نئے پاکستان کے نئے اندازِ کار کا تعارف

نئے پاکستان کے نئے اندازِ کار کا تعارف
نئے پاکستان کے نئے اندازِ کار کا تعارف

  



الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں ایک بدیہی فرق یہ بھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر جو بات آپ 5منٹوں میں کہہ جاتے ہیں، وہی بات پرنٹ میڈیا میں 5صفحات سے بھی زیادہ جگہ گھیرتی ہے۔ صوتی سپیس اور تحریری سپیس کے اس فرق نے کالم نگار کو ایک بڑے چیلنج کے روبرو لاکھڑا کیا ہے۔ یعنی اسے اپنی بات کی تفصیلی رپورٹ، کالم کے مختصر کیپسول میں لپیٹ کر پیش کرنی پڑتی ہے۔

وزیراعظم، امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل چکے ہیں۔ ملک کے سارے ہی چینل ان کے دورے کی کوریج کر رہے ہیں۔ گزشتہ سیاسی ادوار میں وزیراعظم جب امریکہ یا کسی اور ملک کے ہائی پروفائل دورے پر جاتے تھے تو ایک خصوصی طیارے میں ایک من پسند میڈیا ٹیم ان کی ہمرکاب ہوتی تھی جو ہر لحظہ اپنی ویڈیو اور آڈیو کوریج اپنے چینلوں کو ارسال کرتی رہتی تھی اور اس طرح ملک کے ناظرین و سامعین رئیل ٹائم کوریج سے مستفید ہو جاتے تھے۔ اب عمران خان کے اس دورے میں ایسا نہیں ہے۔ وہ کفائت شعاری کے پیش نظر عام کمرشل فلائٹ سے امریکہ گئے ہیں۔ ظاہر ہے بہت کم میڈیا ہاؤس ہوں گے جو اپنی میڈیا ٹیم کے امریکہ آنے جانے اور وہاں ٹھہرنے کے مالی اخراجات اٹھانے کو تیار ہوں۔ اس لئے رئیل ٹائم کوریج متوقع نہیں۔ اور ویسے بھی امریکہ اور پاکستان کے ٹائم زونوں میں 10گھنٹے کا فرق ہے۔

میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو اتوار اور سوموار کی درمیانی شب کے دو بجے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سوموار کی صبح کے دو بج رہے ہیں۔ لیکن امریکہ میں 10گھنٹے پیچھے چلے جائیں تو وہاں اتوار کی سہ پہر کے چار بجے ہیں۔ بہت کم پاکستانی ہوں گے جو رات بھر جاگ کر وزیراعظم کا وہ براہِ راست خطاب سن سکیں گے جو وہ امریکہ میں وہاں کے اور نیز امریکہ کے ہمسایہ ممالک سے آئے ہزاروں پاکستانیوں کے جم غفیر سے کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح امریکہ صدر سے ان کی ملاقات کا احوال بھی ہمیں پاکستان میں پورا ایک دن گزرنے کے بعد سننے اور دیکھنے کو ملے گا…… یہ جغرافیائی محدودیت ہے۔

ہمارے ہاں وزیراعظم کے دورے کی جو رپورٹنگ امریکہ سے آ رہی ہے یا ہمارے چینل جو ٹاک شوز کر رہے ہیں ان میں حکومت اور اپوزیشن کا وہی 180ڈگری باہم معکوس اور متضاد فرق نمایاں ہے جو اس دورے سے پہلے پاکستانی میڈیا پر دن رات دکھایا اور سنوایا جاتا تھا۔ دوسرے جمہوری ممالک میں سٹرٹیجک موضوعات پر بالعموم حکومت اور اپوزیشن کا نقطہ ء نظر ایک ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہم ایک ’وکھری‘ قسم کی قوم ہیں۔ مسئلہ ٹیکٹیکل ہو یا سٹرٹیجک، ملک کے مستقبل کا سوال ہو یا قومی مفاد کی بات ہو، ہمارے ہاں سیاست دانوں کا باہم دست و گریبان ہونا ایک موسم سدا بہار موسم ہے۔ آپ اگر پورے انڈین میڈیا کو کھنگال لیں تو وہ اس دورے کے متعلق ’باجماعت‘ وہی فریضہ ادا کررہے ہیں جو ہماری سیاسی اپوزیشن یہاں کر رہی ہے۔ ہمارے اپوزیشن رہنماؤں میں وہ استقامت کہاں کہ سیاست اور تدبر کے فرق ملحوظ رکھ سکیں۔

