سزا معطل ہونے سے نا اہل شخص انتخابات کیلئے اہل نہیں ہو سکتا: سپریم کورٹ

  سزا معطل ہونے سے نا اہل شخص انتخابات کیلئے اہل نہیں ہو سکتا: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے سزا معطلی اور انتخابی اہلیت سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سزا معطل ہونے سے نااہل شخص الیکشن کیلئے اہل نہیں ہو سکتا، سزا کالعدم ہونے تک نااہلی برقرار رہے گی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سزا معطلی اور انتخابی اہلیت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا، آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اپیل معطل ہونے سے سزا پر کوئی اثر نہیں پڑتا، سزا معطلی سے جرم ثابت ہونے کی وجوہات ختم نہیں ہوتیں، سزا معطل ہونے سے نااہل شخص الیکشن کیلئے اہل نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیاہے کہ سزا کالعدم ہونے تک نااہلی برقرار رہے گی اور انتخابی اہلیت سزا معطلی کے وقت عدالت کی تحریری اجازت سے ہو سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلہ گجرات کے بلدیاتی امیدوار کی درخواست پر سنایا۔

سپریم کورٹ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ عدلیہ اور میڈیسن کے شعبہ میں کسی دھوکے باز کی کوئی جگہ نہیں ہے،وکیل بننا پروفیشن ہے بزنس نہیں، وکیل کو جذبے کے ساتھ لوگوں کی خدمت کرنی چاہئے جس کا صلہ خدا دے گا،کیس لڑنے کیلئے باتوں کی نہیں محنت کی ضرورت ہے، وکلاء کو کیس کی مکمل ریسرچ کر نی چاہئے۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں وکلاء کی ٹریننگ کرائی گئی ہے جو بہت اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ برطانیہ میں ایک لاء گریجویٹ کو تربیت سے وکیل بنایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ لاء کالجز کی کثرت کی وجہ سے اب سینئر وکلاء کی کمی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں نوجوان وکلاء کی تربیت کی جا سکے۔انہوں نے کہاکہ میری پہلی تجویز ہے کہ وکلاء پیسے کے بارے میں مت سوچیں، جذبے کے ساتھ اپنے کام کریں پیسے اللہ آپ تک پہنچا دے گا۔چیف جسٹس نے کہ دوسری تجویز ہے کیس کی مکمل تیاری کریں، بچہ تیز بولتا ہو تو لوگ کہتے ہیں یہ وکیل بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ میرا تجربہ یہ ہے کہ اچھا اور بولنے سے زیادہ محنت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ بعض اوقات صرف ایک پوائنٹ ہی پورے کیس کا رخ بدل دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے ایک کیس کی تلاش تھی مجھے پوری دنیا کی تاریخ میں صرف ایک کیس مل سکا۔انہوں نے کہاکہ اپنے کیس سے متعلقہ گزشتہ تمام مقدمات کو دیکھیں، تیسری تجویز یہ ہے کہ وکیل کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ کبھی کسی جج کو یہ نہ کہنا پڑے کہ وکیل کہاں ہے، سینئر وکلاء کی عزت بہت ضروری ہے جبکہ عدالتوں میں جونیئر وکلاء ہمیشہ پچھلی سیٹوں پر بیٹھیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول