یہ فیصلے اور ان کے ہوشربا نتائج

یہ فیصلے اور ان کے ہوشربا نتائج
یہ فیصلے اور ان کے ہوشربا نتائج

  



عالمی بینک کے ایک فیصلے کے تحت پاکستان نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کو چھ ارب ڈالر یا ساڑھے نو کھرب روپے مع سود جرمانہ، یا ہرجانہ ادا کرنا ہیں۔ یہ معاملہ بین الاقوامی ثالثی کونسل میں خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا تھا۔ یہی ہوتا ناکہ دو چار متعلقہ سیکرٹری، دو ایک وزرا، ایک آدھ وزیراعلیٰ اور وفاق کے چار چھ بدعنوان افسر اس ندی میں گنگا جل سے اشنان کر لیتے۔ ذرائع ابلاغ اور نظم و ضبط کی زبان میں یہ ساری رقم ”قومی خزانے کو دس ارب روپے نقصان“ سے زیادہ نہ ہوتی، چھ ارب ڈالر یا ساڑھے نو کھرب روپے مع سود جرمانہ، یا ہرجانہ تو ادا نہ کرناپڑ تا۔مَیں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند شخص انسانی زندگی میں نظم و ضبط (Discipline) کی اہمیت کا منکر ہو گا،اسی سے زندگی اپنے فطری انداز میں آگے بڑھتی ہے،اسی کے سبب انسانی رویے بالیدگی پاتے اور ژولیدگی سے نجات حاصل کرتے ہیں۔

نظم و ضبط کے ساتھ ایک دوسرا لفظ قدرے متوازی معنوں میں چلتا نظر آتا ہے: ”آزادی، آزادی“ و ہ کیفیت ہے جو بظاہر نظم و ضبط کی حریف نظر آتی ہے۔ اب انہی دو کیفیات کو ہم ترقی یافتہ ممالک میں پڑھنے سمجھنے کی کوشش کریں تو پہلو بہ پہلو چلتے یہ دونوں، ایک ہی گاڑی کے دو پہیے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر شخص آزاد ہے، لیکن کتنا؟ …… جس قدر دوسروں کو متاثر نہ کرے۔ وہی آزادی جسے معاشرتی قدروں اور قوانین و اخلاقیات کے دائروں میں دیکھا پڑھا جائے تو انسان نظم و ضبط کا مکمل اسیر نظر آتا ہے۔ یہاں آ کر مجال ہے، اسے آزادی دی جائے۔آزادئ اظہار ترقی یافتہ ممالک کا طرۂ امتیاز ہے، لیکن اظہار کی وہ شکل جو دوسروں کی نجی زندگی کو متاثر کرے، اسے بنظر کراہت دیکھا جاتا ہے۔

توازن وہ تیسرا لفظ ہے جو بظاہر نظم و ضبط کی نیابت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے، لیکن یہاں پر میری مراد نظم و ضبط اور آزادی میں توازن، یا یوں کہیے معاشرتی توازن ہے۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ میری گفتگو قدرے ثقیل ہے۔ آئیے اس بوجھ یا ثقل کو دو مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ اہل خانہ کس خوبصورتی سے اپنے گھر کو طرح طرح کے پھولوں، پودوں اور بیلوں سے آراستہ کرتے ہیں۔ مالی باقاعدگی سے آ کر پودوں کی شاخ تراشی کرتا ہے۔پودے کی کوئی ٹہنی سوکھ جائے تو اسے کاٹ دیتا ہے۔ زمین سخت ہو، پودوں کی افزائش میں رکاوٹ ہو تو مالی پانی دیتا ہے۔ پودوں کے آس پاس کی زمین کو نرم اور بُھربُھرا کرتا ہے تاکہ جڑیں راستہ بنانے میں کسی مشکل سے دو چار نہ ہوں۔ جب احساس ہو کہ کسی پودے پر حشرات الارض حملہ آور ہیں، سنڈیاں چھا گئی ہیں، کیڑے مکوڑے اور ٹڈیاں پودوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں تو مالی جراثیم کش مواد سے ان مضر عناصر کا خاتمہ کرتا ہے،یوں گھر کا باغیچہ حسن و دل کشی کا منظر بنایا جاتا ہے۔ یہ نظم و ضبط کی ایک مثال ہے۔ نظم و ضبط ہی کے باعث باغیچہ آنکھوں کو تراوٹ اور روح کو بالیدگی عطا کرتا ہے……لیکن یہاں آ کر ایک چبھتا ہوا سوال! حسن و دل کشی کا منظر اورنظم و ضبط کا یہ نمونہ، آنکھوں کو تراوٹ دینے والا یہ باغیچہ کیا معدے میں پیدا شدہ بھوک کے طاقتور سگنل وصول کرتا ہے؟ کر سکتا ہے؟ گھر کی معیشت سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں کیا یہ خوب صورت باغیچہ کسی کردار کا حامل ہے؟

آپ جواب سوچئے! اتنی دیر میں ہم آپ کو ایک جنگل میں لیے چلتے ہیں۔ جنگل کا مفہوم کس سے پوشیدہ ہے؟ اس کی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ نہ کوئی مالی، نہ باغبان، نہ رکھوالا، بارش ہوئی تو روئیدگی، ورنہ جھیلوں جھرنوں سے جانورپیاس بجھا لیتے ہیں، شیراور بھیڑیوں کو تو ایک طرف رکھیں، یہاں تو سا نپ، بچھو، کنکھجورے، بھڑیں، طرح طرح کی زہریلی مکھیاں اور دیگر حشرات الارض ایک دوسرے کے اور ہم سب کے در پے رہتے ہیں۔ جنگل وہ دنیا ہے جسے سامنے رکھ کر ہم نے لاقانونیت کے لیے اپنی، بلکہ دنیا بھر میں رائج، ایک اصطلاح وضع کر رکھی ہے: ”جنگل کا قانون“۔ طاقتور درندے اپنے سے کم طاقتور کو چیر پھاڑ کھاتے ہیں، کون سے پودے اور کون سے پھولوں کے تختے اور کیسی شاخ تراشی، جراثیم کش ادویہ کا یہاں کیا کام؟ درخت، پیڑ، پودے، جھاڑیاں، جھاڑ جھنگار اور بیلیں اپنی زندگی کا رخ متعین کرنے میں کسی مالی، کسی نگران کو نہ تو جوابدہ اور نہ کسی کے دست شفا بخش کے محتاج۔ ان سب پر مستزاد آندھی، طوفان، بادوباراں، کَڑکتی بجلیاں، گرتی صاعقات اور طوفان تھمنے پر سینکڑوں ہزاروں گرے ہوئے درختوں کی شکل میں بے پناہ نقصان۔

نقصان جس کی تلافی خارجی دنیا نہیں، جنگل خود کرتا ہے اور پوری تلافی!

قارئین کرام!نظم و ضبط والے اس خوبصورت باغیچے کا گھریا ملکی معیشت میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ملکی معیشت اگر قرار پکڑتی ہے، آگے بڑھتی ہے تو اس کے لیے آزادی اور جنگل کی سی آزادی درکار ہوا کرتی ہے۔ اس نظم و ضبط کے دائرے ہی الگ ہیں، وہاں او رہی نظم و ضبط جچتا ہے۔ جنگل میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی کوشش کر کے دیکھیں جو کچھ وہاں سے حاصل ہوتا ہے، اس سے زیادہ نظم و ضبط بپا کرنے پر خرچ ہو جائے گا۔ نظم و ضبط باغیچے کی سجاوٹ میں تو کام آ سکتا ہے، لیکن جنگل میں طوفانِ بادوباراں، درندے، سانپ، بچھو، گرتی کڑکتی چمکتی بجلیاں ہی کام آتی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک کی مناسب تعمیر و ترقی کے لیے انہی بجلیوں، انہی سانپوں، انہی بچھوؤں، انہی درختوں، اسی بدون مالی ملک کے کل رقبے کا ایک چوتھائی رقبہ جنگل کی شکل میں مطلوب ہوتا ہے جس میں کوئی نظم و ضبط نہ ہو۔اب ذرا نظم و ضبط میں کسے ہوئے دو عدالتی فیصلے ملاحظہ ہوں۔

