عہدوں کی بندر بانٹ

عہدوں کی بندر بانٹ
عہدوں کی بندر بانٹ

  



ایک دور تھا جب پاکستان میں کھیل کے میدان بہت تیزی سے آباد ہو رہے تھے۔قومی کھیل ہاکی ہر ایک شخص کا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا اور بچے سے لیکر جوان،بوڑھے،خواتین ہر کوئی اس کھیل کے دیوانے تھے۔کلیم اللہ،حسن سردار،اختر رسول،شہناز شیخ،حنیف خان،منظور جونیئر،سمیع اللہ جیسے مایہ ناز کھلاڑی قومی ٹیم کا حصہ تھے۔ان لوگوں کی موجودگی میں قوم کا سر فخر سے بلند رہتا تھا۔ہر کھلاڑی ملک کی عزت و عظمت کی خاطر مر مٹنے کو تیار رہتا تھااس دوران ملک کو ہاکی کی بدولت کئی اعزاز عطا ء ہوئے،ورلڈ چیمپئن،اولمپکس جیسے ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو شش و پنج میں مبتلا رکھا۔یہی نہیں ان کے بعد آنے والے کھلاڑیوں شہباز سینئر،کامران اشرف، آصف باجوہ،نوید عالم،خواجہ جنید،سہیل عباس،ریحان بٹ،دانش کلیم نے ایک عرصہ تک قومی ہاکی ٹیم کے اعزاز کا دفاع کرتے نظر آئے۔لیکن آج ہمارا قومی کھیل ہاکی زوال پذیر ہے اور عالمی رینکنگ میں اس وقت 17 ویں پوزیشن پر برا جمان ہیں۔کبھی کسی وقت ہماری ایک نمبر پر رہنے والی ہاکی ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کا گراف اتنا گر چکا ہے کہ اپنے قومی کھیل سے بھی ہم انصاف کرتے نظر نہیں آتے۔لیکن آج ہمارا قومی کھیل ہاکی زوال پذیر ہے اور عالمی رینکنگ میں 17 ویں پوزیشن پر بر ا جمان ہے۔کبھی کسی وقت ہماری ایک نمبر پر رہنے والی ہاکی ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کے کھیل کا گراف اتنا گر چکا ہے کہ اپنے قومی کھیل سے بھی انصاف کرتے نظر نہیں آتے۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہاکی کے کھلاڑی اس محنت اور دل جان سے ہاکی کھیلتے نظر نہیں آتے۔لیکن شاید یہ سب ایک جھوٹ ہے،فریب ہے،دھوکہ ہے۔کھلاڑی تو آج بھی کھیلنے کو تیار ہیں اگر ان کو کھلانے والے ملیں،مگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہاں بھی پرچی سسٹم لاگو ہو چکا ہے۔جس کے باعث بہت سے عمدہ کھلاڑی قومی ٹیم سے باہر بیٹھ کر صرف محکموں کی جانب سے قومی سطح پر کھیلتے نظر آتے ہیں۔مجھے ہاکی سے بے حد لگاؤ ہے بلکہ اگر یوں کہوں تو غلط نا ہو گا کہ کھیل میرے خون میں شامل ہے لیکن میں بھی ہاکی کے موجودہ پلیئرز کے ناموں سے واقف نہیں کیونکہ ہاکی کھیلنے اور دیکھنے کا اب ہمارے پاس وقت ہے نا قومی ٹیم اس جگہ پر ہے جہاں اسے ہونا چاہیے۔

اب بات کر لیتے ہیں ہاکی کے زوال کی تو اس کی سب سے بڑی وجہ ہاکی فیڈریشن میں عہدوں کی بندر بانٹ ہے جس کے باعث ہمارا قومی کھیل اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اس کی واپسی کے دور بہت مشکل ہیں۔کیونکہ پرانے وقتوں میں کھلاڑی ملک کے لیے کھیلا کرتے تھے اب کھلاڑی پیسوں اور عہدوں کے لیے کھیلتے ہیں۔ٹیم میں سب سے زیادہ کھلاڑیوں کا تعلق پنجاب سے ہے لیکن عہدیدار سندھ میں جنم لے رہے ہیں۔پنجاب والے سندھ والوں کے درپے ہیں تو سندھ والے پنجاب سے نالاں نظر آتے ہیں۔ہمارے تمام حیات کھلاڑی سمیع اللہ،شہناز شیخ،اختر رسول، آصف باجوہ،دانش کلیم، شہباز سینئر،حنیف خان، منظور جونیئر،اصلاح الدین،وسیم فیروز،خالد حمید،خواجہ جنید،کامران اشرف کے ساتھ حسنین حیدر،ڈاکٹر جنید علی شاہ ان سب میں عہدوں کی بندر بانٹ کا ایسا مقابلہ جاری ہے جو آج تک حل نہیں ہو سکا۔جس کے باعث ہماری ہاکی آج اس مقام پر ہے۔گزشتہ چار سالوں میں فیڈریشن کواکسٹھ کروڑ کی رقم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ سب ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ہاکی کھلاڑی جوں کے توں اس کھیل سے دور بیٹھے ہیں اور ان کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے جبکہ کھلاڑیوں کے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔ہماری عوام آج بھی اپنے ہیروز کو یاد نہیں کرتی کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے ہیروز آج صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اس کھیل کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں مگن ہیں۔اسی لیے آج قوم اپنی نئی پود کو اس کھیل سے دور کررہی ہے کیونکہ اس میں نا تو انہیں اپنے بچوں کا مستقبل نظر آتا ہے اور نا کھیل کھلانے والے کوچز،مینجرز،صدر،سیکرٹری و دیگر سٹاف کا جو اس کھیل کے ساتھ مسلسل ناانصافی کر رہے ہیں۔جبکہ حال یہ ہیں کہ ملک کیلیے ایک عرصہ تک اپنی خدمت سر انجام دینے والے کھلاڑی،اس ملک کی وجہ سے عزت پانے والے کھلاڑی آجکل دیار غیر میں کوچنگ کے فرائض بخوبی سر انجام دے رہتے ہیں۔اس کی ایک وجہ شاید اپنوں کو ترجیح نا دینے کی اور عہدوں کی بندر بانٹ ہے۔

مزید : رائے /کالم