فکرنہ کریں جج کے کنڈیکٹ پرخودفیصلہ کریں گے،چیف جسٹس پاکستان کے جج ویڈیو سکینڈل میں ریمارکس

فکرنہ کریں جج کے کنڈیکٹ پرخودفیصلہ کریں گے،چیف جسٹس پاکستان کے جج ویڈیو ...
فکرنہ کریں جج کے کنڈیکٹ پرخودفیصلہ کریں گے،چیف جسٹس پاکستان کے جج ویڈیو سکینڈل میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ جج کے کنڈیکٹ کاخودجائزہ لیں گے،کیاجج کاسزادینے کے بعد مجرم کے گھرجانادرست ہے؟مجرم کے رشتہ داروں، دوستوں سے گھراورحرم شریف میں ملنا درست ہے؟فکرنہ کریں جج کے کنڈیکٹ پرخودفیصلہ کریں گے،تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کی سماعت کی،دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور نے کہا کہ آج حکومت کی نمائندگی نہیں،عدالت کی معاونت کررہاہوں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ نے ایک آپشن ایف آئی اے اوردوسرا نیب قانون کادیا،تیسراآپشن تعزیرات پاکستان اورچوتھاپیمراقانون کادیا،پانچواں آپشن حکومتی کمیشن اورچھٹاجوڈیشل کمیشن کاہے،آخری آپشن یہ ہے کہ عدالت خودفیصلہ کرے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ تمام درخواستیں خارج کردیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواستوں پرکارروائی سے ہائیکورٹ میں اپیل متاثرہوگی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شواہدکاجائزہ لیکرہائیکورٹ ہی نوازشریف کوریلیف دے سکتی ہے،جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتاہے،فیصلہ نہیں،ہائیکورٹ شواہدکاجائزہ لےکرخودبھی فیصلہ کرسکتی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیاسپریم کورٹ کی مداخلت کافائدہ ہوگایاصرف خبریں بنیں گی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں ابھی تک کسی فریق نے درخواست نہیں دی،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ضرورہونی چاہئیں،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جج کے کنڈیکٹ کاخودجائزہ لیں گے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاجج کاسزادینے کے بعد مجرم کے گھرجانادرست ہے؟مجرم کے رشتہ داروں،دوستوں سے گھراورحرم شریف میں ملنادرست ہے؟فکرنہ کریں جج کے کنڈیکٹ پرخودفیصلہ کریں گے،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تمام کارروائی متعلقہ فورم پرہونی چاہئے،کسی فریق کواعتراض ہوتوہائیکورٹ سے رجوع کرسکتاہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اندھیرے میں چھلانگ نہیں لگائیں گے،کسی کے کہنے پربھی چھلانگ نہیں لگائیں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے کسی کے مطالبے پرنہیں چلنا،ویڈیوسکینڈل کی درخواستیں آئیں،اس لئے سننالازمی تھا،کوشش کریں گے دانشمندی سے فیصلہ کریں،یہ بھی دیکھناہوگاہمارابوجھ کسی کے پلڑے میں نہ پڑے،انکوائری رپورٹ آجائے پھردیکھیں گے کیاکرناہے، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ اٹارنی جنرل !ایف آئی اے کتنے عرصے میں انکوائری مکمل کرلے گی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکوائری میں کم ازکم 2 سے 3 ہفتے لگیں گے،عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ 3 ہفتے میں جمع کرائے،عدالت نے جج مبینہ ویڈیوکیس کی سماعت 3 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...