کبھی رات گئے سنا تھاکہ اسٹیل ملز کی نیلامی تب کے جسٹس افتخار محمد چودھری نے کالعدم قرار دے دی۔ پاکستان میں عدالتیں کبھی اتنی خودمختار نہیں ہوئیں کہ کسی وردی پوش صدر کے خلاف فیصلہ دے سکیں، لیکن یہ فیصلہ ہوا اور پھر چیف جسٹس معزول ہو گیا۔یہ ”معزولی“ دنیائے سیاسیات کی انوکھی معزولی ہے۔ نیا چیف جسٹس مقرر ہو گیا اور معزول چیف جسٹس اسی بنگلے، اسی سرکاری پروٹوکول اور اپنی اسی سرکاری گاڑی میں پوری آب و تاب کے ساتھ نقل و حرکت اور دورے کر رہا ہے۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اس کی تنخواہ بھی اس کے اکاؤنٹ میں اسی طرح جاتی رہی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ نیا چیف جسٹس بھی ان تمام سہولتوں سے اسی طرح مستفید ہو رہا تھا، جیسے وہی ایک چیف جسٹس ہو۔ فی الاصل انتقال اقتدار کہیں اور ہو چکا تھا اور نئے مقتدر کے اشارے پر اسٹیل مل کی یہ نیلامی کالعدم ہوئی تھی جس کی سزا اب تک ہم سب کھربوں روپے ٹیکسوں کی شکل میں ادا کر چکے ہیں۔ نظم و ضبط میں کسی جانے والی معیشت کی یہ پہلی مثال ہے۔

نظم و ضبط کا دوسرا شاہکار ریکوڈک والے مقدمے میں عالمی بینک کا وہ حالیہ فیصلہ ہے جس کے تحت پاکستان نے متاثرہ کمپنی کو چھ ارب ڈالر بطور جرمانہ ادا کرنا ہے۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ حکومت بلوچستان کا یہ معاہدہ تانبے اور سونے کی تلاش اور نکالنے سے متعلق تھا۔ معاہدے میں بے قاعدگی اور بدعنوانی کے الزامات بلوچستان ہائی کورٹ میں چلے گئے۔ ہائی کورٹ نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس معاہدے کو آپ جنگل کے قانون والی مذکورہ بالا معیشت سمجھ لیجئے۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی نے حکومت بلوچستان سے کہا کہ اسے تلاش سے آگے اب کان کنی کا لائسنس دیا جائے،درخواست مسترد ہو گئی۔کمپنی بین الاقوامی ثالثی کونسل میں چلی گئی، جہاں عدالتی کارروائی کے بغیر انتظامی حیلوں بہانوں سے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا تھا۔ اس عمل میں یہی ہوتا کہ دو چار متعلقہ سیکرٹری، دو ایک وزرا، ایک آدھ وزیراعلیٰ اور وفاق کے چار چھ بدعنوان افسر اس گنگا جل سے اشنان کر لیتے۔ وہ ساری رقم ذرائع ابلاغ اور نظم و ضبط کی زبان میں ”قومی خزانے کو دس ارب روپے نقصان“ سے زیادہ نہ ہوتی۔ زیادہ ہوتی بھی تو چلیے، اسے زیادہ سے زیادہ دوگنا کر لیں، نتیجہ کیا نکلتا؟ روزگار کے ہزاروں مواقع اور قومی خزانے میں ٹیکس کے ذریعے یہ سارا نقصان اب تک پورا ہو چکا ہوتا۔

ملک کو سونا، تانبہ اور دیگر ذیلی معدنیات حاصل ہوتیں، صنعت کا پہیہ ذرا تیزی سے چلتا، اچھا خاصا زرِمبادلہ بچ جاتا، سیاحت کے مواقع پیدا ہوتے، برآمدات بڑھتیں، درآمدات کم ہوتیں ……اور یہ سارا کام میری اسی جنگل کے قانون والی معیشت کے تحت ہوتا جو آندھی سے گرے ہوئے درختوں سے پیدا شدہ نقصان خود پورا کر لیتی ہے، لیکن ہوا کیا؟

