قانونی جنگ اپنی صفوں سے متحد ہوکر لڑینگے،امان اللہ کنرانی

قانونی جنگ اپنی صفوں سے متحد ہوکر لڑینگے،امان اللہ کنرانی

  



کوئٹہ(آن لائن)پاکستان سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تووکلاء بھی بھر پور دفاع کاحق رکھتے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دو اظہار وجوہ کے نوٹس دیئے گئے ہیں ان کے خلاف ہم بھر پور قانونی معاونت کااعلان کرتے ہیں اورقانونی معاونت کیساتھ احتجاج کو بھی موثر اور مفید بنانے کیلئے حکمت عملی طے کرنے کیلئے آج سے اسلام آباد میں قانونی ماہرین اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنے کیلئے جارہا رہوں ہم اپنے قانونی آئینی جنگ اپنے صفوں سے متحد ہوکر لڑیں گے ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور پاکستان کے دیگر عدالتوں میں گرمیوں کی تعطیلات ہیں جس میں ملک بھر کے وکلاء اندرون و بیرون ملک مختلف شہروں میں جا کر خود اور اہلخانہ کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل جاتے ہیں آج کل عدالتوں میں سناٹا ہے تاہم وکلاء کے آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی،عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے خاطر جذبہ قابل ستائش ہے جنہوں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،سندھ ہائی کورٹ کے جج  جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کی ہر تاریخ پر وکلاء نے بھر پوراحتجاج اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا مگر ہمیں افسوس ہے کہ حکومت نے وکلاء کے احتجاج کو ناصرف خاطر میں نہیں لا یا بلکہ اپنے حواریوں کے ذریعے ایک نئے اور بے وزن معاملے کواٹھا کر سپریم جو ڈیشل کونسل میں اپنی خفت مٹانے کی خاطر بھونڈے طریقے سے کوشش میں مصروف ہے ہم حکومت کی بے حسی اور ہٹ دھرمی پر اس کی مذمت کرتے ہوئے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ آزاد عدلیہ صرف وکلاء ہی نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام سمیت ان کی بھی ضرورت ہے ۔

 امان اللہ کنرانی

مزید : صفحہ آخر