واشنگٹن کا جلسہ اور اس کے بعد!

واشنگٹن کا جلسہ اور اس کے بعد!
واشنگٹن کا جلسہ اور اس کے بعد!

  



چند سال پہلے میرے ایک دوست امریکہ سے ملتان آئے تو باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستان میں تانگے ریڑھی والے کو بھی پتہ ہے کہ امریکہ ایک بڑا ملک ہے اور اس کے صدر کا نام بھی عام آدمی جانتا ہے۔ وہاں امریکہ میں اکثر امریکی پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے،حتیٰ کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ پاکستان کہاں واقع ہے۔ انہیں چند بڑے ملکوں کے نام آتے ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والے جلسے کے بعد مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اب بھی امریکیوں کے لئے پاکستان ایک اجنبی ملک ہے، یا وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پاکستان ایشیا کا ایک اہم ترین اور ایٹمی قوت رکھنے والا ملک ہے،جس کے امریکہ میں شہریوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ امریکی تعمیر و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے اتنا بڑا جلسہ ہوا ہے تو واشنگٹن میں خوب رونق میلہ لگا ہے،سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لے کر گھومتے رہے ہیں،جو پورے امریکہ سے قافلوں کی صورت میں وہاں پہنچے، گویا ایک زندہ ملک کی تمام تر نشانیاں امریکی عوام کے سامنے آئیں اور ایشیا کا صرف بھارتی حوالہ پس پشت چلا گیا۔

مَیں تو اس جلسے کو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ سمجھتا ہوں جیسا کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کسی ہال میں پانچ سو یا ہزار پاکستانیوں کو بلا کر تقریب منعقد کی جائے گی،لیکن یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنے بڑے اسٹیڈیم میں یہ جلسہ منعقد کیا جائے گا اور اس میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کسی ملک کے سربراہ نے اس طرح کسی دوسرے ملک، خصوصاً امریکہ میں اتنا بڑا جلسہ کیا ہو۔ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ میں جلسے بھی اس کے مقابلے میں جلسی نظر آتے ہیں۔ اتنے اہم ملک اور اتنے اہم شہر میں ایک کامیاب جلسہ کر کے عمران خان نے دنیا کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کا پاکستان سے کرپشن ختم کرنے اور اسے آگے لے جانے کا ایجنڈا پاکستانی قوم کی آواز ہے، چاہے پاکستانی دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہوں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان کو اس جلسے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی ایجنڈے کی بات کرنی چاہئے تھی، کشمیر اور دہشت گردی کے موضوع کو زیادہ تصریح کے ساتھ بیان کرنا چاہئے تھا۔ ملکی سیاست اور سیاسی مخالفین کے ساتھ کوئی رعایت نہ کرنے کی باتیں بھی اس جلسے میں مناسب نہیں تھیں۔ یہ گھر کا معاملہ تھا اور گھر ہی میں رہنا چاہئے تھا، تاہم یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ان کا خطاب پاکستانیوں سے تھا۔ جو ملک کے بارے میں تشویش کا شکار رہتے ہیں اور جنہیں ایسی خبریں افسردہ کر دیتی ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے یا وہاں لوٹ مار مچی ہوئی ہے، کوئی ملک کا نہیں سوچتا، خارجہ امور اور بھارت و افغانستان کی باتیں عمران خان نے شاید اس لئے بھی نہیں کیں کہ ان کا ذکر صدر ٹرمپ سے ملاقات میں ہونا تھا۔ یہ پالیسی میٹر کا معاملہ تھا، اس لئے عمران خان نئے پاکستان کے خدوخال، کرپشن کے خلاف حکومتی موقف اور ملک میں میرٹ کو رائج کرنے کے دعوؤں تک محدود رہے۔

اس جلسے کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ پہلی بار امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی ایک بڑی قوت کے طورپر نمایاں ہوئی ہے۔ بھارتی شہریوں نے ہمیشہ ایک کمیونٹی کے طور پر خود کو امریکہ میں منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کا امریکی حکومت پر دباؤ بھی رہتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی انتخابات میں بھارتی ایک کمیونٹی کے طور پر حمایت کا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں بھارت کے لئے مراعات مانگتے ہیں۔ پاکستانیوں کی ان کے مقابلے میں کوئی جماعتی آواز نہیں تھی، لیکن اس جلسے نے خود بھارتی سورماؤں کو بھی چونکا دیا ہے۔ اگر یہ کمیونٹی اکٹھی ہو جائے تو بدلے میں پاکستان کے لئے امریکہ کی سیاسی و مالی معاونت حاصل کر سکتی ہے۔ پاکستان سے ڈومور کے تقاضے بھی اسی لئے ہوتے ہیں کہ امریکہ کے اندر پاکستانیوں کی موثر آواز نہیں، تاہم اس جلسے کے بعد ایک چیز واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی ایک طاقت ہے اور اس وقت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے۔