میں نے کل کے کالم میں عرض کیا تھا کہ عمران خان کے اس ہائی پروفائل دورے کا کوئی زیادہ اثر امریکی انتظامیہ پر نہیں پڑے گا۔ امریکیوں کو آپ جتنا بُرا بھلا کہنا چاہیں کہہ سکتے ہیں لیکن وہ لوگ من حیث القوم ایک متفق علیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ہم نے پاکستان میں امریکی قوم کو ایک ’بے وفا قوم‘ کے طور پر مشہور کر رکھا ہے حالانکہ امریکہ صدہا برس سے نہ بے وفا ہے، نہ با وفا…… اسے صرف اپنے قومی مفادات سے وفا نبھانی ہے۔ اگر ہم اپنے ساتھ امریکی انٹرایکشن میں کسی ”نشیب و فراز“ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے ہاں اردو زبان کی گرامرکا یہ ’مرکب عطفی‘ بالکل بے معنی ہے۔ ان کے ہاں بین الاقوامی روابط میں نہ کوئی نشیب ہے، نہ فراز۔ اگر کچھ ہے تو دائمی ہمواری اور یکسانی ہے جو ہمیں کبھی نشیب نظر آتی ہے اور کبھی فراز…… لیکن امریکیوں کے ہاں اس کا کوئی تصور نہیں۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اس نئی راہ پر چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کل کے کالم میں لکھا تھا کہ یہ میری Gut Feelingہے کہ عمران۔ ٹرمپ ملاقات کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ افغانستان کے اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکلتا نظر آئے گا جو گزشتہ 18برس سے لاینحل چلا آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حل میں دونوں کی بھلائی ہے۔ اور دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ فوجی معاملات میں اس کشیدگی کو ختم کر دے جو ٹرمپ عہد کی پیدا کردہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ’امداد‘ کا نام نہ لے بلکہ ہو سکے تو اپنی عالمی سیاسی لغت سے اس لفظ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکال دے۔

پاکستان کی جغرافیائی لوکیشن اس کا ایک بڑا اثاثہ ہے۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے لئے ہمیں خواہ مخواہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ امر باعث مسرت ہے کہ عمران خان کی ڈکشنری میں اس لفظ کے معانی وہ نہیں جن پر اپوزیشن ان کو متہم کرتی رہتی ہے۔ سعودی عرب، امارات، قطر اور چین وغیرہ نے ہمیں جو ’امداد‘ دی ہے وہ اپنی ”غرض“ کے لئے دی ہے اور اب اگر امریکہ ہماری فوجی مدد (ملٹری ٹریننگ اور ایجوکیشن کی صورت میں) بحال کرے گا یا اس راہ پر گامزن ہو گا تو اس میں دونوں کی ”مجبوریاں“ موجود ہوں گی۔

رات کے 2بجے یہ سطور لکھتے ہوئے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھتا ہوں تو عمران خان واشنگٹن میں کیپٹل آن ایرینا نامی سٹیڈیم میں آ چکے ہیں۔ میں قلم چھوڑ دیتا ہوں کہ وزیراعظم کا خطاب سنوں۔ تقریباً 30،32ہزار کا مجمع ہے اور مجھے گزشتہ برس کے پاکستانی الیکشن میں PTI کے انتخابی جلسوں کی یاد آ رہی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے یہ جلسہ واشنگٹن میں نہیں،پاکستان میں کسی جگہ ہو رہا ہے…… وہی ترانے…… وہی ڈھول کی تھاپ…… وہی شور و غل اور کمپیئر کا وہی اندازِ گفتگو۔ پی ٹی آئی نے گویا بیرون ملک جلسوں کی ایک نئی طرح ڈال دی ہے جو ماضی کی روایات سے بالکل مختلف ہے بقولِ اقبال:

