چیئرمین ایف بی آر نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

چیئرمین ایف بی آر نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

  



فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ رواں مالی سال میں 5550 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہو سکتا، ان کا کہنا تھا کہ بینکوں نے بھاری رقوم کی آن لائن رپورٹ دینے سے معذرت کر لی ہے جبکہ گیس اور بجلی کی وزارتوں نے کمرشل اور صنعتی میٹرز ایکٹو ٹیکس دہندہ بنانے سے معذرت کرلی ہے، ایس ای سی پی نے غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کو زبردستی رجسٹرڈ کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے اور مزید یہ کہ صوبائی ریونیو اداروں نے ٹرن اوور رپورٹ میں تعاون سے بھی معذرت کرلی ہے جس کے بعد شبر زیدی نے وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ اس طرح ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔

شبر زیدی کا ٹیکس جمع کرنے کا کوئی تجربہ نہیں بلکہ ان کی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کا ماحصل یہ ہے کہ وہ کاروباری اداروں کو بھاری فیس لے کر ایسے مشورے دیتے رہے ہیں کہ کم سے کم ٹیکس دینے کا قانونی راستہ کیا ہے، اور زیادہ ٹیکس سے بچنے کے لئے کسی بھی کاروباری شخصیت یا ادارے کے پاس کون کون سے قانونی طریقے موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ چار چار سو کنال کے گھروں میں رہنے والے لوگ تو بمشکل لاکھ دو لاکھ ٹیکس دیتے ہیں اور ایف بی آر کا سارا زور اس بات پر ہے کہ بڑی بڑی لگژری کالونیوں میں پانچ مرلے کے گھروں میں رہنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، کیا ایف بی آر میں کوئی شخص اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ چار سو کنال کے گھر میں رہنے والا صرف ایک لاکھ ٹیکس دے کر بھی دیانتدار کہلائے اور کسی ”لگژری کالونی“ میں پانچ مرلے کے گھر میں رہنے والا لاکھوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود ”ٹیکس چور“ کے نام سے یاد کیا جائے، معاشرے میں یہ تضاد نہ صرف موجود ہے بلکہ ایف بی آر کا سارا زور بھی کمزور طبقات پر ہے، بڑے گھروں کی جانب تو ایف بی آر کا عملہ بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا اور اگر دیکھتا ہے تو ان کے مکینوں سے ٹیکس وصول کرنے کی بجائے اپنا حصہ وصول کر کے مطمئن ہو جاتا ہے ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہی کا حوصلہ تھا کہ اس نے اپنے پانچ سالہ دور میں ٹیکس ریونیو کا ہدف تقریباً ڈبل کر کے دکھا دیا اور تحریک انصاف کی حکومت اپنے پہلے ہی بجٹ میں نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل نہیں کر سکی حالانکہ وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ اوپر اگر دیانتدار قیادت موجود ہو تو آٹھ دس ہزار ارب ٹیکس جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں اب جبکہ نہ صرف دیانتدار قیادت اوپر موجود ہے بلکہ نیچے تک دیانتدار قیادتوں کی پوری لائن لگی ہوئی ہے سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا ہدف کیوں حاصل نہیں ہو سکا اور جن صاحب کو بڑے ارمانوں سے پرائیویٹ سیکٹر سے ڈھونڈ کر ٹیکس جمع کرنے کے لئے لایا گیا ہے انہوں نے مالی سال کے تیسرے ہفتے ہی میں ہاتھ کیوں کھڑے کر دیئے ہیں پچھلے دنوں ان کے بارے میں یہ افواہ بھی اڑتی رہی کہ انہیں ہٹایا جا رہا ہے شاید وزیراعظم کو اپنے ذرائع سے پتہ چل گیا ہو گا کہ شبر زیدی ٹیکس ہدف کے حصول کے سلسلے میں پر امید نہیں ہیں۔