ہوا یہ کہ نظم و ضبط والی معیشت اور جسٹس افتخار محمد چودھری کو آگے لانے والے لوگ میدان میں آ گئے۔ بس اتنا اشارہ کافی ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دینے سے معذرت کر لی تھی۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں مشرف اب تنہا ہو چکا تھا۔ نئے جام و سبو مے خانے کی زینت بن چکے تھے۔

ان نئے لوگوں نے جب نظم و ضبط کے پیمانوں پر حساب کتاب کر کے دیکھا تو جواب ”قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان“ کی صورت میں سامنے آیا۔ بس پھر کیا تھا،جسٹس افتخار محمد چودہری نے چند ہی پیشیوں میں نہایت عجلت سے، کہ جب مقدمہ بین الاقوامی ثالثی کونسل میں تھا، اس معاہدے کو یہ کہہ کر کالعدم قرار دے دیا: ”جب کوئی سرمایہ کاری (ٹیھتیان والی)، جرائم کے ارتکاب، جیسے فریب کاری یا رشوت، کا نتیجہ ہو تو عدالت کو اختیار حاصل ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ معاہدہ باہمی سرمایہ کاری کے تحت سرمایہ کار کو حاصل فوائد اور حقوق سے مستفید ہونے سے باز رکھے“۔

تماشا یہ ہوا کہ فریب کاری اور رشوت کہیں ثابت نہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک کے اندر وقتی طور پر خوب”نظم و ضبط“ قائم ہوا، ملک کے اربوں روپے” بچ“ گئے۔ بچانے والے ریٹائر ہو گئے۔ ان لوگوں نے شاید نیک نیتی ہی سے یہ فیصلہ کیا یاکرایا ہو گا، لیکن کاپر کمپنی عالمی بینک کے پاس چلی گئی۔ دس پندرہ سال میں ریاستی حکام نے اس مقدمے پر اربوں روپے لٹا دیئے۔ اب تک کسی نے نہیں پوچھا کہ خزانے کا کیا حال ہے۔ 12 جولائی 2019ء کو عالمی بینک کے فیصلے کے تحت پاکستان نے کاپر کمپنی کو چھ ارب ڈالر یا ساڑھے نو کھرب روپے مع سود جرمانہ یا ہرجانہ ادا کرنا ہیں۔

دل اس لیے ڈوب رہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل نام کا ایک نیا ادارہ تشکیل پایا ہے۔ اس کے ارکان دیکھے تو ملکی معیشت میں نظم و ضبط یا باغیچے والی معیشت کا عنصر بڑھتا نظر آیا۔ یہ کونسل معیشت میں نظم و ضبط تو شاید قائم کرے گی، سوکرے گی، لیکن منڈیوں، بازاروں میں جو افراتفری مچی ہوئی ہے، اس سے لگتا ہے کہ اللہ ہی خیر کرے۔ اسٹیل ملز کی نج کاری کے عمل کو روکنے، 2006ء میں ایل این جی سے متعلقہ فیصلہ اور کاپر کمپنی کا یہ فیصلہ اَنا کے اسیر ان لوگوں کے ہیں جو نظم و ضبط کے شوقین ہیں۔ نظم و ضبط ہی زندگی ہے، لیکن معیشت کے کوچے میں اس کا وہی پیرایہ قابل عمل ہے، جسے مَیں جنگل کی معیشت کہہ چکا ہوں۔ موہومہ آٹھ دس ارب نظم و ضبط پر قربان کر دیئے جاتے تو آج ہم دس کھرب روپے کے یقینی تاوان سے بچ جاتے۔ بین الاقوامی دنیا میں ہماری اور ہمارے نظم و ضبط کی جو دُر دُر ہش ہش ہو رہی ہے، وہ اس کے علاوہ ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...