حکومت دینی مدارس اور علماء کے خلاف پروپیگنڈہ بنف کرے، ملی یکجہتی کونسل 

حکومت دینی مدارس اور علماء کے خلاف پروپیگنڈہ بنف کرے، ملی یکجہتی کونسل 

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت اداہ نور حق میں صوبائی کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی،جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی  اور دیگر عہدیداران نے شر کت کی۔اجلاس کے اختتام پر مشترکہ طور پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دینی مدارس اور علماء کرام کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔ حکومت ملک میں قادیانیوں کی سر پرستی کرنے، عقیدہ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کرنے سے باز رہے۔ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی کلاسیں شروع کرنے، شادی کے لیے 18سال کی عمر کی پابندی اور قبول اسلام کے لیے بھی 18سال کی عمر کی قید لگانے کی کوشش نہ کرے۔ چرم قربانی جمع کرنے والے اداروں اور مدارس کو فوری طور پر این او سی جاری کرے۔ اعلامیے میں علماء کرام سے اپیل کی گئی کہ نماز جمعہ کے اجتماعات اور خطبات میں عقیدہ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین میں حکومت کی جانب سے کوششوں کے حوالے سے عوام الناس کو آگاہ  اور حکومتی عزائم کو بے نقاب کیا جائے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ امّت مسلمہ متّفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر سمجھتی ہے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ علماء صبر سے کام لیتے ہوئے پُرامن طریقے سے ان کے پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہیں اور عامۃ المسلمین کو قادیانیوں کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ سے قادیانی نمائندے کی ملاقات پر پوری امّت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے اور امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی سر پرستی کے عندیئے پر پوری امت افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی قادیانیت کی سازشیں بڑھتی جا رہی ہیں اسلامیان پاکستان کسی بھی قیمت پر منکرین ختم نبوت کو کسی قسم کی رعایت دینے پر تیار نہیں۔ حکومت وقت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور قادیانیوں کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے باز رہے نیز وزیر اعظم عمران خان امریکا کے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کی قادیانی نواز پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 20 کروڑ مسلمانان پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا کرے اور امریکہ کو قادیانیت نوازی سے باز رکھیں۔مدارس دینیہ ایک قومی اور دینی اثاثہ ہیں جومسلمانوں کو قرآن و سنّت کے مطابق تعلیم دے رہے ہیں۔ علما، مشائخ اور مدارس سب مسلمانوں کے لیے خصوصاً انسانوں کے لیے عموماً محبت اور اطاعت اللہ و رسول ﷺْ کی تعلیم و تربیت دیتے ہیں۔منبر و محراب سے ہمیشہ پاکستان کی یکجہتی و سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔ لیکن امریکہ اور مغرب کی ایما ء پر ہر آنے والی حکومت مدارس کے خلاف بے بنیاد زہریلا پراپیگنڈا کرتی ہے اور بلا وجہ علماء مشائخ پر دہشت گردی کا غلط الزام لگایا جاتا ہے۔ مدارس کی تنظیمات نے ہمیشہ کھلے دل سے مذاکرات کیے ہیں اور دینی علوم کے ساتھ جدید تعلیم کی حمایت کی ہے۔ لہٰذا ملی یکجہتی کونسل تنظیمات مدارس دینیہ کے موقف کی پُر زور حمایت کرتی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...