وزیراعظم ایس ایس جی سی کو سفارشات قبول کرنے کی ہدایات دیں‘نکاٹی

وزیراعظم ایس ایس جی سی کو سفارشات قبول کرنے کی ہدایات دیں‘نکاٹی

  



کراچی(اکنامک رپورٹر)نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسڑی(نکاٹی) کے سرپرست اعلیٰ کیپٹن اے معیزخان اورصدر سید طارق رشید نے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں واقع برآمدی صنعتوں سمیت مینوفیکچررزکو سبسڈی نرخ پر گیس کی فراہمی سے انکار اور ایسوسی ایشن کی سفارشات کونہ ماننے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ مینوفیکچررز اور برآمدی صنعتوں کو زائد پیداواری لاگت کے باعث تباہی سے بچانے کے لیے ایس ایس جی سی کو اوگرا کے طے کردہ سبسڈی نرخ پرگیس کی فراہمی اور نکاٹی کی سفارشات کو قبول کرنے کی ہدایات جاری کریں۔ کیپٹن اے معیزخان اورصدر سید طارق رشیدنے ایک بیان میں کہاکہ ایس آراو(1)2019کے تحت جون2019کو اوگرا نے گیس کے نرخ ازسرنو طے کئے تھے جس کے رجسٹرڈ مینوفیکچررز اور5برآمدی شعبوں ٹیکسٹائل،کارپیٹس،لیدر،اسپورٹس و سرجیکل آلات کی صنعتوں کے لیے مطابق یکم جولائی 2019سے 786روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس ٹیرف مقرر کیا گیاتھا۔اس ضمن میں ایس ایس جی سی نے ایک لیٹر بھی جاری کیا تھا جس میں اوگرا کے طے کردہ سبسڈی نرخ پر گیس کے حصول کے لیے متعلقہ ایسوسی ایشنز کی سفارشات کو لازمی قرار دیا گیا تھامگر جب نکاٹی کی جانب سے صنعتوں کو سبسڈی نرخ پر گیس کی فراہمی کے لیے خطوط ارسال کیے گئے تو ایس ایس جی سی نے اسے مسترد کرتے ہوئے نارتھ کراچی کی صنعتوں کو یہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا اور اب ایس ایس جی سی کی جانب سے یہ تقاضا کیا جارہاہے کہ ٹریڈ ایسوسی ایشن کی سفارشارت کے بغیر کسی انڈسٹری کو گیس ٹیرف میں سبسڈی کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ٹاؤن ایسوسی ایشن کی ممبرز صنعتوں کے لیے ٹریڈایسوسی ایشن کی سفارشات کیسے لازمی قرار دی جاسکتی ہیں۔نکاٹی کے رہنماؤں نے ایس ایس جی سی کی جانب سے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسڑی کی سفارشات کومسترد کرنے اورمینوفیکچررز سمیت برآمدی صنعتوں کو سبسڈی ٹیرف پر گیس کے حصول کے حق سے محروم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگرمینوفیکچررز اور صنعتوں کو 786روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس ٹیرف کے بجائے 1021 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ٹیرف چارج کیا گیا تو پیداواری لاگت میں یکدم نمایاں اضافہ ہوجائے گا اور اس کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ صنعتیں پہلے ہی مہنگی بجلی اور زائد پیداواری لاگت کی وجہ سے آخری سانسیں لے رہی ہیں اور اب گیس بھی مہنگی ہونے سے صنعتوں کو تالے لگانے کے سواء کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا جس سے ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں مزدور بے روزگار ہوجائیں گے۔

مزید : کامرس


loading...