کان کنی کے شعبے میں لیبر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا‘سلیم اختر

کان کنی کے شعبے میں لیبر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا‘سلیم اختر

  



لاہور(لیڈی رپورٹر) آل پاکستان لیبر فیڈریشن پنجاب کے چیئرمین میاں محمد سلیم اختر نے کہا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کش اپنی جان داؤ پر لگا کر کام کرتے ہیں، کوئلے کی کانوں میں حادثات معمول بن گئے ہیں،ٹھیکیداری سسٹم کی وجہ سے کان کنی کے شعبے میں لیبر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،جس کے سبب اکثر اوقات گیس کے اخراج یا کان گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب مزدور شہید ہو جاتے ہیں لہٰذا میں چیف جسٹس آف پاکستان سے کوئلے کی کانوں میں ہونے والے حادثات پرسوموٹو نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہوں اوروفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ کوئلے کی کانوں میں ہلاک ہونے والے مزدور ں کے لواحقین کوپایک کروڑروپے فی کس کے حساب سے دیئے جائیں،اس کے علاوہ کان کنی کے شعبے سے ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے،کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت وسلامتی کے قانون پر عملدرآمدکروایا جائے،1923ء میں انگریز سرکار کے بنائے گئے مائینز ایکٹ میں ترامیم کی جائیں،آئی ایل او کے کنونشن -C 176 کا اطلاق کیا جائے اورکان کنی شعبے کے مزدوروں کی ای او بی آئی میں ر جسٹریشن کی جائے۔

 گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان لیبر فیڈریشن پنجاب کے چیئرمین میاں محمد سلیم اخترنے کہا کہ میلوں لمبی کان میں گھس کر کوئلہ نکالنے والے کان کن کوئلے کے باریک ذرات،منہ اور نتھنوں میں جانے کی وجہ سے پھیپھڑے،گردے اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں،لہٰذا کان کنی کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں کو صحت کی تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں۔

مزید : کامرس


loading...