طرحِ نو افگن کہ ماجدت پسند افتادہ ایم

ایں چہ حیرت خانہ ء امروز و فردا ساختی

(اے پروردگار کوئی نئی طرح ڈال! کہ ہم جدت پسند ہیں۔ یہ کیا تماشا بنا رکھا ہے کہ دن کرتا ہے اور رات کرتا ہے اور پھر دن کرتا ہے اور پھر رات کرتا ہے اور یہ سائیکل بار بار دہرائے چلا جا رہا ہے)

تقریباً دن کے پونے تین بج جاتے ہیں۔ میں منتظر ہوں کہ عمران خان کو کب تقریر کی دعوت دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں PTI کے انتخابی جلسوں کی طرح صاحبِ صدر کو دعوتِ کلام نہیں دی جاتی بلکہ اس دورے پر آئے ہوئے نمبر2 سیاسی لیڈر کو بلایا جاتا ہے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سٹیج پر نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا ڈرامائی طرزِ تخاطب اسی انتخابی رنگ و بو میں لپٹا ہوا ہے۔ لیکن وہ دو باتیں بڑے پتے کی کہہ جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ باتیں پاکستانی حاضرینِ جلسہ کے لئے کم اور ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے لئے زیادہ قابل غور ہوں گی۔ ایک تو شاہ محمود نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ”ہم یہاں امریکہ سے کچھ مانگنے نہیں آئے…… ہم برابری کی سطح پر بات کرنے آئے ہیں“۔ وزیرخارجہ پہلے بھی یہی بات واشنگٹن کے صحافیوں کو بتا چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے Aid نہیں Trade چاہتا ہے۔ اِدھر پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں، برسراقتدار جماعت کو یہ طعنے دیتے نہیں تھکتیں کہ عمران خان، کاسہء گدائی لے کر جس طرح سعودی عرب، امارات، قطر اور چین وغیرہ گئے تھے اسی طرح واشنگٹن جا کر بھی جھولی پھیلا دیں گے کہ جس قدر زیادہ ممکن ہو، اس میں خیرات ڈال دو!

ہجوم کو بتایا جا رہا ہے کہ اس قسم کی بات عمران۔ ٹرمپ ملاقات میں نہیں ہو گی کہ عمران کی یہ فطرت نہیں۔ وہ اگر کسی ’امداد‘ کا تذکرہ بھی کرتے ہیں تو ایسی زبان، ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں کہ اس سے برابری کا اظہار ہوتا ہے،کسی مانگے تانگے کا نہیں۔

اور دوسری بات شاہ محمود نے یہ کہی کہ پاکستان، افغانستان کے پُرامن اور منصفانہ حل کا قائل ہے۔ میرا خیال ہے پاکستانی وزیرخارجہ نے 22تاریخ کو وزیراعظم پاکستان اور صدر امریکہ کی ملاقاتوں کے ایجنڈے کا لبِ لباب اس کیپٹل آن ایرینا میں پیشگی طشت ازبام کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں گیند اب امریکی کورٹ میں ڈال دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ ہو یا کوئی دوسرے امریکی اکابرین، ان کے لئے پاکستان کی نئی قیادت کے نئے اندازِ کار کا یہ نیا تجربہ قابلِ صد توجہ رہے گا!…… سوا تین بجے شب جب عمران خان نے خطاب کا آغاز کیا تو ان کا چہرہ ہمیشہ کی طرح ترو تازہ تھا…… اس کا تذکرہ بعد میں!

مزید : رائے /کالم