شبر زیدی کو اگر پرائیویٹ سیکٹر سے ”امپورٹ“ کیا گیا تھا تو ظاہر ہے ان کی صلاحیتوں کے پیش نظر ہی ایسا کیا گیا ہو گا ورنہ ایف بی آر کے اندر بھی تو ایسے کیرئیر افسر موجود تھے جنہیں اس عہدے پر بٹھایا جا سکتا تھا لیکن وزیراعظم کے ذہن میں غالباً ”نئے ایف بی آر“ کا کوئی تصور تھا جو کرپشن سے پاک ہو، اب کرپشن کا خاتمہ نہ تو شبر زیدی کے بس کی بات ہے اور نہ ہی ان سے بڑے کسی عہدیدار کی، کرپشن اس معاشرے کی بنت میں رچ بس گئی ہے اور جو لوگ اسے ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں انہیں بھی معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے یہاں تک کہ انٹی کرپشن کے ادارے بھی اس میں ملوث ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو جب سے یہ ادارے بنے ہیں کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ کیوں جاتی؟ فرق صرف اتنا ہے کہ بددیانتی کا تصور اپنا اپنا ہے جو پچاس لاکھ رشوت لیتا ہے اس کے خیال میں وہ اس لئے دیانتدار ہے کہ وہ پچاس کروڑ رشوت نہیں لیتا،جو ”صرف پچاس کروڑ“ماہانہ کمانے پر اکتفا کرتا ہے وہ بزعم خویش اپنے آپ کو امانت و دیانت کا مجسمہ سمجھتا ہے اسی سوچ نے پورے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے، چنانچہ دیانتداری اور بددیانتی کے اپنے اپنے تصور راسخ ہو گئے ہیں ایف بی آر کے نزدیک سارے تاجر اور صنعت کار بددیانت ہیں لیکن یہی وہ طبقہ ہے جو ایف بی آر کے افسروں کی خوشحالی میں اضافے کا بھی ذمے دار ہے، یہ طبقہ نہ ہو تو ایف بی آر کے چھوٹے افسر اپنے بڑے افسروں کو لگژری گاڑیوں کے تحفے کہاں سے دیں شبر زیدی جب سے ایف بی آر کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہوئے ہیں انہوں نے روزانہ دھواں دھار تقریریں کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اب وہ آ گئے ہیں تو ٹیکس جمع کرکے دکھائیں گے، اس کے لئے انہوں نے بعض ایسے ضابطے نافذ کرنے کی کوشش کی جو عملاً ممکن نہیں، شناختی کارڈ کی شرط پر وہ اب بھی اصرار کرتے چلے جا رہے ہیں اور ان کے کہنے پر وزیراعظم نے بھی تاجروں سے کہہ دیا کہ یہ شرط واپس نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کی مخالفت وہ تاجر کررہے ہیں جو سمگلنگ کا مال بیچتے ہیں اور ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے،جو قبائلی علاقے اب صوبہ کے پی کے کا باقاعدہ حصہ بن گئے ہیں کیا وہاں اب بھی اربوں روپے کی سمگلنگ نہیں ہوتی، کسی نے اس جانب توجہ فرمائی؟ محض دعوؤں اور تسلیوں پر مبنی اعلانات سے اور جو کچھ بھی ہو سکتا ہو، ٹیکس بہرحال جمع نہیں ہو سکتا اور اس کا برملا اعلان خود شبر زیدی نے کر دیا ہے کہ میں تو اتنا ٹیکس جمع نہیں کر سکتا، صرف وہی نہیں کوئی بھی ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ 40فیصد اضافہ غیر حقیقی ہے اور کوئی ماہر معیشت یہ ماننے کے لئے تیارہی نہیں کہ یہ ہدف قابلِ حصول ہے، بس آئی ایم ایف نے کہہ دیا اور ہم نے بجٹ میں یہ ہندسہ رکھ دیا کیا کوئی صاحب دانش آئی ایم ایف کو سمجھانے والا نہیں تھا کہ ہم 4000ارب جمع نہیں کر سکے 5550ارب کیسے جمع کرلیں گے اچھا ہوا شبر زیدی نے ابھی سے ہار مان لی ورنہ ایک سال بعد بھی نتیجہ تو یہی نکلنا تھا۔اس وقت زیادہ سبکی کا سامنا ہوتا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...