’’پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی کیونکہ۔۔‘‘اٹارنی جنرل آف پاکستان کے سپریم کورٹ میں دلائل

’’پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی کیونکہ۔۔‘‘اٹارنی ...
’’پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی کیونکہ۔۔‘‘اٹارنی جنرل آف پاکستان کے سپریم کورٹ میں دلائل

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کی سماعت جاری ہے،اٹارنی جنرل منصور خان نے کہا کہ پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی،ایف آئی اے نے اپنے طورپرفرانزک کیا،پاکستان میں آئی ایس او کی تصدیق شدہ لیبارٹری نہیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بنچ جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کی سماعت کر رہا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ گزشتہ سماعت پر آپ ہیگ میں تھے،تجویزدیں عدالت کو اس موقع پر کیا کرناچاہئے، اٹارنی جنرل منصورخان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواستوں میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے،ایک استدعا جج ارشد ملک کیخلاف کارروائی کی بھی ہے ،تمام حقائق عدالت کے سامنے آچکے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج ارشد ملک بیان حلفی بھی جمع کرا چکے ہیں ،جج ارشد ملک نے ایف آئی اے کوشکایت بھی جمع کرا رکھی ہے ،الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت شکایت درج کرائی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم طارق محمود نے جج کی ویڈیو کے عوض لینڈ کروزر حاصل کی،ملزم کا دعویٰ ہے جو چیک اس کودیا گیا وہ کیشن ہی نہیں ہوا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو میاں سلیم رضا کو فروخت کی گئی ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ میاں سلیم رضا کون ہے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ میاں سلیم رضاایک سیاسی جماعت کاکارکن ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں،ایف آئی اے ملزمان تک پہنچ رہی ہے،یوایس بی میں موجودویڈیوحاصل کر لی گئی،میاں طارق سے برآمدویڈیوبلیک میلنگ کیلئے استعمال ہوئی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ویڈیو سے جج کے موقف کاایک حصہ درست ثابت ہوگیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک ویڈیو کی تصدیق کرائی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی،ایف آئی اے نے اپنے طورپرفرانزک کیا،پاکستان میں آئی ایس او کی تصدیق شدہ لیبارٹری نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ویڈیو 2000 سے 2003 کے درمیان بنائی گئی،اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ اصل ویڈیوکیسٹ میں تھی،ریکوری یوایس بی سے ہوئی،میاں طارق کی نشاندہی پربیڈ کی ٹیبل سے ویڈیوبرآمدہوئی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جج نے ایسی حرکت کی تھی تب ہی وہ بلیک میل ہوا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بطورجج ارشد ملک کو ایسانہیں کرناچاہئے تھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک ویڈیووہ بھی ہے جوپریس کانفرنس میں دکھائی گئی،کیاایک ویڈیو سے جج بلیک میل ہوا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج ارشدملک نے ویڈیو کے کچھ حصوں کی تردید کی ہے،

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...