اپوزیشن کے اجلاس میں 62سینیٹرز کی شرکت، حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی

اپوزیشن کے اجلاس میں 62سینیٹرز کی شرکت، حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس پیر کے روز راجہ ظفرالحق کی صدارت میں ہوا جس میں چیرمین صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار برائے چیرمین سینیٹ حاصل بزنجو سمیت 62 سینیٹرز نے شرکت کی۔شرکا نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر آج بلائے گئے سینیٹ اجلاس کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا اور یکم اگست کو چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد پر بھی بات چیت کی گئی۔میاں شہباز شریف نے اپوزیشن اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے،ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کیلئے میثالی اتحاد قائم کرنا ہوگا،ماضی میں جائے بغیر جمہوریت کے تحفظ کیلئے سب ایک متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے،میثاق جمہوریت میں مزید جماعتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ پیر کو سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے اجلا س کی صدارت سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مشترکہ طورپر کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف)، پختون خوا میپ اور اے این پی کے سینیٹر کے علاوہ چھ اراکین اسمبلی بھی شریک ہوئے۔سینٹ کے بینکویٹ ہال میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر راجہ ظفر ا لحق، رانا مقبول، پرویز ر شید،نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو، سینیٹر سلام الدین شیخ سینیٹر مشاہد اللہ خان، فاٹا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر شمیم آفریدی،پیپلز پارٹی کاشیو بھائی سینیٹر رضا ربانی،سینیٹر شیری رحمن، بہر مند تنگی، سلیم مانڈوی والا، امام الدین شوقین،مصطفی نواز کھوکھر،سکندر مہندو، روبینہ خالد، انور لال دین، سسی پلیجو، عائشہ رضا فاروق، شاہین خالد بٹ غوث نیازی ستارہ ایاز، نزہت صادق، پختون خوا میپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ،جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری،مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر آصف کرمانی، سینیٹر سلیم ضیاء، صلاح الدین ترمذی،سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر صابر شاہ، سر دار یعقوب ناصرسینیٹر اشوک کمار،سینیٹر جاوید عباسی، دلاور خان،سینیٹر گیان چند،پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو سینیٹر میر کبیر یوسف بادینی، سینیٹر رحمن ملک سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف سینیٹر آغا شاہ زیب درانی سینیٹر محمد علی جاموٹ میر حاصل بزنجو، کلثوم پروین،پروفیسر ساجد میر، رانا محمود الحسن، مشاہد حسین سید، سینیٹر عابدہ عظیم، سینیٹر نجمہ حمید سینیٹر اسد جونیجو، مصدق ملک،مولوی فیاض محمود کے علاوہ اراکین قومی اسمبلی میاں شہباز شریف،راجہ پرویز اشرف،سابق سپیکر سر دار ایاز صادق،رانا تنویر حسین،شزا فاطمہ،مریم اور نگزیب اور احسن اقبال شریک ہوئے۔اجلاس میں (آج)منگل کو ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس پر تبادلہ خیال کیاگیا، ذرائع کے مطابق یکم اگست کو چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے بلائے گئے ریگولر اجلاس بارے حکمت عملی طے کی جانے کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے شرکاء کے اعزاز میں طہرانہ دیا ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے،ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کیلئے میثالی اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں جائے بغیر جمہوریت کے تحفظ کیلئے سب ایک متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا ظہرانے میں شرکت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شہباز شریف نے کہاکہ قائد اعظم ایک عظیم لیڈر تھے جن کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔ انہوں نے کہاکہ اکہتر سال بعد بھی قوم اپنی منزل کی تلاش میں ہے، انہوں نے کہاکہ چین سمیت ایسے ممالک جنہوں نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی آج وہ ممالک ہم سے کوسوں میل آگے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معافی کا درخواستگار ہوں لیکن اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم کچھ بہتری لائے تھے،میثاق جمہوریت ایک شاندار چارٹر تھا،میثاق جمہوریت پر اتنا عمل ہوا یہ مورخ لکھے گا،ابھی تاخیر نہیں ہوئی معاملات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں مزید جماعتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت سنگین مسئلہ عام آدمی کازندہ رہنا ہے،عام آدمی پر اس وقت زندگی تنگ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ روٹی پندرہ روپے،نان بیس روپے تک پہنچ چکا ہے،فیکٹریاں بند مزدور بے روزگار اور ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے،دوائیاں ناپید ہیں قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں مریض چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری معاشی ابتری دنیا کے سامنے ہے۔ اہوں نے کہاکہ موجودہ وزیراعظم آج بھی ورلڈکپ کے زعم میں غصے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کا ایک ہی مقصد ہے کہ میں نے جیلوں کو سیاسی قیدیوں سے بھر دینا ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں 62 اراکین نے شرکت کی،اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سینٹ کی کل تعداد 66 ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے 30 میں سے 27اراکین شریک ہوئے، پی پی پی کے تمام 21 اراکین شریک ہوئے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ نیشنل پارٹی کے پانچوں اراکین شریک ہوئے، جے یو آئی ف کے 3اراکین شریک ہوئے، ان کے کل 4 اراکین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی کے ایم اے پی کے 3 اراکین ہیں، سب شریک ہوئے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ اے این پی کے ایک اور ایک آزاد رکن اجلاس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ غیر حاضر چار اراکین سینٹ میں چوہدری تنویر، عبدالقیوم ملک، مولانا عطا الرحمان اور کامران مائیکل شامل ہیں، عبدالقیوم ملک اور چوہدری تنویر بیرون ملک ہیں،کامران مائیکل زیر حراست ہیں جس کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے

اپوزیشن اجلاس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی)اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی ریکوزیشن پر سینیٹ کا ہنگامہ خیز اجلاس آج بروزمنگل کو ہوگا، اجلاس میں چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کی قرارداد پر بحث ہوگی۔سینیٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا جس میں احتجاج کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی قرار داد پر یکم اگست کو فیصلہ ہو گا۔چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد کے لیے بیلٹ پیپر زپر ووٹنگ ہو گی۔ ذرائع کے مطابق ریکوزیشن اجلاس کے ایجنڈے میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ شامل نہیں ہو گی،اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک پر صرف بحث ہو گی۔دوسری جانب اپوزیشن کی ریکوزیشن پر سینیٹ اجلاس بلانے سے متعلق سینیٹ میں اپوزیشن کا اہم مشاورتی اجلاس آج بروزمنگل کو طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت ہوگا جس میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک سے متعلق مشاورت ہوگی،ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ارکان سینیٹ کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔

سینٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول


loading...