حکومت اور حزب اختلاف کی باہمی لڑائیاں

حکومت اور حزب اختلاف کی باہمی لڑائیاں
حکومت اور حزب اختلاف کی باہمی لڑائیاں

  



دنیا بھر میں متحارب سیاسی جماعتوں کے راہنما جب بھی کوئی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے اپنے انداز میں اپنے ملک کی بہتری کی بات کرتے ہیں، ان کی کوئی ذاتی رنجش ہوتی ہے نہ ایجنڈا، لیکن ہمارے ہاں کیا ہے؟…… ایک دوسرے کی جائز ناجائز مخالفت ہی کو اپنی کامیابی سمجھا جاتا ہے،چاہے اس کے لیے ملک ہی کو کیوں نہ بدنام کرنا پڑے۔ ہماری سیاست میں اتنا زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی پہچان ہی کہیں گم ہو جاتی ہے۔میڈیا کے لوگ بھی سیاسی دنگل سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، چنانچہ وہ کسی قومی یا معاشرتی حقیقی مسئلے پر بات کرنے کی بجائے سیاستدانوں کے بیچ لڑائیاں کروانے کو ہی اپنی شہرت اور ریٹنگ کا سبب سمجھتے ہیں۔ کوئی ڈھنگ کا سوال کیا جاتا ہے، نہ گندم کا جواب گندم آتا ہے۔

ایک طرف وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن کے وقت کے دھرنے اور جدوجہد ہے تو دوسری طرف نیب کی کارروائیاں اور عدالتوں کے فیصلے، حکومتی وزراء ایک ہی سانس میں پکارتے ہیں کہ ہم ان چوروں کو ہرگز معاف نہیں کریں گے، یہاں تک کہ وزیراعظم خود اٹھتے بیٹھتے یہ ورد کرتے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا، ساتھ ہی یہ فرماتے ہیں کہ ان کیسوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، یہ سب نیب کی کارروائیاں اور عدالتی فیصلوں کا نتیجہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کے کرتا دھرتا جیلوں میں ہیں۔ حکومت کے ترجمان اور وزراء کو اپنے منہ سے پھل جھڑیاں بکھیرنے کی بجائے ملک میں اداروں کی تعمیر نو کرنے کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ کوئی نظام بن سکے۔

ایک طرف سابقہ حکمرانوں کی گرفت سے عوام میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب حکمرانوں کا احتساب بھی ہونے لگا ہے اور قومی دولت لوٹنے والوں سے اب پائی پائی وصول کی جائے گی اور آئندہ کسی کو جرات نہیں ہوگی کہ وہ ملک کو بے دردی سے لوٹ سکے، مگر دوسری طرف جب حکومتی ترجمانوں اور وزراء کے بیانات پر غور کرتے ہیں تو یہ سب ایک مذاق لگتا ہے۔ شیخ رشید فرماتے ہیں کہ میاں نوازشریف مریم بی بی کے بیانات کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے کوئی غلط کام نہیں کیا، بس اپنی بیٹی کو بولنے کی اجازت دے رکھی ہے اس لئے جیل میں ہیں۔ اپنے دوسرے بیان میں شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ ڈھونڈ لیا ہے۔ گویا یہ تفتیش شیخ رشید خود کر رہے ہیں۔

اس سیاسی مخالفت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں ملکی وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ ملکی وقار کا تقاضا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف یک زبان وزیراعظم کے دورے کی کامیابی کے لیے اپنا کردار نبھائیں۔ وزیر اعظم پر سلیکٹڈ کا الزام لگانے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں ہونے والے صوبائی انتخابات کے نتائج ہی کافی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پی پی کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا، بلکہ ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کو پانچ نشستوں پر کامیابی ملی اور آزاد امیدواروں میں بھی کئی ممبران کا تعلق پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔

اُدھر امریکہ میں اس وقت عوام کا ایک جم غفیر امڈ آیا ہے اپنے وزیراعظم کی ایک جھلک دیکھنے کو۔ میں اس وقت دیکھ رہا ہوں کہ امریکہ کی تاریخ میں کسی غیر ملکی سربراہ کا اتنا بڑا عوامی اجتماع نہیں ہوا جتنا پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کر دکھایا ہے۔ پاکستانیوں کا یہ اجتماع اس بات کی دلیل ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے مقبول رہنما ہیں اور ملکی ادارے بھی وزیراعظم کی پشت پر ہیں۔ اگر سابقہ حکومتوں نے پاکستان میں انتخابی اصلاحات پر درست کام کیا ہوتا تو آج کسی کو دھاندلی کی شکایت نہ ہوتی، نہ ہی سینٹ میں ہارس ٹریڈنگ کا خوف ہوتا۔

مزید : رائے /کالم


loading...