہزاروں لوگوں نے درخواست دے دی، لیکن یہ کیا چیز ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے شہر سکندریہ کے قریب سے ماہرین آثارقدیمہ نے2ہزار سال پرانا ایک تابوت دریافت کیا جس میں تین قدیم باشندوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ ایسا محلول موجود تھا کہ ہزاروں لوگوں نے اسے پینے کی خواہش ظاہر کر دی ہے اور آن لائن پٹیشن پر دستخط کر رہے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق یہ محلول پورے تابوت میں بھرا ہوا تھا اور اس تابوت میں دفن کیے گئے افراد کی کھوپڑی اور ہڈیاں اس میں تیر رہی تھیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ سرخ رنگ کا محلول آبِ حیات ہے یا کوئی ایسا محلول جو ہر طرح کی بیماریاں ختم کر دے گا۔ چنانچہ اس کے لیے انٹرنیٹ پر ایک آن لائن پٹیشن دائر کی گئی ہے اور جو لوگ اس محلول کو پینا چاہتے ہیں وہ اس پٹیشن پر دستخط کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر اب تک اس پٹیشن پر 11ہزار سے زائد لوگ دستخط کر چکے ہیں۔

دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محلول کوئی آبِ حیات یا بیماریاں رفع کرنے کا نسخہ نہیں ہے بلکہ محض سیوریج کا پانی ہے جو کسی طرح تابوت میں داخل ہو گیا۔ کچھ لوگ اسے ایسا جوس قرار دے رہے ہیں جو تابوت میں موجود ممیوں کے آئندہ زندگی میں پینے کے لیے رکھا گیا تھا۔ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس تابوت اور اس میں موجود پانی کا تعلق سکندراعظم سے ہے۔ تاہم مصر کی وزارت آثار قدیمہ نے بھی ان تمام افواہوں کو مسترد کر دیا ہے اورماہرین کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کسی طرح کا جوس نہیں بلکہ سیوریج کا پانی ہی ہے۔ واضح رہے کہ اس تابوت کی لمبائی 10فٹ اور اونچائی ساڑھے 6فٹ ہے اور یہ زمین میں 16فٹ گہرائی میں دفن تھا۔ پتھر سے بنے اس تابوت کا وزن 27ہزار کلوگرام ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -عرب دنیا -