ذیابیطیس (شوگر) کیساتھ بھر پور زندگی یقیناًممکن، مگر کیسے؟

ذیابیطیس (شوگر) کیساتھ بھر پور زندگی یقیناًممکن، مگر کیسے؟
ذیابیطیس (شوگر) کیساتھ بھر پور زندگی یقیناًممکن، مگر کیسے؟

  



ذیابیطیس کیساتھ زندگی ایک صحتمند لائف اسٹائل کی متقاضی!

تعارف:

ذیابیطیس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں بنیادی معلومات کی عدم فراہمی مریض کی زندگی دو بھر کر دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر فہمینہ اشفاق کہتی ہیں کہ مرض کی درست نشاندہی، مناسب طریقہ علاج، اور صحتمندانہ لائف اسٹائل بھر پور زندگی کی ضامن ہیں۔

ڈاکٹر فہمینہ اشفاق رائل کالج فزیشنزلندن کی ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ عذرا ناہید میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ہیں اور ساتھ ساتھ نصیر ہسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتی ہیں۔

انٹرویو

سوال: ذیابیطس کا مرض ہے کیا، یہ کیسے او رکیوں لاحق ہوتا ہے؟

جواب:جسم میں شوگر کی مقدار کا تناسب ایک خاص حد سے بڑھ جانے کو ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسانی جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کرکے خون میں شامل نہیں کر پاتا۔ یعنی جب ہم غذا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربورہائیڈریٹس یعنی نشاستے کو گلوکوز میں بدلتا ہے، اس کے بعد لبلے میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لئے اس گلوکوز کو جذب کریں۔ جب ہماراجسم اپنے اندر موجود گلوکوز کو خون میں شامل نہیں کر پاتا تو ذیابیطیس کا مرض جنم لیتا ہے۔

سوال: پاکستان اور دنیا بھر میں ذیابیطس کے مرض کی کیا صورتحال ہے؟

جواب: یہ بیماری پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بیماری ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیکل جرنلز کے مطابق دنیا بھر میں چالیس کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں، پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ہر سال اس مرض کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد یا ہر پانچ میں سے ایک ذیابیطس کے مرض کا شکار ہے۔ مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لئے اس مرض کے بارے میں آگاہی اور درست علاج از حد ضروری ہے۔

سوال: شوگر لیول کس مد سے بڑھ جائے تو ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے؟

مستقل بنیاد پر ناشتے سے پہلے126ملی گرام سے زیادہ شوگر لیول ذیابیطس کی نشانی ہے اور یہ جسم کے لیے خطرناک ہے۔ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو کئی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔

سوال:ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب:بنیادی طو رپر ذیابیطس کی دو اقسام ہیں؟ایک کو ٹائپ ون کہا جاتا ہے جس میں لبلبے سے انسولین بننے کا سلسلہ روک جاتا ہے۔ اس کی مکمل وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں اور دوسری قسم کو ٹائپ ٹو کہا جاتا ہے جو کہ sedentary لائف سٹائل کے ساتھ منسلک ہے جیسا کہ موٹاپا، ورزش کی کمی وغیرہ۔ اس ٹائپ میں شروع میں انسولین موجود ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ لبلبے کی انسولین بنانے کی صلاحیت مکمل ختم ہو جاتی ہے۔

سوال:ذیابیطس کو کنٹرول نہ کرنے کے کیا نقصانات ہیں؟

جواب:اگر ذیابیطس کو بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ جسم کے ہر عضو پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ خاص طور پر دل کے دورے،، فالج اور گردوں کے فیل ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔نظر کی کمزوری اور اعصابی کمزوری بھی شوگر کے کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے واقع ہو سکتی ہے۔

سوال:ایک ٹرم ہے prediabetes اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب:اس کا مطلب ہے کہ مریض کے جسم میں شوگر کی مقدار زیادہ ہے مگر وہ ذیابیطس کے لیول تک نہیں۔ اس کا علاج دوائیوں کی بجائے مکمل پرہیز سے کیا جاتا ہے۔

سوال:ذیابیطس کی کیا علامات ہیں؟

جواب:اس کی بہت سی علامات ہو سکتی ہیں جیسا کہ بھوک اور پیاس کا زیادہ لگنا، جسمانی کمزوری، وزن میں کمی، آنکھوں میں دھندلہ پن، ہاتھوں پیروں میں جلن یا سوئی چھبنے جیسے کیفیت کا ہونا اور زخموں کا نہ بھرنا اہم علامات ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص کو یقینی بنا کر علاج شروع کیا جا سکے۔

سوال:ذیابیطس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

جواب:HB ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس سے ہم ذیابیطس کی آسانی سے تشخیص کر سکتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں اگر شوگر لیول پانچ اعشاریہ سات سے چھ اعشاریہ چار تک ہو تو اسے پری ڈائیابیٹک جب کہ چھ اعشاریہ پانچ سے زیادہ مقدار ذیابیطس کو کنفرم کردیتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ چونکہ ایسی شدت میں دل کا دورہ پڑنے کا تناسب بڑھ جاتا ہے لہذا دیگر ٹیسٹوں کے علاوہ ای سی جی اور ایکو جیسے ٹیسٹ بھی کروانے چاہیں تاکہ دل کے امراض سے بچا جاسکے۔

سوال:ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے؟

جواب:بہت سی ریسیرچز نے واضح کیا ہے کہ لائف سٹائل میں صحت مند انہ تبدیلی، جیسا کہ مناسب وزن، صحت مند غذا اور باقاعدگی سے ورزش ذیابیطس سے بچاؤ اور کنٹرول دونوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے بلڈ پریشر اور ہائی کو لیسٹرول جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مختصر یہ کہ پراسیس کیے گئے کھانوں سے پرہیز، بیکری کی اشیا پر پابندی،میٹھے سے دوری، خالص آٹے کا استعمال، مخصوص پھل، سبزیاں، دالیں او رمیوے آپ کی بہتر زندگی کی ضامن ہیں۔ اس مرض کا شکار افراد کو بھوک مٹ جانے کی صورت میں فورا ہاتھ روک لینا چاہیے اور وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کھانا چاہیے۔ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز، صبح شام چہل قدمی اور ورزش یقینی طور پرآپ کی صحت میں واضح فرق لاسکتے ہیں۔

سوال:ذیابیطس کا علاج کیسے ممکن ہے؟

جواب:ذیابیطس کا علاج اس کی ٹائپ پر منحصر ہے۔ ٹائپ ون کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔ جبکہ ٹائپ ٹو میں شروع میں گولیوں سے علاج شروع کیا جاتا ہے۔ اور جب گولیاں کارآمد نہ رہیں تو انسولین یا انسولین بنانے والے ٹیکوں سے کام لیا جاتا ہے۔ مگر اس علاج میں مکمل پرہیز بے حد ضروری ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...