پاکستانی مفادات کے لئے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اجتماعی قوت کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ کمیونٹی کی طاقت کا مظاہرہ تو ہو ہی چکا ہے، اب اس اجتماعی کردار کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ ایک ملٹی کلچرل اور کثیر النسل ملک ہے۔ یہاں جو کمیونٹی متحد رہتی ہے، اپنی شناخت بنا لیتی ہے۔ پاکستان جیسا ملک جس سے دوستی کا دعویٰ امریکی ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔سب سے زیادہ امریکی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ ہم نے امریکی جنگ میں گھس کر اپنے ہزاروں فوجی اور سول افراد شہید کروائے۔ کھربوں ڈالرز کا نقصان کیا، مگر پھر بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں توقیر نہ پا سکے۔

یہی صدر ٹرمپ جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے بلاسوچے سمجھے پاکستان کے خلاف بیانات داغے۔ یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ اس وقت اگر پاکستانی کمیونٹی اجتماعی آواز کے ساتھ باہر نکلتی اور صدر ٹرمپ کو باور کراتی کہ پاکستان کے بارے میں غلط الزامات سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور وہ اس پر احتجاج کررہے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نکلتے، اسی طرح جب قادیانی نمائندہ وفد نے عبدالشکور کی سرکردگی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تو پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے یہ اجتماعی آواز سامنے آنی چاہیے تھی کہ قادیانی مسلمان نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں، وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ انہیں بطور مسلمان مذہبی آزادی حاصل نہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

واشنگٹن کا جلسہ دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ اس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی ہے اور یہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ اس جلسے کے اثرات امریکی پالیسیوں پر بھی پڑیں گے اور پاک امریکہ تعلقات میں بہتری و برابری کے لئے بھی اس کے وزن کو محسوس کیا جائے گا۔ اس جلسے کی کامیابی کا سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ہوا ہے۔ سپر پاور کے دارالحکومت میں اپنی عوامی مقبولیت کا مظاہرہ کر کے انہوں نے پاکستان کے مقبول وزیر اعظم ہونے کا تاثر چھوڑا ہے۔ لیڈر کی عالمی سطح پر مقبولیت کیا نتائج لاتی ہے، اس کا اندازہ ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے طیب اردوان کی کامیابیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

وہ دنیا سے اپنے مطلب کی ڈیل کرتے ہیں اور دباؤ پر ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرتے جو قومی مفاد میں نہ ہو۔ وزیر اعظم عمران خان کا امیج ایسے ہی کامیاب حکمرانوں جیسا ہے،جبکہ واشنگٹن کے جلسے نے اس امیج کو مزید بہتر کر دیا ہے۔ جب ایسا لیڈر یہ کہتا ہے کہ 23 سال تک رب کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکا اور نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا تو اس پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے، تاہم خود عمران خان کو بھی اب اور زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے، وہ جلسے کی کامیابی کے خمار میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ اس پہلو پر زیادہ توجہ دیں کہ انہوں نے پاکستان کو کیسے معاشی اور فلاحی سطح پر آگے لے کر جانا ہے۔

سیاسی مخالفین پر ساری توجہ مرکوز کرنے کی بجائے گورننس اور عوام کے حالات بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ میرے نزدیک واشنگٹن کے جلسے میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ واپس جا کر وہ نوازشریف اور آصف علی زرداری کے کمروں سے ایئر کنڈیشنر اتروائیں گے اور ٹی وی اٹھوا لیں گے۔ یہ کام خاموشی سے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑے جلسے میں ان کا یہ اعلان نا مناسب نظر آتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جلسے اور بعد ازاں امریکی حکومت کی طرف سے عمران خان کو کتنی سیاسی تقویت ملتی ہے۔ کیا وہ امریکہ کی جانب سے ”ڈو مور“ سیلاب کے آگے بند باندھنے میں کامیاب رہتے ہیں یا دباؤ برقرار رہتا ہے اور تعلقات کی نئی شروعات اب بھی امریکیوں کی کڑی شرائط کے بھاری پتھر کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں؟

مزید : رائے /کالم


loading...