خوش آمدید پرنس ولیم اور ڈچزکیٹ کا دورۂ پاکستان

خوش آمدید پرنس ولیم اور ڈچزکیٹ کا دورۂ پاکستان

  



ناصرہ عتیق

برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک اعلامیہ کے مطابق پرنس ولیم اپنی اہلیہ ڈچزکیٹ میڈیلٹن کے ہمراہ موسم خزاں میں پاکستان کے دورے کا قصد رکھتے ہیں۔ پاکستان کے خارجی امور اور تعلقات کے حوالے سے یہ ایک بڑی اور خوشی کی خبر ہے۔ کینسنگٹن پیلس کی ٹویٹ کے مطابق دورے کی مزید تفصیلات موقع کی مناسبت سے جاری کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ برطانوی شاہی خاندان کے افراد کا یہ دورہ 13برس بعد ترتیب پا رہا ہے۔ اس سے قبل 2006ء میں پرنس چارلس اور لیڈی کمیلا نے پاکستان میں چند خوشگوار دن گزارے تھے۔ تاہم پاکستان کے لئے ایک یادگاری دورہ شہزادی ڈیانا کا تھا جو انہوں نے 1996ء میں کیا تھا۔ دنیا بھر کے لوگ شہزادی ڈیانا کی مسحور کن شخصیت کے گرویدا تھے۔ تب شہزادی ڈیانا نے اسلام آباد، شمالی علاقہ جات اور لاہور کا تفصیلی دورہ کیا تھا۔ انہوں نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے لئے منعقدہ فنڈ ریزنگ کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔ شہزادی ڈیانا کے اس دورے میں موجودہ وزیراعظم عمران خان ان کے ہمراہ رہے تھے۔

”پاکستان کی حکومت اور عوام شاہی دورے کے اعلان کا گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں“۔ برطانیہ میں تعینات پاکستانی سفیر نے ٹویٹ کی ہے۔ ”پاکستانی عوام ابھی تک 1961ء اور 1997ء میں ہرمیجسٹی کوئین ایلزبتھ کی پاکستان آمد کو نہیں بھولے۔ مستقبل قریب میں شاہی خاندان کے ہر دلعزیز جوڑے کا پاکستان کا دورہ اس اہمیت کا غماز ہے جو برطانیہ پاکستان کی نسبت رکھتا ہے۔ دونوں ملک تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے۔

برطانیہ میں اس وقت دس لاکھ سے زائد پاکستانی آباد ہیں جو اپنی خداداد صلاحیتوں سے ملک کے نظم و نسق میں اپنا حصہ بٹا رہے ہیں۔ برطانیہ پاکستان سے بہتر اور مثبت رابطوں کی امید رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مہینہ قبل برطانوی فضائی کمپنی برٹش ائرویز نے پاکستان میں اپنی آمد سے ایک مضبوط رشتے کو دوبارہ استوار کیا ہے۔

پاکستان کے جوان عزم وزیراعظم عمران خان پاکستان کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لئے جنت بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان قدرتی خوبصورتی سے بھرا پُرا ہے۔ اگرچہ بدخواہوں کی ریشہ دوانیوں اور دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان میں سیاحتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش تو کی ہے، تاہم پاکستانی فوج اور حکومت نے انتھک محنت سے شرپسندوں کو لگام ڈالی اور دہشت گردی پر قابو پایا ہے۔

پاکستان کا شمالی علاقہ بلاشبہ جنت نظیر ہے۔ اس کے برف پوش پہاڑ سنہری دھوپ میں چمکتے ہیں تو اس کا صحرا چاندانی راتوں میں دمکتا ہے۔ دنیا کی آٹھ بڑی چوٹیاں پاکستان کی حدود میں واقع ہیں۔ پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ وزیراعظم، پاکستان کے دورے پر تشریف لانے والے برطانوی شاہی جوڑے کو شمالی علاقہ جات کے حسن سے روشناس ضرور کرائیں۔

آنے والے موسم خزاں میں تشریف لانے والے برطانوی شہزادے ولیم کا پورا نام ولیم آرتھر فلپ لوئی ونڈسر ہے۔ وہ ڈیوک آف کیمبرج ہیں اور پرنس چارلس اور شہزادی ڈیانا کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کی ہلاکت کا غم بڑی ہمت سے برداشت کیا تھا۔ شہزادہ ولیم کا تعلق رائل ائر فورس سے ہے اور وہ بہت سے خیراتی اداروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ پرنس ولیم کو گھڑ سواری، پاتختوں سے برف رانی کرنا، نشانہ بازی اور مچھلی کے شکار کا شوق ہے۔ مستقبل کی بادشاہی کے باعث ان کی شخصیت توجہ کی مرکز بنی رہتی ہے۔ تاہم پریس سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔ شہزادہ ولیم عمدہ اخلاق و اوصاف کے مالک ہیں اور ذمہ داریاں نبھانا بخوبی جانتے ہیں۔

پرنس ولیم نے دنیاکو اس وقت چونکا دیا جب انہوں نے یونیورسٹی میں اپنی ہم جماعت کیٹ میڈیلٹن سے شادی کا علان کیا تھا۔ 2011ء میں ویسٹ منسٹر ایبے لندن میں شادی کی رسومات ادا ہوئیں اور کیٹ میڈیلٹن لمحوں میں عام شہری سے ڈچز کے مقام پر فائز ہو گئیں۔ ان کا پورا نام کیتھرائن ایلزبتھ میڈیلٹن ہے۔

دونوں میاں بیوی کی پیدائش کا برس ایک ہی ہے یعنی 1982ء۔ ان کے تین بچے ہیں۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ ابھی تک واضح نہیں کہ برطانوی شاہی جوڑا پاکستان کے دورے پر اپنے بچوں کو ساتھ یا پھر انہیں برطانیہ چھوڑ کر آئے گا، بہرحال اہل پاکستان پرنس ولیم اور ڈچز کیٹ میڈیلٹن کی آمد کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ شاید اس وجہ سے کہ پرنس ولیم کی والدہ شہزادی ڈیانا کی یاد پاکستانی عوام کے دلوں میں ابھی تک تازہ اور روشن ہے۔

مزید : ایڈیشن 1