محکمہ ایکسائز کی افسر شاہی پالیسیاں،چونگی نمبر 6کے قریب نئے آفس کا قیام گاڑیوں کی رجسٹریشن سائلین کیلئے کڑا امتحان

محکمہ ایکسائز کی افسر شاہی پالیسیاں،چونگی نمبر 6کے قریب نئے آفس کا قیام ...

  



ملتان (نیوز رپورٹر) محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکو ٹکس ملتان ڈائریکٹوریٹ کی افلاطونی پالیسیوں نے پراپرٹی ٹیکس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئیے آنیوالے سائلین کو تختہ مشق بنانے سمیت حکومتی خزانے پر بھی لاکھوں روپے اضافی بوجھ لاد دیا ہے محکمہ ایکسائز کی جانب سے پراپرٹی زون ٹو کے بعد نیو رجسٹریشن کے لئیے چونگی نمبر 6 سے ملحقہ رہائشی مہر کالونی میں واقع کوٹھی کرائے پر لے کر ایک تیسری برانچ فعال کردی ہے جہاں نہ پارکنگ کی سہولت (بقیہ نمبر7صفحہ12پر)

ہے اور نہ ہی سکیورٹی کا انتظام ہے مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ ملک کے تمام ادارے ون ونڈو سروس فعال کرکے شہریوں کے لئیے سہولیات کا اہتمام کررہے ہیں جبکہ ایکسائز حکام شہریوں کے لئیے مشکلات میں اضافہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ایکسائز کی اعلی بیوروکریسی کا نیا افلاطونی اقدام یہ ہے کہ سائلین گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن کے لئیے چونگی نمبر 6 کی مہر کالونی آفس میں رجسٹریشن کروائیں گے جبکہ نمبر پلیٹوں اور رجسٹریشن بکس کے حصول کے لئیے پرانے ایم ڈی اے روڈ پر واقع ایکسائز آفس سے رجوع کریں گے نیو رجسٹریشن پر مامور عملہ دن بھر کی وصول کی گئی فیسوں کے لاکھوں روپے پر مبنی رقم چونگی نمبر 6 مہر کالونی سے 6 کیلو میٹر دور ایم ڈی اے روڈ پر واقع ایکسائز آفس کی بینک میں روزانہ کی بنیاد پر منتقل کی جائے گی ایکسائز حکام کے ان اقدام نے نہ صرف حکومتی محاصل کو غیر محفوظ بنا دیا ہے بلکہ دن بھر کی فیسوں کے لاکھوں روپے منتقل کرنے والے اہلکار کی زندگی کو بھی داو پر لگا کر رکھ دیا ذرائع کے مطابق شاہ رکن عالم کالونی کے پراپرٹی ٹیکس زون ٹو اور مہر کالونی کے نیو رجسٹریشن دونوں کا ماہانہ کرایہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بھی زائد ادا کیا جارہا ہے جو کہ سالانہ 2 ملین روپے بنتا ہے جسے شہریوں نے شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ ایکسائز کے اعلی حکام کو چاہئیے کہ وہ سائلین کو ایک ہی چھت کے نیچے نیو رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی سہولت فراہم کرے تاکہ سائلین مسافت کی خواری سے محفوظ رہ سکیں پراپرٹی ٹیکس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن ایک ہی عمارت میں ون ونڈو سہولت فراہم کی جائے جبکہ عمارتوں کے کرایوں کی مد میں خربرد کی بجائے دیگر ذرائع تلاش کریں۔

محکمہ ایکسائز

مزید : ملتان صفحہ آخر