خلوت کی گرہیں!

خلوت کی گرہیں!
خلوت کی گرہیں!

  



ارشد ملک،عدلیہ کی انگشتری میں جڑا ایک ”نگینہ“ ہے۔موصوف کو حیران کن کردار بھی قرار دیا گیا ہے،حالانکہ ان کے روّیے و عمل میں ذرا بھی نیا پن نہیں۔بہت ہی معمولی کردار، جس میں اچنبھے کی تلاش بالکل بے معنی ہے۔ یہ ویڈیو بھی معمولی! پاکستان کے ہر شعبے میں نچلی سطح سے اوپر تک ایسے ویسے لوگوں کی بہار آئی ہوئی ہے! اِن کی وقتاً فوقتاً رونمائی ہوتی۔شور اٹھتا، گرد اڑتی اور پھر چند روز میں سب کچھ بیٹھ جاتا ہے!!

ابھی کل کی بات ہے کہ وارفتگانِ ”عدلیہ“ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ جسٹس ملک عبدالقیوم اور جسٹس راشد عزیز خان کی ”قید آوازیں“ ہنوز حافظے میں گونجتی ہیں۔ دیوان لگانِ ”عظمیٰ“ یعنی چیف جسٹس آف پاکستان انوار الحق اور جسٹس نسیم حسن شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل خارج کرنے کے پس منظر میں اعترافِ جرم نہیں کیا تھا۔

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آئندہ بھی کوئی کب سیکھے گا۔ نا معتبر و غیر معتدل چہروں کو کون اور کیوں آگے لے آیا جاتا ہے؟ اِسی سوال میں پورا جواب مضمر ہے، بلند منصب اور کوتاہ قامت! یہ واقعی ایک دلچسپ سکینڈل ثابت ہو سکتا ہے،بشرطیکہ اندر کا اندر کھنگالا جائے!

یہ صاحب ایک خاص لابی کے توسط سے عدلیہ میں داخل ہوئے،پھر بااہتمام احتساب کورٹ میں آئے یا لائے گئے۔ناصر بٹ کا ہم مشرب وہم مزاج! وکالت اور دوستی۔ عدالت اور رفاقت؟؟آدمی اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے۔ جج مذکور کے اجناب کا دین؟ رنگین مزاجی کے پیکر!؟؟ آپ اپنا تعارف، ہوا بہار کی ہے“۔جج صاحب کے حوالے سے ایک ویڈیو کی بات ہوئی ہے۔ جب وہ ملتان میں ایڈیشنل سیشن جج تھے۔

بیسیوں ویڈیوز میں ان کو اُچھلتے، کودتے، ناچتے اور جام ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔اس سے بھی کہیں زیادہ رنگین و سنگین ویڈیوز موجود ہیں۔ جانے کِس کِس پردہ نشین کا نام سامنے آنے والا ہے؟ مکروہ چہروں کی یلغار اور پھر یلغار در یلغار بھی خارج از امکان نہیں۔امکانی طور پر ذی وقار، نیک نام اور بھولے بھالے، ”خواص“ بے نقاب ہوا چاہتے ہیں! موصوف ایک جیتا جاگتا زندہ کردار ٹھہرے، فی الواقع ان کے کردار کا جتنا تجزیہ کرتے جائیں ”جوہر“ کھلتے جائیں گے۔ متذکرہ وڈیوز نے میاں نواز شریف سے متعلق احتساب کے پورے عمل کو مشکوک بنا کو رکھ دیا ہے۔ عوام اُلجھ گئے ہیں کہ کہیں یہ انتقام تو نہیں!

بالفرض اگر ترکیب معکوسی کی رعایت سے یہ کہا جائے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کا فیصلہ کسی ڈیل یا دباؤ کا نتیجہ تو نہیں تھا؟ انکار اور اقرار کا بیک وقت امکان موجود ہے۔ارشد ملک صاحب کے طرزِ عمل سے بالواسطہ اور بلاواسطہ کسی کو فائدہ پہنچا ہے؟ ان معروضی حالات میں وہ ملزم کو اور دے بھی کیا سکتے تھے؟ قیاسی زاویوں سے کہا جا سکتا ہے کہ اب تک سب کچھ سکرپٹ کے مطابق ہوا ہے، اور اگلی اقساط بھی حکمت ِ عملی کے مطابق سامنے آئیں گی!کیا ہمارے نظام میں یہ ایک ہی ارشد ملک ہے؟ نہیں! ہاں!! جانے کون کون، کہاں کہاں بیٹھا ہے؟ امیر المومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ معاشرے کفر سے تو قائم رہ سکتے ہیں، لیکن ظلم و ناانصافی سے نہیں۔

ہمارے ملک میں جو کچھ ہوتا چلا آتا ہے،نوکِ زبان و قلم پر نہیں لایا جا سکتا! بدکاروں کے تحفظ کی خاطر باہر سرکاری محافظ کھڑے ہوتے ہیں،اور اندر؟…… مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا، میدانِ ہائے جنگ کے بعد سب سے زیادہ ناانصافیاں عدالتوں کے ایوانوں میں ہوتی ہیں۔ حیرانی یا پریشانی یہ نہیں کہ ارشد ملک کا کردار و عمل کیا ہے،بلکہ اصل استفسار یہ ہے کہ یہ صاحب کتنے عرصے سے عدالتی انگشتری میں ایک نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ان کے ہم ذوق و ہم شوق اور بھی کتنے ہیں،جو خیر سے جج ہوتے ہیں؟ میرا تو خیال ہے کہ پورے بکھیڑے میں ارشد ملک صاحب مرکزی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...