ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار، پاکستان عظیم ملک، اسکے عوام بہت مضبوط ہیں، دورے کی دعوت ملی تو ضرور جاؤں گا عمران خان مقبول ترین رہنما ہیں، کرپشن کیخلاف جنگ جیت جائیں گے: امریکی صدر

  ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار، پاکستان عظیم ملک، اسکے عوام بہت مضبوط ہیں، ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کرانے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پیر کی دوپہر وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جس کا صدر ٹرمپ نے مثبت جواب دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان کا بھارت کے ساتھ کشمیر کے بارے میں تنازعہ جاری ہے جس کا حل جنگ کی بجائے مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہئے۔ امریکہ دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے۔ اگر اس کے سربراہ کے طور پر آپ اس پر ثالثی کر کے مسئلے کو حل کرنے میں کردار ادا کریں تو خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اتفاق سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی درخواست کی تھی۔ اب اگر وزیراعظم عمران خان یہ چاہتے ہیں تو میں اس کیلئے تیار ہوں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ کشمیر کا لفظ بہت خوبصورت ہے اور یہ ملک بھی بہت خوبصورت ہے۔ اتنے خوبصورت خطے پر بم نہیں گرائے جانے چاہئیں۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالث یا مصالحت کار کا کردار ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ثالث بننے اور اس قدیم مسئلے کو حل کرنے کی خواہش پر انہیں برضغیر کے کروڑوں افراد کی دعائیں ملیں گی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ پاکستان اور بھارت کو قریب لا سکتا ہے، ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں، امریکی صدر کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے، دہشتگردی کے خلاف ہم نے مشترکہ جنگ لڑی اور نائن الیون کے بعد پاکستان اور امریکہ دہشتگردی کے خلاف پارٹنر رہے ہیں، پاکستان کے لئے امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،افغان مسئلے کے حل کے لئے انتہائی اہم دور چل رہا ہے ، افغانستان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہم افغان امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، پاکستان امریکہ سے جو بھی وعدہ کرے گا وہ نبھائے گا۔ وہ پیر کو وائٹ ہاؤس کے اوول ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور بعدازاں وہاں پر موجود میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ، نائن الیون کے بعد پاکستان اور امریکہ دہشتگردی کے خلاف پارٹنر رہے ہیں، پاکستان کے لئے امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، برصغیر میں امن کے لئے امریکی صدر سے کردار کی درخواست کریں گے، پاکستان نے افغان جنگ میں صف اول ملک کا کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا کردار افغان طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔افغان مسئلے کے حل کے لئے انتہائی اہم دور چل رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان مسئلہ کا فوجی حل ممکن نہیں ہم افغان امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔افغانستان میں امن و استحکام سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکہ سے جو بھی وعدہ کرے گا وہ نبھائے گا۔دونوں ملکوں کے درمیان مختلف امور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے لئے امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ دہشتگردی کے خلاف ہم دونوں نے مشترکہ جنگ لڑی ہے۔ دہشتگردی سے پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ عمران خان نے کہاکہ امریکہ طاقتور ملک ہے اس کا برصغیر میں امن کے لئے انتہائی اہم کردارہے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ پاکستان اور بھارت کو قریب لا سکتا ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ قبل ازیں پیر کووزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے پر جوش مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے۔پہلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہو ئی جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی ۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان سے فوجی انخلاء پر کام جاری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش بھی کی۔۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کراسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کے عوام بہت مضبوط ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں،عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قوم کی تعریف کی، کہا پاکستان کے لوگ بہت مضبوط ہیں، امریکا اچھے تعلقات چاہتا ہے، مسئلہ کشمیر پر دونوں لیڈرز بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں، عمران خان اور میں دونوں نئے لیڈرز ہیں، مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے، کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مسئلہ افغانستان کا حل فوجی نہیں مذاکرات سے ممکن ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو پاکستان ضرور جاؤں گا۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو پاکستان کا مقبول ترین وزیر اعظم ہیں وہ کرپشن کیخلاف جنگ جیت جائیں گے ۔وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہمراہ وفد کے اعزاز میں وائٹ ہاؤ س میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔۔وزیر اعظم پاکستان کے وائٹ ہاوس دورے سے متعلق وائٹ ہاؤس نے ٹویٹ بھی کیا جس میں عمران خان کے لیے استقبالیہ کلمات لکھے گئے۔ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان وائٹ ہاؤس سے پاکستان ہاوس روانہ ہوئے ، پاکستان ہاؤس میں مختصر قیام کے بعد وزیر اعظم پاکستان سفارتخانے گئے جہاں پاکستانی سفارتخانے میں مختلف امریکی چینلز کو انٹرویو دیا۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے لئے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا مرکزی دروازے پر آکر زبردست خیر مقدم کیا اور ان سے پر جوش مصافحہ بھی کیا، وزیر اعظم قومی لباس واسکٹ اور شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔وائٹ ہاوس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود تھے۔اس سے قبل تجارت، سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں حکومت سرمایہ کاروں کو کاروبار کے لیے تمام سہولتیں فراہم کرے گی،امریکہ میں مقیم پاکستانی برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے، عمرا ن خان نے کہا کہ چین کے بعد جاپان بھی پاکستان میں صنعتیں لگانا چاہتا ہے تمام وسطی ایشیائی ملک سی پیک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، خشکی میں گھرے وسطی ایشیا کے ملک بھی اپنی تجارت کے لئے گوادر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ چین زرعی شعبے میں پاکستان سے وسیع تر تعاون کررہا ہے وزیراعظم نے مزید کہا کہ 70 کی دہائی میں نیشنلائزیشن نے ہماری صنعتوں کا بیڑہ غرق کیا جب تک منافع نہیں ہوگا سرمایہ کاری نہیں آئے گی جب سرمایہ کار ملک سے بھاگ جائے تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ 60 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پیداوار انڈونیشیاء،ملائیشیاء اور سنگا پور کے برابر تھی مائنڈ سیٹ بدل کر ملک کو انڈسٹریلائزیشن کی طرف لے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کررہے ہیں،وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لئے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ون ونڈوآپریشن شروع کیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ انہیں ووٹ کاحق دینے سمیت حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے پربھی غورکررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین،سعودی عرب،قطر اور یو اے ای پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تاجر خیرات دینے نہیں منافع کماتے آئے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بے دریغ قرضہ لے کر ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیا 10 سال میں ملکی قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے ہو گیا انہوں نے کہا کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب ملک خوشحال ہوگا پاکستان جتنا خوشحال ہوگا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا یورپ میں اسلاموفوبیا سے مسلم گھرانے مشکلات کا شکار ہیں دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے جا رہے ہیں امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو تیس سال سے جانتا ہوں۔امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے محنت سے اپنی پہچان بنائی سب سے زیادہ پاکستانیوں کا ٹیلنٹ امریکہ میں دیکھنے کو ملا۔انہوں نے کہا کہ ناروے کے پاکستانیوں کی کارکردگی بھی غیر معمولی رہی شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر میں پاکستانی نژاد امریکیوں کا کردار اہم ہے پاکستانیوں کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔پاکستان کی جیو سٹرٹیجک پوزیشن پوری دنیا میں منفرد ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے پاکستان موسموں کی وجہ سے منفرد حیثیت کا حامل ملک ہے سیاحت میں پاکستان دنیا کے کسی ملک سے کم نہیں پاکستان میں بہت سے مذاہب کے مقدس مقامات موجود ہیں۔لاہور اور پشاور عظیم تاریخی ورثے کے حامل شہر ہیں پشاور شہر کا تہذیب و تمدن ڈھائی ہزار سال پرانا ہے رواں برس اس قدر سیاحت ہوئی کہ ہوٹل کم پڑ گئے۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان سے بزنس مین اور کاروباری کمپنیوں کے سربراہان اور آئی ٹی کے شعبہ کے ماہرین نے الگ الگ ملاقات کی جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کر نے سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان سے آئی ٹی کے شعبہ کے ماہرین پر مشتمل ”آل سٹار گروپ“ نے پاکستانی سفارتخانے میں م نے گروپ کو بتایاکہ آئی ٹی کی ترقی موجودہ حکومœساس سے مبشرچوہدری، ڈاکٹر باسط جاوید، ڈاکٹر عابد شیخ اور ڈاکٹر مبشر چوہدری شامل تھے۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان میں خوراک اور صحت کے شعبوں میں بہتری اور سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے بالخصوص دیہی علاقوں اور مخصوص شعبوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے اپنی تجاویز دیں۔۔ وزیر اعظم عمران خان سے ناصر جاوید،اشرف قاضی اور شوکت دھنانی نے پاکستانی سفارتخانے میں ملاقات کی۔ انہوں نے وزیراعظم کو پاکستان میں اکیڈیمیا، مینوفیکچرنگ اور سٹیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے اپنی دلچسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے وزیراعظم کے ویژن کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان سے امریکی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر اور سینیٹ جوڈیشری کے سربراہ سینیٹر لنڈسے گراہم نے ملاقات کی جس میں پاک امریکہ تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سینیٹر پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے زبردست حامی ہیں۔

ملاقات

واشنگٹن(آن لائن)وزیراعظم عمران خان اورصدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے متعلق وائٹ ہاؤس نے علامیہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ صدرٹرمپ جنوبی ایشیاکے امن،استحکام،خوشحالی کے لئے

مزید : صفحہ اول


loading...